21 فروری 2019 2019-02-21

دوستو، بھارت نے سرجیکل اسٹرائیک کے بعد اب سبزیکل اسٹرائیک کردیا ہے۔۔ پہلے دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کئے ہیں،مگر آج تک اس دعوے کا کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے، اب انہوں نے پاکستان کے لئے ٹماٹر وں کی سپلائی بندکرکے ’’ سبزیکل اسٹرائیک‘‘ کی بنیادیں رکھ دی ہیں۔۔دنیا بھر میں ٹماٹر کی کاشت کا باون اعشاریہ چھ فی صد عوامی جمہوریہ چین میں، جب کہ اٹھارہ اعشاریہ سات فی صدبھارت میں پیدا ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ایک آمر مطلق کے دورحکومت میں ٹماٹر ہمسایہ ملک سے منگوانے کا سلسلہ بڑے پیمانے پر شروع ہوا جوآج تک جاری ہے۔۔

ٓٓٓٓٓٓٓآگے بڑھنے سے قبل یہ حیرت انگیز انکشاف بھی کرتے چلیں کہ بیسویں صدی کے ابتدائی عشرے میں، بالتحقیق مْرَتَّب کی جانے والی لغت، فرہنگ آصفیہ اور اسی کی طرح اہم سمجھی جانے والی نوراللغات میں لفظ ’’ٹماٹر‘‘ کا سرے سے وجود نہیں۔ گویا یہ لفظ بہت تاخیر سے ہماری پیاری زبان میں شامل ہوا۔ اب ٹماٹر کے متعلق محاورے کا استعمال بھی زیادہ سے زیادہ اس طرح ملے گا کہ فْلاں کا بچہ کیا لال ٹماٹر جیسا ہے۔ فْلاں لڑکی۔ یا۔ عورت کا چہرہ تو بالکل ٹماٹر ہے۔ فْلاں شخص تو غصے میں ایک دم ٹماٹر ہوگیا۔ گذشتہ دنوں کچھ نئے لطائف واٹس ایپ یا فیس بک کے ذریعے معرضِ وجود میں آئے ہیں، جیسے ’’پہلے کہتے تھے ، کماکر دکھاؤ۔ اب کہتے ہیں ٹماٹر لاکر دکھاؤ۔‘‘ کسی جگہ ایک شخص آواز لگارہا تھا ، ٹماٹر تھاؤ۔۔ٹماٹر تھاؤ‘۔ ایک شخص نے غصے سے کہا ، ’کما کر ہی تو کھاتے ہیں۔‘ اْس بے چارے نے تْتلاکر وضاحت کی تو پتا چلا ، وہ کہہ رہا تھا ، ’ٹماٹرکھاؤ‘۔ ہمارے یہاں ایک عجیب دستور یہ بھی ہے کہ کسی کو ہدفِ ملامت بنانا ہو یا نشان عبرت، اْس پر گندے انڈوں کے ساتھ ساتھ، سڑے ہوئے ٹماٹروں کی بارش کردی جاتی ہے۔اسپین کا ایک علاقہ تو اپنی ’’ٹماٹر ماری‘‘ کی وجہ سے بہت مشہور ہے، یہ انوکھا تہوار اسپین کے علاقے، بْون نول میں، سن انیس سو پینتالیس سے متواتر منعقد ہورہا ہے، ہِسپانوی زبان میں لا۔توماتینا[La Tomatina]کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر لوگ ایک دوسرے کو محض تفریحاً ٹماٹر مارتے ہیں۔ یہ میلہ ہر سال اگست کے آخری بدھ کو ہوتا ہے، اس ٹماٹر ماری کے قواعد میں یہ بات اہم ہے کہ کسی کو ٹماٹر مارنے سے قبل ، اسے کچل دیا جائے تاکہ کسی کو چوٹ نہ لگے۔۔

ایک خاتون نے اپنی ہمسایہ خاتون سے بہت رازدانہ انداز میں اپنا دکھ بیان کرتے ہوئے کہا۔بہن میرا شوہر شام کو جب گھر آتا ہے اس کی شرٹ پر کبھی گلابی اور کبھی سرخ نشان نظر آتے ہیں۔میں جب اپنے شوہر سے اس بارے میں پوچھتی ہوں تو وہ ہمیشہ ٹالتے ہوئے کہتا ہے،یہ ٹماٹر کی چٹنی کے نشانات ہیں، تم ہی بتاؤ بہن اگر تمہارا شوہر ایسا کہے تو تم کیا کروگی؟دوسری خاتون نے خاصے تلخ لہجے میں جواب دیا۔ میں سب سے پہلے اس’’ ٹماٹر‘‘ کی تلاش شروع کر دوں گی۔۔ہمارے پیارے دوست ’’کھابوں‘‘ کے بہت شوقین ہیں، شہرکراچی کے ہر اچھے ہوٹل کا انہیں پتہ ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کس ہوٹل کی کون سی ڈش مشہور ہے، پیارے دوست کی وجہ سے ہم نے نت نئی ذائقہ دار ڈشزکو چکھا بھی اور انہیں پیٹ بھر کر کھایا بھی۔۔ وہ فرماتے ہیں۔۔بعض جگہوں پر مجھے یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ بھئی کھانا کس نے بنایا ہے ؟؟ جواب ملتا ہے کہ وہ جی آپکی بھابھی نے بڑے چاہ سے بنایا ہے خاص آپ کے لیے ۔۔اور مجھ میں عین اسی وقت اک بادشاہ کی روح آ جاتی ہے کہ بلاؤ اس عورت کو جس نے یہ کھانا بنایا ہے ،ہاتھ کاٹ دو ان کے تاکہ ایسا شاہکار پھر نہ بن سکے۔۔شوہر نے جھنجھلاکر کہا۔۔ بیگم مجھے دفتر جانے میں دیر ہورہی ہے آخر ناشتہ کب تیار ہوگا؟۔۔بیگم نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔۔آپ تو یونہی شور مچاتے ہیں دو گھنٹے سے کہہ رہی ہوں بس پندرہ منٹ میں تیار ہوجائے گا۔۔

اسی طرح ایک خاتون خانہ نے شوہر کو میسیج کیا کہ۔۔آتے آتے ایک ڈبل روٹی، چھ انڈے اور پیمپر لیتے آیئے گا۔ سبزی والے سے ایک کلو آلو، ایک کلو ٹماٹر، آدھا کلو بھنڈی ( بھنڈی ذرا دیکھ کر لیجیے گا۔ اپنی آنکھوں کے سائز کی چندی چندی زیرے جیسی مت لیجیئے گا)۔آدھا کلو کھیرے بھی لیجیئے گا۔ ( خبردار جو اپنی عقل کا استعمال کیا۔ پچھلی بار بھی کھیرے کی جگہ توری اٹھا لائے تھے۔ دکاندار سے پوچھ لیجیے گا)۔پھل میں آدھا کلو انگور اور ایک درجن کیلے۔ ایک لیٹر دودھ اور آدھا پاو دہی۔ لانڈری والے سے میرا برقع جو استری کے لیے دیا ہے وہ بھی اٹھا لیجیے گا۔ بچوں کا بیگ جو موچی کو زپ لگانے دیا ہے وہ بھی لیتے آئیے گا۔ درزی سے میرا جوڑا بھی اٹھا لیجیے گا۔ اور ہاں شہلا نے آپ کو سلام کہا ہے۔ شوہر کا فورا جواب آیا۔۔ کون شہلا ؟ بیوی نے جواب لکھا۔۔کوئی نہیں بس چیک کرنے کے لیے لکھا تھا کہ آپ نے میسیج پڑھا کہ نہیں۔ عموما جب اتنے کام بتاتی ہوں تو آپ بہانہ کر دیتے ہیں ناں، کہ میسیج نہیں دیکھا تھا۔

ٹماٹر کا استعمال بہت عام ہوتا ہے اور اکثر کھانوں کا ذائقہ اسی سے دوبالا ہوتا ہے جبکہ سلاد بھی اس کے بغیر ادھوری لگتی ہے۔علم نباتات کے اصولوں کے مطابق پھل کی تعریف یہ ہے کہ پودے کے پھول سے پیدا ہونے والا نرم گودا جس میں پودے کا بیج ہو، پھل کہلاتا ہے اور تیکنیکی لحاظ سے ٹماٹر اس تعریف پر پورا اترتا ہے، اس کے مقابلے میں سبزیاں کسی پودے کا کھائے جانے والا حصہ ہوتی ہیں۔تاہم ٹماٹر پھل ہے یا سبزی، اس کا فیصلہ 1893 میں امریکی سپریم کورٹ نے ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ۔۔ عام فہم زبان میں ٹماٹر سبزی ہے اور تیکنیکی لحاظ سے پھل ہونے کے باوجود اسے پھل نہیں قرار دیا جاسکتا۔ماہرین غذائیت بھی ٹماٹر کو پھل قرار دیتے ہیں کیونکہ اس میں نباتاتی شکر کی کمی ہوتی ہے جو کہ اکثر پھلوں میں پائی جاتی ہے جبکہ پھلوں کو میٹھے کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے مگر ٹماٹر کو نہیں۔تو تیکنیکی لحاظ سے تو ٹماٹر پھل ہے مگر غذائی اعتبار سے نہیں بلکہ سبزی ہے۔۔ایک پاگل نے جب دوسرے پاگل سے کہاکہ۔۔سب لوگ ہمیں پاگل کیوں کہتے ہیں۔۔ تووہ بولا۔۔ دفع کریار، یہ لے ٹماٹر اور جلدی سے ملک شیک بنالے۔


ای پیپر