کہیں سی پیک کے ثمرات سے محروم نہ ہوجائیں؟
21 فروری 2018 (16:17)

محمد اسامہ شفیق

تاریخ گواہ ہے کہچینی تہذیب نے بنی آدم پر دور رس اثرات مرتب کئے ہیں۔تحریر و طب سے بارود و ریشم تک، چینی دانائی، مہارت اور تجارت نے دنیا پر اپنا غلبہ قائم رکھا ہے۔ آزادانہ معیشت کا موجودہ دور نرم طاقت کی بنیاد پر عالمی غلبے کی چینی تمنائوں کے عین مطابق ہے۔ طویل مدت سے فراموش شدہ شاہراہِ ریشم کے احیاء کے تانے بانے بھی اسی خواہش سے ملتے ہیں۔ اس امر کو یقینی بنانے کیلئے آٹھ ٹریلین ڈالر پر محیط ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ (OBOR) کا مقصد دنیا بھر میں 4 ارب انسانوں اور 60 ممالک کو جوڑنا ہے۔ پاک چین معاشی راہداری OBOR کی میری ٹائم سلک روڈ کا اہم ترین جزو ہے۔


پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار کے تقریباً پندرہویںحصے کے برابر، سی پیک سرمایہ کاری پاکستان کی کمزور معیشت کیلئے مالی معاون ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور چین کے دور افتادہ علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کیلئے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ سی پیک منصوبوں کے تحت پاکستان کے توانائی بحران پر بھی قابو پایا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں 30 ارب ڈالر کی کثیر رقم کوئلے،ہوا، پانی اور شمسی توانائی کے منصوبوں پر صرف ہوگی۔ چنانچہ اگلے دس برسوں اور دو مرحلوں میں راہداری کے تحت توانائی پیداوار میں دو گنا تک اضافہ کیا جائیگا۔ سی پیک دونوں شراکت داروں کیلئے کئی شعبوں میں اہمیت کا حامل ہے۔ سی پیک ، بالخصوص جنوبی ایشیاء اور بالعموم دنیا کیلئے، چین کے تزویراتی و معاشی وجود میں دل کی حیثیت رکھتا ہے۔ شاید اسی لئے چینی سفیر سن ویتنگ نے سی پیک کو منصوبے سے بڑھ کر ایک لائحہ عمل قرار دیا تھا۔


سابق صدر جنرل پرویز مشرف چین کو وقت کے ترازو پر تلا ہوا دوست کہا کرتے تھے۔ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے دور میں چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے دورۂ پاکستان کو بھائی کے گھر جانے سے تشبیہ دی تھی۔ یقینا پاک چین تعلقات کی مضبوطی معاشی و سیاسی جغرافیائی مقاصد کی یکسانیت پر منحصر ہے۔ امریکا کے برعکس، چین نے ہمیشہ پاکستان کی علاقائی خودمختاری کا احترام کیا اور اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز بھی کیا۔ درحقیقت چینی امداد عوامی فلاح و بہبود کیلئے مختص رہی اور اسی لئے عوامی حلقوں میں چین کو پذیرائی بھی ملی۔ سی پیک پاکستان پر چین کے اعتماد کا روشن مظہر ہے۔ اُس وقت جب پاکستان امن و امان کی بگڑتی صورت حال، گھنٹوں طویل لوڈ شیڈنگ اور لڑکھڑاتی معیشت سے دوچار تھا تو چینی منصوبہ پاکستان کی معاشی و توانائی ضروریات کیلئے کلیدی مددگار ثابت ہوا۔ بے شک اس منصوبے سے پاکستانی معیشت، سماج و ثقافت اور علاقائی درجہ بندی پر خاطر خواہ اثرات مرتب ہوں گے۔


اقتصادی راہداری کا سب سے بڑا مشن پاکستانی معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا ہے۔ اس سلسلے میں واضح رہے کہ قرضہ جات کی ادائیگی بڑی مشکل بن سکتی ہے کیونکہ حکومت معاہدوں کی اصل حقیقت سے پردہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔ مزید برآں، حکومت درآمد و برآمد کے محصول اور سڑکوں کی شکست و ریخت کے اخراجات کا تعین کرنے سے بھی قاصر رہی ہے۔ وقت آن پڑا ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے کچھ سبق سیکھ کر مستقبل کی حکمت عملی وضع کریں، بالخصوص وہ غلطیاں جو نیٹوکو سہولیات فراہم کرنے میں سرزد ہوئیں۔


حکومت پاکستان نے سی پیک منصوبوں کے تحت خصوصی اقتصادی زونز قائم کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ان کی مجموعی تعداد 30 سے تجاوز کر چکی ہے اور ان میں صنعتی، تجارتی اور زرعی زونز شامل ہیں۔ صوبہ بلوچستان سے چین کو خشک میوہ جات کی درآمد پر جبکہ صوبہ پنجاب سے زرعی پیداوار بالخصوص سویابین آئل کی درآمد پر زور دیا جائیگا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے آئندہ چند برسوں میں پنجاب اور چین کے درمیان تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھا ہے۔


سابق وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سی پیک کو سڑکوں کا پیچیدہ جال قرار دیا تھا۔ آئیے اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سی پیک منصوبہ چار مجوزہ راہداریوں پر مشتمل ہے۔ شمالی راستہ گلگت بلتستان کو اسلام آباد سے جوڑ رہا ہے۔ مشرقی راستہ مرکزی پنجاب اور صوبہ سندھ کو راہداری میں شامل کر رہا ہے، اس سلسلے میں لاہور تا کراچی موٹروے (M-8) رواں سال 2018ء میں مکمل کر لی جائیگی۔ مرکزی راستہ جنوبی پنجاب کو راہداری کا حصہ بنارہا جبکہ مغربی راستہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کو سی پیک میں شامل کر رہا ہے۔


سی پیک کے فوائد ہمیں توانائی کے شعبے میں بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ مزید پیداوار مستقبل میں صنعتوں کو فعال رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ تشویش ظاہر کی جارہی ہے کے چینی مصنوعات کے مقابل پاکستان کی مقامی صنعت صارفین پر قابو رکھنے میں ناکام ہو سکتی ہیں۔ قنوطیت پسند کہہ رہے ہیں کہ پاکستان چین کی نو آبادی بننے جارہا ہے۔ یہ محض ایک واہمہ ہے۔ تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ضرورت سے زائد توانائی اور بڑھتے ہوئے گردشی قرضے قومی خزانے پر غیر ضروری دبائو کا موجب بن سکتے ہیں۔


سی پیک نے جنوبی ایشیاء کے تزویراتی اتحادوں کے علاوہ سیاسی و معاشی منظر نامے کو بھی بدل کے رکھ دیا ہے۔ اس منصوبے نے پاکستان کو ایک بار پھر اپنے سیاسی جغرافیائی محل وقوع کی بنیاد پر معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کا سنہری موقع فراہم کیا ہے۔ پاکستان کی داخلی ربط سازی کو یقینی بنانے کے بعد، یہ راہداری افرادی قوت سے بھر پور جنوبی ایشیاء کو معدنیات سے مالا مال مرکزی ایشیائی ریاستوں سے منسلک کرے گی۔ علاوہ ازیں، چینی مصنوعات کو مشرقِ وسطیٰ، افریقا اور یورپ سے بھی جوڑ دے گی۔ تاہم یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ امریکا، بھارت اور خلیج فارس میں ان کے اتحادی، پاکستان کو سی پیک کے فوائد علاقائی و عالمی سطح پر پھیلانے سے روکنے کی مہم پر عمل پیرا ہیں۔


19 ٹریلین ڈالرپر محیط معیشت سے لیس چینی ڈریگن کیلئے محض 60 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پنجوں تلے دبے تنکوں کے برابر بھی نہیں۔یہ سرمایہ کاری چین کے کثیر الجہتی تزویراتی و معاشی مفادات کے حصول میں اہم کردار ادا کررہی ہے ۔ یہ منصوبہ چین کے شمال مغربی سنکیانگ ریجن کو قومی دھارے میں لاتا ہے اور شنگھائی کی بندر گاہ سے مال کا دبائو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ 1,200 میل طویل راہداری چینی مصنوعات کو بحیرۂ عرب، افریقا اور یورپ تک پہنچانے کا خرچ، فاصلہ اور وقت آدھا کر دیتی ہے۔ واضح رہے کہ چین کے اقتصادی غلبے کو بھارت اور امریکا سے بڑا خطرہ لاحق ہے۔ اس ضمن میں چین مشرقی و جنوبی بحیرۂ چین میں مصنوعی جزیرے بنا کر خصوصی اقتصادی زون (Exclusive Economic Zone) پر اپنے دعووں کو مضبوط کر رہا ہے۔ تاہم اقتصادی لحاظ سے اہم آبنائے ملاکا امریکا اور اسکے جنوب مشرقی ایشیائی حلیفوں کے تسلط میں ہونے کے باعث معمولی سی عداوت بھی نرم طاقت کی بنیاد پر عالمی تسلط کی چینی مہم کو روک سکتی ہے۔ آبنائے ملاکا ملیشیا اور انڈونیشیا کے درمیان وہ تنگ سمندری راستہ ہے جہاں سے چین کا دو تہائی تجارتی مال گزرتا ہے۔ چنانچہ سی پیک منصوبے کے ذریعے براستہ پاکستان، چین کو متبادل راہداری محفوظ بنانے کی اشد ضرورت ہے۔


20اپریل 2015ء کوچینی صدر شی کے دورے کے دوران مواصلات، توانائی، نشریات، انفراسٹرکچر، مینو فیکچرنگ، ریلوے ، میڈیا کلچر سمیت مختلف شعبوں میں کئی سمجھوتوں پر دستخط کیے ۔ انہوں نے گوادربندرگاہ، پاک چین اقتصادی راہداری، ون بیلٹ ون روڈ اور مختلف دوسرے منصوبوں کا افتتاح بھی کیا۔ صدر شی کے دورہ کے دوران 10 ہزار400 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے 14 منصوبوں پر بھی دستخط کئے گئے۔ جن میں پانی ، ہوا اور کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔ جن پر 15.5 بلین ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ 6 ہزار 120 میگاواٹ کے بجلی کے منصوبوں پر بھی اندازاً 18.3 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ ریلوے کی موجودہ لائن ایم ایل ون جس کی لمبائی 17 سو 36 کلومیٹر ہے کی توسیع و تعمیر اور حویلیاں ڈرائی پورٹ بھی چینی سرمایہ کاروں کی مدد سے تعمیر ہو رہی ہے، اس پر 20.7 بلین ڈالر لاگت آئے گی۔پاکستان اور چین گوادر میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ ، چین اور اسلام آباد کو ملانے والی 1300 کلومیٹر قراقرم ہائی وے کے ایک حصے کی تعمیر اور چینی سرحد سے راولپنڈی تک فائبر آپٹیک کیبل بچھانے کے سمجھوتوں پر پہلے ہی دستخط کر چکے ہیں۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ چین پاکستان کے ساتھ عظیم الشان معاشی و اقتصادی تعاون کا مظاہرہ کر رہا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ پاک چین دوستی اٹوٹ رشتوں میں بندھی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک نے ہر کڑے اور آڑے وقت میں ایک دوسرے کا بھائیوں کی طرح ساتھ دیا ہے۔ پاک چین دوستی تاریخ کی جڑیں زمین اور تاریخ میں انتہائی گہری ہیں۔ 60 ء کے عشرہ سے پاک چین دوستی مائل بہ استحکام ہونا شروع ہوئی اور آج یہ دوستی عالمی برادری میں ایک ضرب المثل کا روپ دھار چکی ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ چو این لائی کے دور سے شی چِن پِنگ کے عہد تک پاک چین دوستی لمحہ لمحہ مضبوطی اوراستحکام کا استعارہ ہے۔ طویل دوستی کی یہ سنہری تاریخ پاکستان کے20 کروڑ شہریوں کے نزدیک ایک عظیم سرمائے اور بیش قیمت اثاثے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ تو طے ہے کہ پاک چین دوستی مزید مستحکم ہونے سے خطے میں استحکام آئے گا ۔چینی صدر اس یقین کا اظہار کرچکے ہیں کہ’ پاکستان اور چین ہر شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے پُرعزم ہیں اور چین پاکستان سے باہمی اقتصادی تعاون کو مکمل تحفظ دے گا، پاکستان درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں کامیاب ہو رہا ہے اور اقتصادی ترقی کی راہ میں درپیش ہر رکاوٹ دونوں ملک مل کر دور کریں گے، دیرینہ دوستی اب سٹرٹیجک شراکت داری میں تبدیل ہو رہی ہے، دہشت گردی کا خاتمہ دو طرفہ ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اس جنگ میں پاکستان صفِ اول کی ریاست ہے اور اس سلسلے میں پاکستانیوں کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں‘‘۔اقتصادی راہداری کے بارے میں بات کرتے ہوئے شی چن پنگ نے کہا کہ یہ باہمی ترقی کا منصوبہ ہے اور چین پاکستان میں معاشی ترقی اور استحکام کا خواہاں ہے‘۔


یہاں اس امر کا ذکر بھی مناسب ہوگا کہ چینی صدر20اپریل 2015ء کوپاکستان کے دورے پر تشریف لائے اور اس کے ٹھیک 10دن بعد30اپریل 2015ء کوافغانستان کے صدر اشرف غنی نے نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور افغان بھارت تعلقات اور علاقائی و عالمی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر افغان صدر کو یاد آیا کہ ’’فغانستان جغرافیائی لحاظ سے ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جہاں جنوبی ایشیا ، وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا آکر ملتے ہیں، ہم ان تینوں خطوں کے لئے مرکزی راہداری بن سکتے ہیں‘‘۔ جوابی تقریر میں مودی نے کہا کہ ’’ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’’ افغانستان کے ساتھ زمینی اور بحری رابطوں میں اضافہ کیا جائے گا‘‘۔ بھارتی وزیراعظم نے اس موقع پر پاکستان کے ساتھ اپنی دیرینہ رقابت کا اظہار کرنے سے بھی باز نہ آئے اورافغان صدر اشرف غنی کو یقین دلایا کہ ’’ ہم افغانستان کو گرم پانیوں تک تجارتی راستہ دینے کے لئے ایران کی بندرگاہ چاہ بہار کو اپ گریڈ کریں گے اور اس کو گوادر کے مقابلے میں ڈیپ سی پورٹ بنائیں گے، جس سے افغانستان کو مشرقی اور جنوبی ایشیا کا تجارتی مرکز بنایا جائے گا، ہم افغانستان کو پاکستان کی بجائے ایرانی بندرگاہ کے ذریعے سمندر تک راستہ اور تجارتی راہداری فراہم کریں گے‘‘۔

چینی صدر نے پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران خاص طور پر افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔چینی صدر نے پاکستان کی پارلیمنٹ میں جو تقریر کی اس کے کسی ایک لفظ سے یہ مترشح نہیں ہوتا کہ وہ علاقائی تناظر میں کسی کشیدگی یا مخاصمت کو انگیخت دینا چاہتے ہیں بلکہ انہوںنے علاقائی بہبود کے لئے ایک مثبت پروگرام پیش کیا۔ ٹرانزٹ ٹریڈ کے لئے چین کے اقتصادی کوریڈور میں بھارت ایران کو بلاجواز گھسیٹ رہا ہے۔ بھارت چاہ بہار ڈیپ سی پورٹ کی تجویز محض جذبۂ رقابت کے تحت پیش کر رہا ہے۔ حالانکہ پاکستان ایران کا دوست بلکہ براہ راست ہمسایہ ملک ہے۔ وہاں کی کوئی بندرگاہ ترقی کرتی ہے تو یہ امر ہمارے لئے خوشی کا باعث ہو گا۔ مودی سرکار کی اس ڈپلومیسی کو کسی طور معیاری قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو بھارت کو افغانستان کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کا پورا حق ہے اور اسی طرح افغانستان کا بھی یہ حق مسلمہ ہے۔یاد رہے کہ چاہ بہار بندرگاہ ایران کے علاقے چاہ بہار میں خلیج اومان پر واقع ہے ۔ یہ ایران کی واحد بندرگاہ ہے جو گہرے سمندر تک براہ راست رسائی رکھتی ہے ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ 1990ء میں بھارت نے جزوی طور پر اس بندرگاہ کی باضابطہ تعمیر کی تھی تاکہ اسے پاکستان سے ہٹ کر افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی حاصل ہو جائے۔ یہ بندرگاہ سیستان اور صوبہ بلوچستان کے جنوب میں واقع ہے۔ اس کا ماسٹر پلان 1973ء میں تیار کیا گیا مگر انقلاب ایران کی وجہ سے اس منصوبے پر عملدرآمد نہ کیا جا سکا۔ یہ بندرگاہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سے ہٹ کر واقع ہے ۔بھارت نے گوادر کے مقابلے میں چاہ بہار کو جدید بندرگاہ بنانے اور اِ سے اپ گریڈ کرنے کے عزائم کا اظہار چینی صدر کے دورہ پاکستان کے بعد کیا۔ واضح رہے کہ پاکستان کے منصوبہ بندی کے سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے درست کہا تھا کہ ’پاکستان چین اقتصادی راہداری‘ منصوبے پر تعمیراتی کام شروع ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ صرف ایک سڑک کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک فریم ورک ہے، یہ بہت سے ترقیاتی منصوبوں کا مجموعہ ہے جس میں بجلی گھر، صنعتی زون، ثقافتی منصوبے اور حتیٰ کہ ٹیلی ویژن اور ریڈیو سٹیشن تک شامل ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اقتصادی راہداری سے وابستہ تمام ترقیاتی منصوبے ایسے ہیں، جن کی جڑیں اور شاخیں جب پھلے اور پھولیں گی تو اس کے ثمرات اور چھائوں سے چاروں صو بے اور اس کے شہری فائدہ اٹھائیں گی۔

سی پیک نے پاکستان کو معاشی تعمیر و ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا ہے۔ دہشت گردی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے محفوظ جنت بن گیا ہے۔ ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے کئی بار سی پیک میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے۔ یہاں تک کہ روس بھی سی پیک کا حصہ بننا چاہتا ہے اور یورپ سے ’’طلاق‘‘ کے بعد برطانیہ بھی نئی رشتے و روابط قائم کرنے کی دوڑ میں لگا ہے اور سی پیک کو اپنی اقتصادی و خارجہ پالیسی کا اہم ہدف سمجھتا ہے۔ پس ہم یہ قیاس کرسکتے ہیں کہ سی پیک خطے کی طرح عالمی گیم چینجر بھی ثابت ہوگا۔


یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ امریکی جارحانہ حکمت عملی اور طاقت کے ناجائز استعمال کی تاریخ جنوبی ایشیاء میں عدم استحکام کی جڑ ہے۔ سی پیک کا تزویراتی جائزہ یہ واضح کرتا ہے کہ چین کی موجودگی خطے میں امریکی بالادستی کو مختصر کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے دبے لفظوں اعتراف کر لیا ہے کہ جنوبی ایشیاء کیلئے امریکا کی نئی حکمت عملی درحقیقت چین مقابل حکمت عملی ہے۔ اوباما انتظامیہ نے سی پیک کو جنوبی ایشیاء کے بارے امریکی خواہشات کا عکاس کہا تھا تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں بڑھتی ہوئی امریکا بھارت شراکت داری نے سی پیک سے متعلق امریکی خدشات سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ لہٰذا سی پیک کے ذریعے خطے میں سیاسی جغرافیائی استحکام قائم ہوگا جو اقتصادی ترقی کیلئے اولین ہے۔ اس سلسلے میں پاک بحریہ کی توسیع اور چینی لاجیسٹکس اڈوں کا قیام انتہائی اہم ہے۔ چنانچہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سی پیک کے ذریعے پاکستان نئے عظیم کھیل (Great Game) کا حصہ بننے جا رہا ہے۔


افغانستان تہذیبوں کی اہم گزرگاہ ہے۔ پر امن افغانستان جنوبی ایشیاء میں قیام امن کا ضامن ہے۔ چین نے بارہا چہار فریقی ہم آہنگی گروپ کے فورم پر افغان امن لائحہ عمل پیش کیا ہے تاہم بھارت کو افغان امن عمل میں شامل کرنے پر ٹرمپ انتظامیہ کی بلاجواز ضد چین اور پاکستان کو افغان امن عمل میں تعاون سے باز رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ سی پیک کے ذریعے پاکستان اور چین، افغانستان کو قدرتی وسائل کی اہم گزرگاہ بننے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔
سیاسی استحکام اور دہشت گردی سی پیک منصوبوں کی تعمیر و تکمیل میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ تاہم منصوبوں کے تحفظ کے لحاظ سے افواج پاکستان کا کردار لائق تحسین ہے۔ ان کی جانب سے راہداری کے تحفظ کا انتظام چینی مطالبات کو پورا کر رہا ہے۔ چین سی پیک کی مجموعی سیکیورٹی صورت حال سے بڑی حد تک مطمئن ہے۔ تاہم چین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یغور مسلم آبادی پر مشتمل صوبہ سنکیانگ ازبک اور تاجک گوریلاز کیلئے محفوظ مقام بن سکتا ہے۔ افواج پاکستان اس ضمن میں بھی چین کو بھرپور تعاون مہیا کر رہی ہیں۔


بھارت کو خدشہ ہے کہ سی پیک کے ذریعے مضبوط پاکستان خطے میں اس کیلئے معاشی و سیاسی محاذوں پر چیلنج بن سکتا ہے۔ اس نے راہداری کو متنازع بنانے کیلئے اقوام عالم کے سامنے گلگت بلتستان کو متنازع علاقہ کہناشروع کردیا۔ تاہم چین کے تعاون اور حکومت پاکستان کے عزم و ہمت اور موثر خارجہ پالیسی نے بھارت کے مضحکہ خیز دعووں کا ’’انتم سنسکار‘‘ کردیا۔ اس مہم میں ناکامی کے بعد، بھارت کلبھوشن یادیو ایسے جاسوسوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی اور سیاسی عدم استحکام کو پروان چڑھانے لگا۔ افواج پاکستان نے بارہا ثابت کیا کہ وہ اوچھے بھارتی ہتھکنڈوں سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ جب کچھ نہ بن پڑا تو بھارت نے ایران میں چاہ بہار بندرگاہ پر ترقیاتی کام کی رفتار بڑھا دی۔ لیکن گوادر بندرگاہ کی حیثیت اور جغرافیائی مقام اسے خطے کی اہم ترین بندر گاہ بنا تا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ گوادر بندرگاہ خلیجی ممالک اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت کا سنگ بنیاد ہے۔ 2016ء میں نریندرا مودی گزشتہ 40 برسوں میں متحدہ عرب امارات کا دورہ کرنے والا پہلا بھارتی وزیر اعظم بنا۔ یہ دورہ کامیاب رہا۔ ایک جانب مودی نے بھارتی تارکین وطن کے حقوق محفوظ کئے تو دوسری طرف بھارت کیلئے کئی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی حاصل کر لی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اسی دوران پاکستانی تارکین وطن اور محنت کشوں کو لاکھوں کی تعداد میں جزیرہ نمائے عرب سے واپس بھیجا گیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔


معیشت کسی بھی معاشرے کیلئے اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ مضبوط معیشت قانون شکنی اور دہشت گردی ایسے بڑے مسائل سے نبرد آزما ہونے کیلئے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سی پیک نے پاکستان کو اہم موقع فراہم کیا ہے۔ ایک دو عشرے قوموں کی تاریخ میں پلک جھپکنے سے بھی پہلے گزر جاتے ہیں۔ گزشتہ سال پاک چین مجموعی تجارتی حجم محض 14 ارب ڈالر تھا جبکہ سی پیک کی تکمیل کے بعد یہ کئی سو ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنی جانب پھینکی گئی اینٹوں سے اپنے لئے قصرتعمیر کرتے ہیں یا قبر۔


ای پیپر