وائٹ کالر کرائم
21 فروری 2019 2019-02-21

معاشرہ لوگوں کے ایک ایسے گروہ کو کہا جاتا ہے کہ جسکی بنیادی ضروریات زندگی میں ایک دوسرے سے مشترکہ روابط موجود ہوں اور معاشرے کی تعریف کے مطابق یہ لازمی نہیں کہ انکا تعلق ایک ہی قوم یا ایک ہی مذہب سے ہو۔ جب کسی خاص قوم یا مذہب کی تاریخ کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو پھر عام طور پر اسکا نام معاشرے کے ساتھ اضافہ کردیا جاتا ہے جیسے ہندوستانی معاشرہ ، مغربی معاشرہ یا اسلامی معاشرہ ۔ الغرض لوگوں کے مل جل کر رہنے اور ایک ساتھ زندگی بسر کرنے سے معاشرہ وجود میں آتا ہے یعنی افراد سے ہی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ ہر معاشرے کاایک دستور ہوتا ہے جس کے مطابق لوگ اپنی زندگیاں بسر کرتے ہیں۔ اپنے روز مرہ کے معاملات کو انہی اصولوں کے تحت انجام دیتے ہیں۔ اور اگر معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم نہ رہے تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ جرائم کا پھیلاﺅ عام ہونے لگتا ہے

دنیا بھر میں قریباً ایک کروڑ افراد اس وقت جیلوں میں قید ہیں اور ان میں سے نصف امریکہ، چین اور روس میں پابندِ سلاسل ہیں۔

ورلڈ پرزن پاپولیشن لسٹ 2009 کے مطابق امریکہ میں ہر ایک لاکھ افراد میں سے سات سو چھپن افراد کو جیل بھیجا جاتا ہے جبکہ دنیا میں یہ شرح ایک سو پینتالیس افراد فی ایک لاکھ ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک میں جرائم کی شرح بھی مختلف ہے. اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو ہمارے وطن عزیز کو   کرپشن جیسے ناسور کا سامنا ہے.

کرپشن کرنے کے آپ نے  مختلف واقعات اور منفرد انداز دیکھیں ہوں گے. وائٹ کالر کرائم کرپشن کی دنیا میں کرپشن کرنے کے لیے ایک بہت ہی بھیانک اور خطرناک انداز ہے.

آخر وائٹ کالر کرائم ہے کیا اور پاکستان کی اکانومی پر  کتنا اثر انداز ہوا.

  وائٹ کالر کرائم کی اصطلاح پہلی بار 1939 میں اعلی سماجی حیثیت کے کسی شخص کی طرف سے ایک جرم" کے طور پر ماہر معاشیات ایڈون سوچرلینڈ نے تعریف کی. "وائٹ کالر کرائم   ایسا جرم ہے جسے اعلی سماجی حثیت رکھنے والے اور معاشرے میں بہت ہی معزز و محترم سمجھے جانے والے افراد کی طرف سے کیا جاتا ہے.  باقی جرائم سے اس لیے مختلف ہے کہ  یہ عدم تشدد، کاروباری اور حکومتی پیشہ ور افراد کی طرف سے کئے جانے والے غیر معمولی جرم سے مالی طور پر حوصلہ افزائی کرتا ہے.

وائٹ کالر کرائم میں دھوکہ دہی، رشوت،  اندرونی تجارت، مزدور ریکیٹنگ، سائبر کرائم ، کاپی رائٹ کی خلاف ورزی، منی لاؤنڈنگ، اور  شناخت چوری  شامل ہوسکتی ہے. جبکہ وکلاء کا کردار وائٹ کالر کرائم میں خاص ہوسکتا ہے. وائٹ کالر کرائم کی روک تھام کیلئے دنیا بھر کے مختلف ممالک میں سخت ترین سزائیں دی جاتی ہیں. جن میں چین دی جانی والی سزا سرفہرست ہے جہاں کرپشن بدعنوانی کے جرم میں ملوث افراد کو سزائے موت دی جاتی ہے. ابتک ہزاروں افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے. اسی طرح امریکہ میں وائٹ کالر کرائم میں عمر قید کی سزا دی جاتی ہے.

پاکستان میں بھی وائٹ کالر کرائم کی روک تھام کے لئے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں. قومی احتساب بیورو ( نیب ) کے چیئر مین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہاہے کہ نیب کی وائٹ کالر کرائم سے متعلق مقدمات میں سزا کی شرح شاندار ہے ‘ نیب پیشہ وارانہ کارکردگی شفافیت ‘ میرٹ اور قانون پر بلا امتیاز عمل درآمد کے ذریعے ملک سے ہرقسم کی بد عنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے تمام وسائل برؤے کار لا رہا ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ سال نیب ہیڈ کوار ٹر میں نیب کی مجموعی کارکردگی سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

نیب نے ادارہ جاتی احتساب کا نظام وضع کیا ہے‘ اب تک 85 افسران کو سزائیں دی گئیں ہیں جن میں 23 افسران کو مستحق سزائیں دی گئی اور انہیں ملازمت سے برخاست کردیاگیا ہے جبکہ 34 افسران کو نرم سزائیں دی گئی ہیں۔  کرپشن ایک ایسی لعنت ہے جس سے ملکوں کی معیشت تباہ برباد ہو جاتے ہیں. دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پاکستان کو کرپشن جیسے ناسور سے چھٹکارا عطا فرمائے آمین.

 حافظ محمد زبیر

 (ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں)


ای پیپر