سپریم کورٹ نے نواز شریف کو پارٹی صدارت کیلئے بھی نااہل قرار دیدیا
21 فروری 2018 (22:04) 2018-02-21

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی جانب سے ماضی میں کیے گئے تمام فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دیدیا ، فیصلے میں نواز شریف کی جانب سے جاری کیے گئے تمام سینیٹ ٹکٹ بھی منسوخ کر دیے گئے،چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کوئی بھی نااہل شخص پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا،طاقت کا سرچشمہ صرف اللہ تعالی کی ذات ہے، عوام اپنی طاقت کا استعمال عوامی نمائندوں کے ذریعے کرتے ہیں، آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہ اترنے والا پارٹی صدارت بھی نہیں کر سکتا،آرٹیکل 17 سیاسی جماعت بنانے کا حق دیتا ہے جس میں بھی قانونی شرائط موجود ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بدھ کو چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے الیکشن ایکٹ 2017 کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت اور سماعت مکمل کی جس کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے نااہل قرار دیدیا اوران کی جانب سے ماضی میں کیے گئے تمام فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دیدیا ، فیصلے میں نواز شریف کی جانب سے جاری کیے گئے تمام سینیٹ ٹکٹ بھی منسوخ کر دیے گئے ۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی نااہل شخص پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا۔چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں کہا کہ طاقت کا سرچشمہ صرف اللہ تعالی کی ذات ہے، عوام اپنی طاقت کا استعمال عوامی نمائندوں کے ذریعے کرتے ہیں۔ آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہ اترنے والا پارٹی صدارت بھی نہیں کر سکتا۔ آرٹیکل 17 سیاسی جماعت بنانے کا حق دیتا ہے جس میں بھی قانونی شرائط موجود ہیں۔فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

عدالت نے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 2017کی شق 203میں ترمیم کالعدم قرار دیدی۔16درخواستوں کو سماعت کیلئے منظورکیا گیا۔آرٹیکل 62 اور 63ارکان اسمبلی کا معیار مقرر کرتی ہے، 63اے پارٹی سربراہ سے متعلق ہے، الیکشن ایکٹ پارٹی صدر کو بڑا اختیار دیتا ہے، آرٹیکل 62اور 63 اور 63 اے کو ملا کر پڑھا جائے، آرٹیکل 17سیاسی جماعت بنانے کا حق دیتا ہے مگر آرٹیکل 17میں بھی قانونی شرائط موجود ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے وکیل سلمان اکرم راجہ فیصلے سے آدھا گھنٹہ پہلے ہی روانہ ہو گئے، سپریم کورٹ نے سیکشن 203 الیکشن ایکٹ 2017کو منسوخ نہیں کیا، ایکٹ موجود رہے گا۔

اس سے قبل ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعت بنانے کا حق آئین فراہم کرتا ہے،کسی دوسرے آرٹیکل سے بنیادی حق ختم نہیں کیا جا سکتا، انتخابی اصلاحات کمیٹی میں سیاسی جماعتیں متفق تھیں، صدر سے منظوری کے بعد قانون کا جائزہ لیا جاتا ہے، آئین کی بنیاد جمہوریت ہے، آئین کے آگے کسی دوسرے آئینی آرٹیکل کی رکاوٹ نہیں لگائی جا سکتی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ کا مطلب ہے عدالت صرف آرٹیکل 17کو مدنظر رکھے، رانا وقار نے بتایا کہ آرٹیکل 17کا سب سیکشن سیاسی جماعت بنانے کی اجازت دیتا ہے، آرٹیکل 17کے سب سیکشن 2پر کسی قسم کی قدغن نہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ سیاسی جماعت ملکی سالمیت کے خلاف بنے تو اس پر کوئی قدغن نہیں؟ آرٹیکل 63,62اور 63اے کو ایک ساتھ پڑھاجائے گا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 62ون ایف کی قدغن کو نظرانداز کردیں؟ہم تو اب سوال بھی نہیں کر سکتے، میرے ذہن میں سوال ہے مگر سوچ رہا ہوں پوچھوں کیسے؟3روز سے جمہوریت کو پڑھ رہا ہوں، جمہوریت میں پارٹی سربراہ کے کردار پر بھی جائزہ لیا۔ وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ عوام کا بنیادی حق ہے کہ ان پر ایماندار لوگ حکومت کریں، یہاں دلیل دی جا رہی ہے کہ بنیادی حقوق کو ترجیح دی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے کلچر میں سیاسی جماعت کے سربراہ کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، لوگ اپنے لیڈر کیلئے جان قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں، امریکہ میں شاید پارٹی سربراہ کی اہمیت نا ہو مگر یہاں ہے، کسی پارلیمنٹیرین کو چور اچکا نہیں کہا، کہا تھا الحمداللہ ہمارے لیڈرز اچھے ہیں، الحمداللہ اور ماشاء اللہ کے الفاظ استعمال کئے، مفروضے پر مبنی سوالات کررہے تھے۔

وکیل بابر اعوان نے کہا کہ سینیٹ ٹکٹ اس شخص نے جاری کئے جو خود نااہل ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اپنے لیڈر کیلئے چور کا لفظ کیوں استعمال کرسکتے ہیں؟ دلائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن ایکٹ 2017سے متعلق کیس کی سماعت مکمل کرلی گئی۔واضح رہے کہ نواز شریف کو دوبارہ پارٹی صدر بنانے کے لیے مسلم لیگ (ن) نے اکتوبر 2017 میں انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کی شق 203 میں ترمیم کی، جس کے بعد نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ (ن) کی صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیں تھیں اوراس ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں کئی درخواستیں دائر کی گئیں۔


ای پیپر