اصلی تے نسلی عمران خان!
21 فروری 2019 2019-02-21

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا پاکستان میں شاندار استقبال کیا گیا، وہ یقیناً اس کے مستحق تھے، ایک تو سعودی عرب ہمارا برادر اسلامی ملک ہے دوسرے اس برادر اسلامی ملک نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا، خصوصاً اس کی مالی مشکلات کو کم کرنے کے لئے ہمیشہ بڑا مددگار ثابت ہوا یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس برادر اسلامی ملک یا اس کے حکمرانوں نے صرف پاکستان کا ہی ساتھ نہیں دیا پاکستان کے ان حکمرانوں اور سیاستدانوں کو بھی مشکلات سے نکالنے کی کوششیں کی جو اپنے ہی کہیں نہ کہیں بلنڈر کی وجہ سے موت کے قریب پہنچ گئے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے یہ سیاستدان یا سابقہ حکمران اس کے باوجود سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے حوالے سے کسی بھی معاملے میں کیڑے ڈال سکے نہ نکال سکے کہ ولی عہد نے ان کی شدید ترین خواہش اور کوشش کے باوجود انہیں علیحدگی میں ملنا پسند نہیں کیا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے اس ضمن میں انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے ان جذبات و احساسات کا خیال رکھا یا قدر کی جو وہ ان سابق کرپٹ حکمرانوں کے حوالے سے اپنے دل و دماغ میں رکھتے ہیں۔ سچ پوچھیں ان کا بس نہیں چلتا نہ ان کے پاس اتنی اکثریت ہے وہ آئین میں کوئی تبدیلی فرما لیں جس کے بعد عدالتیں خصوصاً اس ملک کو ”اصل قوتیں“ باقاعدہ اور عملی طور پر ان کے ماتحت آ جائیں اور اس کے بعد ہر کرپٹ سیاستدان اور افسران کو اپنے بلندوبانگ دعوﺅں کے مطابق سرعام چوکوں میں لٹکاکر کرپشن کا اس ملک سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیں.... ہماری عدالتیں ان سیاسی و انتظامی چوروں اور ڈاکوﺅں کی جب ضمانتیں لیتی ہیں میں ذاتی طور پر جانتا ہوں اس وزیراعظم کی ذہنی حالت کیا ہوتی ہے جو ہر حال میں اس ملک کو کرپشن سے پاک کرنا چاہتا ہے؟ کیونکہ وہ اس پر مکمل ایمان لا چکا ہے اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں یا اس کی بنیادوں کو ہلانے میں بنیادی کردار کرپشن کا ہی ہے.... اب ان بنیادوں کو دوبارہ کھڑا کرنے کے لئے ہر وہ حربہ آزمانا چاہتا ہے جو خود اس کے مزاج یا فطرت کے خلاف ہے وہ اکثر فرماتا تھا ”میں خودکشی کرلوں گا بھیک نہیں مانگوں گا“ اپوزیشن رہنما اس کی اس بات کو باقاعدہ ایک طعنے کے طور پر بار بار ایسے دہراتے ہیں جیسے یہ بھیک (قرض) وہ اپنی ذات کے لئے مانگ رہا ہو کچھ اپوزیشن رہنماﺅں کی خواہش ہے وہ خودکشی کر لے، اس کے بعد تخت پاکستان پر ایک بار پھر ان کا قبضہ ہو جائے، اور بچا کھچا پاکستان بھی ان کے پیٹوں میں اتر جائے، ظاہر ہے ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکتی، اس بار ان کا پالا ایسے شخص ( عمران خان) سے پڑا ہے جو امید بلکہ یقین کا دامن کسی صورت میں ہاتھ سے نہیں چھوڑتا، وہ آخری بال بھی اس جذبے کے ساتھ کھیلتا ہے جیسے میچ ابھی شروع ہوا ہے اور یہ پہلی بال ہے، حالانکہ کئی کھلاڑی آﺅٹ ہو چکے ہوتے ہیں.... سیاست اور حکومت میں بھی ان کے کئی کھلاڑی کارکردگی کے لحاظ سے آﺅٹ ہونے کے بالکل قریب اور قابل ہیں، مگر وہ (وزیراعظم) اس لئے انہیں آﺅٹ نہیں کررہے وہ انہیں باربار غلطیوں سے سبق سیکھنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں، مگر اللہ جانے اپنی ٹیم کے ان ممبران کا وہ بالآخر کیا کریں گے جو باربار غلطیوں سے سبق یہ سیکھتے ہیں کہ باربار غلطیاں کی جائیں؟ بلکہ باربار غلطیاں کرنے کا اب انہیں شاید لطف آنے لگا ہے، اپنی ٹیم کے ان ارکان کی وجہ سے وہ شدید ترین تنقید کی زد میں بھی رہتے ہیں، صرف دو تین وفاقی وزرائ، خصوصاً وزیراعلیٰ پنجاب سے ہی وہ جان چھڑوا لیں، یا یہ لوگ ملک و قوم یا وزیراعظم عمران خان کی ساکھ کی محبت میں رضاکارانہ طور پر ہی اپنے عہدوں سے الگ ہو جائیں، میں یہ بات پورے وثوق سے کہتا ہوں حکومت کے ہر معاملے میں ایسی برکت پڑ جائے گی جس کا تصور خود خان صاحب نے شاید نہ کیا ہو۔ مثلاً وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کسی روز واٹس ایپ پر ٹائم لے کر وزیراعظم کی خدمت میں حاضر ہوں اور عرض کریں ”سر میری یادداشت بڑی کمزور ہو گئی ہے مجھے باربار یاد ہی نہیں رہتا میں نون لیگ چھوڑ چکا ہوں یادداشت کی اس کمزوری کی وجہ سے میں اکثر اوقات نون لیگ کے

لوگوں یا ارکان اسمبلی کو ہی جائز ناجائز فائدے پہنچاتا رہتا ہوں لہٰذا میری گزارش ہے آپ مجھے فارغ کر دیں....“ مجھے یقین ہے اس کے بعد انہیں فارغ کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ میں سوچ رہا تھا حکومت پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ولی عہد کے اعزاز میں دیئے جانے والے کسی ظہرانے، عشائیے یا تقریب میں پنجاب کے نمونہ اعلیٰ بزدار کو بھی مدعو کیا جائے گا، انہیں شاید اس لئے مدعو نہیں کیا گیا کہیں محترم وزیراعظم کی نظر ان پر پڑ گئی تو سعودی عرب میں پاکستانی قیدیوں کی بات کرتے کرتے وہ اچانک یہ کہنا نہ شروع کر دیں ”ہمارے پاس وسیم اکرم پلس ہے، آپ کے پاس کیا ہے؟؟؟.... ویسے وزیراعظم عمران خان کے سیاسی مخالفین ان دنوں سخت پریشانی کا شکار ہیں کہ وزیراعظم کے پاس کون سی ایسی قوت ہے جس کی بدولت اس کی شہرت کا گراف زمین پر گرتے گرتے اچانک آسمان کی جانب بڑھنا شروع کر دیتا ہے یہ عمل مسلسل جاری ہے اپوزیشن کوشاید معلوم نہیں سب سے بڑی قوت ایمانداری ہے ہماری اپوزیشن کی اکثریت جس سے محروم ہے اور ایمانداری کے ساتھ نیک نیتی شامل ہو جائے سونے پہ سہاگہ ہو جاتا ہے جو وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے مسلسل ہوتا جا رہا ہے ان کی ایمانداری یا یوں کہہ لیں مالی دیانتداری کا اعتراف تو ان کے وہ بدترین دشمن بھی کرتے ہیں جن کی تعداد اب آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے اور مجھے یقین ہے پاکستان کی اصل قوتوں نے انہیں آزادی سے کام کرنے دیا اور روایتی کمینگیوں اور کم ظرفیوں کا مظاہرہ نہ کیا تو پانچ برسوں بعد ان کے دشمنوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں رہ جائے گی، کیونکہ تب تک وہ پاکستان کو ترقی کی اس منزل پر لے جا چکے ہوں گے جس کی امید ہر محب وطن پاکستانی اس وقت ان سے لگائے بیٹھا ہے اور شدید ترین مشکلات اور کٹھن بحرانوں کے باوجود وہ بھی پوری کوششیں کر رہے ہیں اس ملک کو ترقی کے کم از کم پہلے زینے پر وہ چڑھا دیں.... ہم پاکستانیوں کو تو چھوڑیں ابھی پچھلے دنوں میں کویت میں تھا کویت کے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے مطابق اس شخص (وزیراعظم) کو وقت پورا کرنے کا موقع ملا وہ پاکستان کو دوبارہ اس مقام پر لاکر کھڑا کر دے گا جب اس کے اپنے کہنے کے مطابق پاکستانیوں کو روزگار کے لئے بیرون ملک دھکے نہیں کھانے پڑیں گے۔


ای پیپر