Pakistan, Politics, Senate, 2021 elections, PPP, PML-N, PTI
21 دسمبر 2020 (12:27) 2020-12-21

سینیٹ انتخابات کی آمد آمد ہے اور شنید ہے کہ 2021 میں ایوان بالا میں اکثریت نئے چہروں پر مشتمل ہو گی عددی لحاظ سے اقلیتی پارٹی اکثریت میں بدل جائے گی اور اکثریت اقلیت میں۔ آئندہ سال مارچ میں ہونے والے سینیٹ الیکشن کے دوران 103 کے ایوان میں سے 52 سینیٹرز ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔

2021 کے سینیٹ میں پہنچنے کے لیے سیاسی رہنماؤں نے ابھی سے تگ و دو شروع کر دی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ سینیٹرز کی اکثریت شاید ایوان میں اپنی جگہ نہ بنا سکے۔ اس کی ایک وجہ تو ان پارٹیوں کی الیکٹورل کالج میں پارٹی کی عددی اکثریت اور دوسرا لیڈرشپ کا اعتماد ہے۔ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے اکثر ریٹائر ہونے والے سینیٹرز شاید پارٹی کا اعتماد دوبارہ حاصل نہ کر سکیں۔ اس کی بڑی وجہ موجودہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد میں خفیہ رائے شماری میں پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ کا استعمال ہے جس کے باعث اکثریت میں ہونے کے باوجود بھی اپوزیشن کو اس تحریک میں شکست ہوئی۔ یقیناً متحدہ اپوزیشن کو شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑا اور ہر جماعت نے باغی اراکین کی نشاندہی کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی بنائی تھی جس کی رپورٹ اس وقت بوجوہ عام نہ کی گئی۔ اب اسی رپورٹ کی روشنی میں ان سینیٹرز کو آئندہ کے لیے اعتماد کے قابل نہیں سمجھا جا رہا اور اس میں بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ یہ نہیں کہ پارٹی پالیسی سے بغاوت کرنے والے صرف ریٹائرڈ سینیٹرز تھے اس میں وہ سینیٹرز بھی ہیں جو سینیٹ کے آئندہ انتخابات میں ریٹائر ہوں گے۔ لیکن سیاسی جماعتیں مزید ہزیمت کے ڈر سے ان باغی سینیٹرز کے خلاف ایکشن نہیں لیتیں۔

11 مارچ 2021 کو اپنی 6 سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہونے والے 65 فیصد سے زائد سینیٹرز کا تعلق اپوزیشن جماعتوں سے ہے۔ نمائندگی کے حساب سے دیکھیں تو ایوان بالا میں پاکستان مسلم لیگ ن کے 57 فیصد اراکین 6 سالہ مدت پوری کر کے آئندہ برس مارچ میں ریٹائر ہو رہے ہیں ان میں 34 کا تعلق اپوزیشن جماعتوں جبکہ 18 حکومت اور اس کے اتحادیوں سے ہے۔ ان میں مسلم لیگ (ن) کے سب سے زیادہ سترہ جبکہ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے سات سات سینیٹرز شامل ہیں۔ بی این پی مینگل اور اے این پی کی نمائندگی ختم ہو جائے گی۔ مسلم لیگ ن کے پنجاب سے 11، اسلام آباد، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے دو، دو سینیٹرز ریٹائر ہوں گے۔ مسلم لیگ ن کے ریٹائر ہونے والے سینیٹرز میں اپوزیشن لیڈر راجا ظفر الحق، مشاہد اللہ خان، پرویز رشید، جاوید عباسی، عبدالقیوم، پروفیسر ساجد میر، سلیم ضیاء، کلثوم پروین شامل ہیں۔ شنید ہے کہ راجہ ظفر الحق، پرویز رشید، مشاہداللہ خان اور پروفیسر ساجد میر کی واپسی یقینی ہے۔

پیپلزپارٹی کے کل19 سینیٹرز ہیں جن کا تعلق سندھ سے ہے۔ ریٹائر ہونے والوں میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا، شیری رحمان، رحمان ملک، فاروق ایچ نائیک، سسی پلیجو شامل ہیں۔ ان میں سلیم مانڈوی والا شیری رحمان اور فاروق ایچ نائیک کی واپسی یقینی کہی جا رہی ہے۔

حکمران جماعت کے سینیٹرز کی موجودہ تعداد 14 ہے جبکہ ریٹائر ہونے والے تمام سینیٹرز کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔ ان میں ممتاز نام وزیر اطلاعات شبلی فراز، محسن عزیز اور نعمان وزیر شامل ہیں۔ دونوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ آئندہ سینیٹ میں وہ اپنی جگہ بنا لیں گے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے 5 میں سے 4 سینیٹرز عتیق شیخ، خوش بخت شجاعت، بیرسٹر محمد علی سیف اور نگہت مرزا ریٹائر ہو جائیں گے۔ ان میں سے شاید کوئی بھی اپنی جگہ نہ بنا سکے البتہ بیرسٹر محمد علی سیف اپنی ’’خدمات‘‘ کے پیش نظر امید سے ہیں۔ جہاں تک ایم کیو ایم کا تعق ہے تو اس وقت سندھ اسمبلی میں پچھلے تین سال کی نسبت عددی حیثیت بھی کم ہو گئی ہے اس لحاظ سے ان کے کوٹے میں سینیٹ کی چند سیٹیں ہی آئیں گی لیکن اگر یہ سندھ اسمبلی میں جی ڈی اے اور پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کر کے منصوبہ بندی سے الیکشن لڑیں تو ایک آدھ سیٹ اپنے عددی کوٹے سے زیادہ لے سکتی ہیں۔

11 مارچ 2021 کو ریٹائر ہونے والے دیگر سینیٹرز کے نام یہ ہیں: مسلم لیگ (ن) کے آغا شہباز درانی، عائشہ رضا فاروق، چودھری تنویر خان، اسد اشرف، غوث محمد نیازی، کلثوم پروین، لیفٹیننٹ جنرل (ر) صلاح الدین ترمذی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم، جاوید عباسی، نجمہ حمید، پروفیسر ساجد میر، راحیلہ مگسی، سلیم ضیا، سردار یعقوب ، پاکستان پیپلزپارٹی کے اسلام الدین شیخ، سسی پلیجو، گیان چند اور میر یوسف بادینی، پی ٹی آئی کے بریگیڈیئر (ر) جوہن کیتھ ویلیمز، لیاقت ترکئی اور ذیشان خانزادہ، ایم کیو ایم کی نگہت مرزا، بی اے پی کے سرفراز بگٹی، منظور احمد اور خالد بزنجو، پی کے میپ کی گل بشرا، نیشنل پارٹی کے اشوک کمار اور میر کبیر شاہی، بی ایم پی مینگل کے ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی شامل ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے 4 میں سے دو سینیٹر عبدالغفور حیدری اور مولانا عطا الرحمان ریٹائر ہوں گے۔ غفور حیدری صاحب کی سینیٹ میں واپسی یقینی بتائی جا رہی ہے۔

جماعت اسلامی کے دو میں سے ایک، امیر جماعت اسلامی سراج الحق ریٹائر ہوں گے۔ بی اے پی کے 9 میں سے تین سینیٹرز، بی این پی مینگل کے واحد سینیٹر جہانزیب جمالدینی اور اے این پی کی اکلوتی سینیٹر ستارہ ایاز بھی ریٹائر ہو جائیں گی۔ فاٹا سے آزاد امیدواروں میں اورنگزیب خان، مومن خان آفریدی، سجاد حسین توری اور تاج محمد آفریدی ریٹائر ہوں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے سینیٹ کے انتخابات فروری میں کرانے کا اعلان کر رکھا ہے اور دوسری طرف اپوزیشن نے سینیٹ کے الیکٹورل کالج سے اجتماعی استعفوں کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔ لیکن بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ سینیٹ انتخابات وقت پر ہو جائیں گے کیونکہ اپوزیشن کا سینیٹ کے الیکٹورل کالج یعنی قومی و صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں کے اعلان پر ابھی تک قابل ذکر پیش رفت نظر نہیں آ رہی اور حالات بتا رہے ہیں کہ اپوزیشن اور حکومت کا نیا سیاسی ملاکھڑا سینیٹ کے 2021 کے انتخابات ہی ہوں گے۔


ای پیپر