Turkish president, Tayyip Erdogan, golden days
21 دسمبر 2020 (12:08) 2020-12-21

اگست 2014ء میں ترکی میں قیام کے دوران صدر عبداللہ گل سے ملاقات کا مجھے موقع ملا جو کہ ان کی مدت صدارت کے آخری ایام تھے۔ سابق ترکش صدر انتہائی ملنسار طبیعت کے مالک ہیں، بطور صدر جب بھی ان سے ملاقات کا مجھے موقع ملا، انہوں نے ہمیشہ دوستوں کی طرح خیرمقدم کیا۔ اس عرصہ کے دوران صدر طیب اردوان اور ان کے وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو سے ملاقات کیلئے میں اور دیگر ساتھی صحافیوں نے کئی مرتبہ انقرہ اور استنبول قیام کیا۔ ہمارا مقصد خطے سے متعلق ترکی کی پالیسی کو سمجھنا تھا۔ صدر عبداللہ گل کے ساتھ بات چیت کے دوران میں نے ان سے شام کے بحران پر گفتگو کی، جو کہ ان دنوں خطے کا ایک سنگین مسئلہ تھا۔ عبداللہ گل نے طیب اردوان کی خارجہ پالیسی اور ان کیساتھ اپنے ذاتی مراسم پر بات کرنے سے گریز کیا۔ جب میں نے ان سے جانے کی اجازت مانگی تو انہوں نے کہا: ’’کچھ بھی ہو، سخت لہجے سے مسائل حل نہیں ہوتے، بھلے وہ داخلی مسائل ہوں یا پھر خارجی‘‘۔ ان کا مطلب بڑا صاف تھا، انہوں نے نشاندہی کر دی تھی کہ طیب اردوان خارجی امور کو کیسے ڈیل کر رہے ہیں۔

ستمبر 2017ء میں مجھے عراقی کردستان جانے کا موقع ملا، جس میں اربیل کے انسداد دہشت گردی ہیڈکوارٹرز کا مجھے خصوصی دورہ کرایا گیا۔ وہاں میری داعش کے متعدد قیدیوں سے ملاقات ہوئی، ان میں بعض کا تعلق چین، قازقستان اور امریکا سے تھا۔ ان سب نے ایک جیسی ہی کہانی سنائی، وہ کیسے پہلے ترکی پہنچے جہاں سے انہیں داعش کی نام نہاد خلافت کے زیر انتظام علاقے میں پہنچا دیا گیا۔ بشار الاسد حکومت کا تختہ الٹنے کا بہانہ بنا کر جس طرح ترکی نے اپنی سرحدیں غیر ملکی جنگجوؤں کیلئے کھول رکھی تھیں، وہ دراصل آگ کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ صدر طیب اردوان کو اس وقت یہ احساس ہی نہیں ہوا ہو گا کہ ایسا کر کے وہ دراصل روسی صدر ولادی میر پوتن کا بھلا کر رہے ہیں، کہ اس طرح روسی رہنما کو موقع ملے گا کہ انتہاپسندوں کے ساتھ روس اور اپنے ملکوں کی سرزمین پر لڑنے کے بجائے انہیں شام میں ختم کر دیں۔

اپنے سنہری دنوں میں تیزی سے پھلتی پھولتی ترکش معیشت نے صدر طیب اردوان کو خوب سیاسی فائدہ پہنچایا، جب مغربی طاقتوں میں یہ تاثر عام ہو گیا کہ ترکی اسلامی دنیا اور جدید عالمی اقدار کے مابین ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ انقرہ بھی یہ گمان کرنے لگ گیا تھا کہ دنیا کے کسی بھی فریق سے بات کر سکتا ہے، اس نے ایران کے توسیع پسندانہ ایجنڈے کو بھی نظر انداز کیا، کیونکہ انقرہ کی نظر میں ایران کوئی حریف یا دشمن نہیں بلکہ اس کے ساتھ تعلق کی نوعیت مسابقت سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس دوران شام کی بدلتی صورتحال طیب اردوان کے عزائم میں رکاوٹ بن گئی۔ روس کی فوجی مداخلت نے بشارالاسد کی حکمرانی پر تصدیق کی مہر ثبت کر دی۔ اس پیش رفت نے کرد جنگجوؤں کو اپنی سرحدوں سے دور رکھنے کے ترکش اہداف کو بُری طرح متاثر کیا۔ انقرہ کو اس وقت ماسکو سے معافی مانگنا پڑی جب روسی جنگی طیارہ گرانے پر روس نے سخت ردعمل دیا۔ تاہم اس سے قبل نیٹو رکن ترکی روس کا ایس 400 میزائل ڈیفنس سسٹم خرید چکا تھا۔اس ڈیل پر امریکا نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ ماسکو نے خاموشی کیساتھ ترکی امریکا تعلقات میں دراڑ پیدا کر دی تھی، یہاں تک کہ واشنگٹن نیٹو کے ساتھ طیب اردوان کی وفاداری کو بھی شک کی نظر دیکھ رہا تھا۔

ترکی اس وقت ایک دوراہے پر کھڑا ہے، انقرہ نے کبھی امریکا اور نیٹو کیساتھ کئے گئے وعدؤں کی پاسداری کی ہے نہ ہی روس کے ساتھ نئے وعدے پورے کر رہا ہے۔ مناسب قیمت ادا نہ کرنے پر شامی پناہ گزینوں کا راستہ کھولنے دھمکیاں دے کر یورپ کے ساتھ بھی تعلقات خراب کر چکا ہے۔ مسائل کو حل کرنے کا یہ کوئی طریقہ نہیں۔ دوسری جانب ترک معیشت بھی مصائب کا شکار ہے، ترک کرنسی لیرا غیر معمولی طور پر کمزور ہو چکی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم گر چکا ہے۔ طیب اردوان نے نام نہاد گولن بغاوت کے خلاف ایک انتقام پسند پالیسی اختیار کی ہوئی ہے، فوج کو گولن کے حامیوں سے پاک کرنے کے بعد انہوں نے عدلیہ، تعلیمی اداروں اور انتظامیہ کو بھی ایسے عناصر سے پاک کرنے کی مہم شروع کر دی تھی۔ اس عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ اردوان لوگوں کا اعتماد کھونے لگے 


ای پیپر