New Year, new crisis, no political stability, country
21 دسمبر 2020 (12:37) 2020-12-21

نیا سال نئے بحران، کیا اس ملک کی قسمت میں سیاسی استحکام نہیں ہے؟لگتا ہے اس ملک کی جڑوں میں گلاب کے پھولوں کے ساتھ کانٹے بھی بو دیے گئے تھے۔ 70 سالوں سے لہو کی مہکار ختم ہونے میں نہیں آرہی۔ مینار پاکستان پر پی ڈی ایم جلسے نے طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ ہر شخص گبر سنگھ بنا پوچھ رہا ہے۔ ’’کتنے آدمی تھے؟‘‘ او بھائی رات کا وقت تھا بہت لوگ نظر آئے، گننے تھے تو مینار پاکستان کے گیٹ پر کوئی آلہ لگا دیتے جو جلسے کے شرکا کی تعداد بتا دیتا۔ وزیروں، مشیروں اور ترجمانوں کی متفقہ رائے جلسہ ناکام، اپوزیشن بے نقاب ،حال ہی میں اپوزیشن سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا بندے نہیں تھے جھنڈے تھے ایک آدمی کے ہاتھ میں دو دو جھندے، تعداد کا انہیں بھی نہیں پتا۔ پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے حلفیہ طور پر کہا کہ 20 سے 30 ہزار آدمی تھے۔ ’’جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا‘‘ ایجنسیوں نے 40 سے 50 ہزار بتائے۔ خواجہ آصف اور سعد رفیق سیاست کی دیگ کے پرانے چاول ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں مینار پاکستان پر اتنا بڑا اجتماع نہیں دیکھا۔

مریم نواز نے محنت کی تھی۔ شرکا کم ہوتے تو وہ ہرگز نہ کہتیں۔ ’’اللہ دی قسمے لاہوریو تسی خوش کردتا اے‘‘ سب کے اپنے تبصرے لیکن ایک تجزیہ کار کا تجزیہ قرین قیاس لگا کہ لاہور کا جلسہ سپرہٹ تھا نہ سپر فلاپ، آگے چلیں۔ جلسہ کے بعد کیا ہو رہا ہے کیا ہوگا؟ مریم نواز کا آریا پار، بلاول کی دھاڑ، مولانا کی للکار، عمران خان کا این آر او دینے سے انکار، وزارت عظمیٰ پر برقرار تاہم مذاکرات پر سوچ بچار، شبلی فراز نے کہا اپوزیشن والے آر ہوئے نہ پار بس خوار، سیاست کا کھیل دلچسپ ہوتا جا رہا ہے۔ سب اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں۔ سیاست ہے یا شطرنج کا کھیل، اتنے پیادے شہ کو بچانے میں مصروف، اپوزیشن شہ مات کے لیے دن رات سر گرم، انتقامی سیاست بمقابلہ انتشاری سیاست، آپا فردوس نے کہا جس جس نے میوزک بینڈ بجایا اس کا بینڈ بجے گا  بری بات ، خاتون کے منہ سے اچھی  نہیں لگی، گرائونڈ کے تالے توڑے گملے تہس نہس کیے۔ اصل جرم بغیر حکم شاہی جلسہ کیا۔

ن لیگی لیڈروں سمیت 39 افراد کے خلاف مقدمات، مقدمات بن رہے ہیں۔ مقدمات بڑھ رہے ہیں۔ فرمایا۔ ’’میرے دور میں کوئی مقدمہ نہیں بنا‘‘ یہ کس کا دور ہے؟ غالب اپنے دور میں اسی قسم کی صورتحال سے صدمہ میں تھے۔ ’’کیا یہ نمرود کی خدائی تھی۔ بندگی میں میرا بھلا نہ ہوا‘‘ خدا کے لہجے میں خاک کے پتلے کی گفتگو العیاذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ معاف کرے، لاہور جلسہ کے بعد طویل وقفہ، تحریکوں میں اتنے طویل وقفے زور کم کردیتے ہیں۔ تاہم اس دوران شہر شہر ریلیوں کا پروگرام، بقول حضرت علامہؒ’’ نچلا تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا، یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک‘‘، ریلیاں چین سے نہیں بیٹھنے دیں گی۔ مزید مقدمات درج ہوں گے۔ دفتر تمام غرق برآب، اپوزیشن خوفزدہ نہیں، لیکن کمال ہے۔ موجودہ تحریک سے حکومت کو بھی کوئی خطرہ نہیں۔ کہتے ہیں کوئی دبائو بھی نہیں۔ دونوں اپنے اپنے گھر سکھی، سارا دبائو عوام پر ایسی حکومت کو برداشت کر رہے ہیں جو ہر مہینے اشیائے صرف کی قیمتیں بڑھاتی چلی جاتی ہے۔ 70 سالوں میں کبھی سنا کہ ادرک ایک ہزار روپے کلو تک جا پہنچا۔ ڈالر 160 سونا ایک لاکھ سے زائد سبزیوں کی قیمتیں آسمان اول پر جاپہنچیں۔ سستی سبزی آلو ٹماٹر کے لیے فرشتوں کی منت سماجت جواب دیا۔ اسی لیے تخلیق پر اعتراض کیا تھا۔ اب بھلائی اور نیکی پھیلانے والوں کو ڈھونڈو، چراغ رخ زیبا لے کر بھی نہیں ملیں گے۔

اس سب کے باوجود تھوڑا سا تلخ سچ بول لیا جائے۔ حکومت دبائو میں ہے لیکن اسے کوئی خطرہ نہیں۔ کیسے پتا چلا؟ موسمی پرندوں کی ہجرت شروع نہیں ہوئی۔ جنوبی پنجاب کے سارے ’’موسمی پرندے‘‘ ابھی تک اپنے گھونسلوں میں آرام و سکون سے بیٹھے ہیں۔ یہ اپنے پرانے گھونسلے چھوڑ کر موسم بہار کی رنگینیوں اور بلبل خوش نوا کے نغمے سننے کے لیے راتوں رات ادھر آگئے تھے۔ ڈھائی تین سال بعد بھی واپسی کی کوئی بے چینی نظر نہیں آرہی۔ موسمی پرندوں نے اڑان بھری تو موسم بہار کی آمد آمد ہو گی۔ چنانچہ دھیرج رکھیے راوی چاروں کھونٹ چین لکھ رہا ہے۔ حکومت ابھی تک قائم و دائم ہے۔ حمایت و تعاون ما شاء اللہ ابھی تک برقرار ہے اور امکان غالب ہے کہ یہی شب و روز رہے۔ سورج اسی طرح مشرق سے طلوع اور مغرب میں غروب ہوتا رہا تو تبدیلی کا امکان خدا معلوم، محرومیاں بدستور رہیں گی۔ موسم بدلے رت گدرائے تو بات بنے۔ لاہور جلسے کے بعد استعفیٰ اور لانگ مارچ ٹاک آف دی ٹائون بن گئے۔

سینیٹ انتخابات موضوع بحث، مولانا فضل الرحمان سے شاید ٹیکنیکل غلطی ہوگئی۔ انہوں نے بھری بزم میں راز کی بات کہہ کر سوئے ہوئوں کو جگا دیا۔ جنوری کے آخر یا فروری کے آغاز میں لانگ مارچ کا اعلان سارے ماہرین قانون تو اسلام آباد میں بیٹھے ہیں۔ ہر دور میں کوئی نہ کوئی شریف الدین پیر زادہ ’’نئے نویلوں‘‘ کی مدد کے لیے تیار ہوتا ہے۔ ’’علم دیاں گلاں منشی علم دین جاندا اے‘‘ بابر اعوان سے زیادہ آئین میں سے اپنے مطلب کا ’’عطر‘‘ کشید کرنے کا فن اور کون جانتا ہے ان کے علاوہ فروغ نسیم ہیں نعیم بخاری ہیں، بڑے بڑے ماہرین قانون۔ انہوں نے فورا مشورہ دیا سینیٹ کے انتخاب فروری میں کرادیں۔ 12 مارچ رات  12 بجے تک موجودہ سینیٹ برقرار۔

حکومت پہلے ہی انتخاب کیلئے سرگرم، اطلاعات کے مطابق سینیٹ انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کی نشستیں 55اور اپوزیشن کی49 رہ جائیں گی، وفاقی دارالحکومت سے ن لیگ کا صفایا ہو جائیگا۔حکومت اکثریت حاصل کرنے کے بعد وہ وہ قانون بنائیگی کہ رہے نام سائیں کا، رضا ربانی نے کہا ایسا نہیں ہوسکتا۔ سپریم کورٹ آئین کی تشریح کرسکتی ہے۔ ترمیم نہیں۔ ثناء اللہ بلوچ کے مطابق سینیٹ کے قبل از وقت انتخابات کیلئے آئین میں پانچ ترامیم کرنی پڑیں گی۔ ملک میں ایسی کوئی ایمرجنسی نہیں کہ الیکشن کمیشن قبل از وقت انتخاب کرائے۔ الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد نے بھی برملا کہا کہ کسی صدارتی آرڈی نینس سے قبل از وقت سینیٹ انتخابات نہیں ہوسکتے۔ قانونی موشگافیوں اور مریم نواز کی سیاسی دھمکیاں اپنی جگہ سینیٹ انتخاب ہوگئے تو کیا کریں گے اسی لیے بزرگوں نے کہا تھا کہ کچھ راز اپنے سینے میں دفن رکھو، افشاء کرو گے تو نقصان ہوگا۔ استعفوں اور لانگ مارچ کے معاملات پی ڈی ایم کا ’’سیکرٹ‘‘ تھے اب اوپن سیکرٹ ہوگئے۔

حکومت نے جوابی حکمت عملی تیار کرلی۔ شیخ رشید نے خوشی سے ’’نڈھال‘‘ ہوتے ہوئے اعلان کیا کہ سینیٹ الیکشن مارچ کی بجائے فروری میں ہوں گے۔ روک سکو تو روک لو، اپوزیشن کی ساری منصوبہ بندی دھری رہ گئی۔ یاروں نے استعفوں کے بارے میں بھی جوابی حکمت عملی تیار کرلی۔ اپوزیشن شوق سے استعفے دے منظور ہی نہیں ہوں گے۔ منظوری ہوگی تو نشست خالی قرار دی جائے گی نا۔ لیکن منظوری کیلئے کوئی میعاد متعین نہیں۔ 2014-15ء میں مثال موجود جب اسپیکر نے کئی مہینوں تک استعفوں کی منظوری کے عمل کو طول دیا تھا اور تحریک انصاف کے 30ارکان طویل عرصہ تک استعفوں کی منظوری کا انتظار کرتے رہے تھے۔ رکن اسمبلی کا استعفیٰ فوری طور پر منظور نہیں ہوتا اسپیکر کم و بیش 12 شرائط پوری ہونے کے بعد منظور کرتا ہے۔ کتنا عرصہ لگے گا۔ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ استعفے 6 ماہ تک رو کے جاسکتے ہیں۔ کوئی بتائے پی ڈی ایم کی حکومت سے تنگ جماعتیں اس عرصہ میں کیا کریں گی۔ سیاست آج کل 5 لفظوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ الیکشن، لانگ مارچ، استعفے، ایٹم بم، پھلجھڑی، الیکشن کا پتا نہیں۔ لانگ مارچ دور ہے استعفے ابھی تک موصول نہیں ہوئے۔ ن لیگ کے بدکے ہوئے گھوڑے دیں نہ دیں کی سوچوں میں گم ہیں۔ بلاول نے استعفوں کو ایٹم بم قرار دیا۔

شیخ رشید نے پھلجھڑی کہہ کر فیوز نکال دیا۔ ایٹم بم ناکارہ، اپوزیشن نے مذاکرات کے دروازے بند کردیے حکومت مذاکرات کا کہہ کر مکر گئی۔ یوٹرن عظیم لیڈروں کا خاصہ ہے۔ سیاست بند گلی کی طرف جا رہی ہے۔ مریم نواز لاہور جلسے میں 5 لاکھ افراد لانا چاہتی تھیں۔ اتنے لوگ آجاتے تو واقعی انقلاب آجاتا، ایک آدھ لاکھ پر ہی مطمئن ہو گئیں، لانگ مارچ میں کتنے شریک ہوں گے؟ تنظیمی کمزوریاں آڑے آرہی ہیں۔ جنوری میں ریلیاں کامیابی سے مشروط ریلیوں میں لوگ گھروں سے نکلے تو بلاول کا دمادم مست قلندر ہوگا حکم دینے والے ابھی تک چپ، ماحول اور موقع کی مناسبت سے ہی خاموشی کا طلسم ٹوٹے گا فی الحال تمام حکومتی وزیر، مشیر، ترجمان اور خود وزیراعظم صورتحال سے مطمئن ہیں۔ لاہور جلسے میں دھواں دھار تقریروں کے وقت وہ اپنے پالتو کتوں کو کھانا کھلاتے رہے۔ گبر سنگھ نے پھر پوچھا’’ کتنے کتے ہیں؟‘‘ جتنے بھی ہیں خوش قسمت ہیں پیٹ بھر کے کھانا تو ملتا ہے۔ سچ ہے ’’کسی کا کتا تو کھائے ربڑی کسی کو فاقہ ستا رہا ہے‘‘ ساری باتیں درست سیاست میں اطمینان کسے ہوتا ہے سارے غیر مطمئن مریم نواز اور بلاول کو حکومت جانے کا یقین لیکن پھر وہی سوال تمام تر جدوجہد کے باوجود حکومت نہ گئی تو کیا ہوگا؟


ای پیپر