پاکستان کے صنعتی شعبے کو جدت پسندی اختیار کرنی ہو گی : اے پی او
21 فروری 2018 (23:08) 2018-02-21

اسلام آباد: ایشین پراڈیکٹیوٹی آرگنائزیشن ( اے پی او ) جاپان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر سانتھی کینوٹاناپورن نے کہا کہ پاکستان کا صنعتی شعبہ جدت پسندی کو اپنا کر تجارت و برآمدات کو بہتر فروغ دے سکتا ہے لہذا وہ اس جانب پیش رفت کیلئے کوششیں تیز کرے ۔


اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورہ کے موقع پر چیمبر کے صدر شیخ عامروحید سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے اے پی او کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ آج کے شدید مقابلے کے دور میں جو کاروباری ادارے پرانے طریقوں پر چلتے ہیں اور جدت پسندی و جدید پیداواری طریقوں کو اپنانے میں سستی کرتے ہیں وہ جلد ہی اپنی موت آپ مر جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے تمام پیداواری ادارے پائیدار ترقی کیلئے بزنس ماڈلز تشکیل دیں اور مستقبل کے حالات کا مد نظر رکھ کر آئندہ کیلئے منصوبہ بندی کریں جس سے وہ بہتر ترقی حاصل کر سکتے ہیں۔


اپنے ادارے کی سرگرمیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایشیاء اور پیسفک خطے کے 20ممالک کی نیشنل پراڈیکٹیوٹی آرگنائزیشنز (این پی اوز) ایشیاء پراڈیکٹیوٹی آرگنائزیشن کی ممبر ہیں اور ان کا ادارہ رکن ممالک کی این پی اوز کے ساتھ مل کر ان ممالک کے صنعتی اداروں کی پیداواری صلاحیت کو عالمی معیار کے مطابق بہتر کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری ادارے کسی بھی معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے ہیں اور ان کا ادارہ رکن ممالک کی این پی اوز کے تعاون سے ایس ایم ای شعبے کو مضبوط کرنے کیلئے سرگرم عمل ہے تا کہ یہ کاروباری ادارے بہتر ترقی حاصل کر کے معیشت کو مستحکم کرنے میں مزید فعال کردار ادا کر سکیں۔


انہوں نے کہا کہ اے پی او پاکستانی چیمبروں کے ساتھ مل کر پاکستان میں گرین ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی او رکن ممالک کے درمیان علم ، معلومات اور تجربات کو شیئر کرنے میں بھی تعاون کرتی ہے جس سے ان ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو بہتر فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اے پی او کی ان کوششوں سے پاکستانی معیشت کیلئے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ این پی او پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالغفار خٹک نے کہا کہ پاکستان کے پیداواری اداروں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کا معیار مزید بہتر کرنے پر توجہ دیں تا کہ ہماری برآمدات صلاحیت کے مطابق فروغ پا سکیں۔


ای پیپر