عمل … ردعمل
21 دسمبر 2019 2019-12-21

معروف برطانوی سائنسدان سر آئزک نیوٹن کا شہرۂ آفاق کلیہ عمل اور ردعمل برابر ہوتے ہیں، لمبی چوڑی وضاحت کا محتاج نہیں… اس سے بہت قبل اسلام کے معاشرتی اصولوں میں اسے وسیع معنوں کے اندر مکافات عمل سے تعبیر کیا گیا ہے… اس کلیے کو ایک عالمی سچائی کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور جدید سائنسی دنیا کی بنیادوں اور دیواروں میں اس کی روح پوری طرح کارفرما دکھائی دیتی ہے… عملی دنیا میں بھی اس کی اطلاقی حقیقت صبح و شام اظہار پاتی ہے… سابق ڈکٹیٹر اور دو مرتبہ آئین شکنی کے مرتکب 1999ء تا 2008ء والے پاکستان کے مرد آہن و مفرور حکمران جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف مقدمۂ بغاوت کا جو فیصلہ سامنے آیا ہے، اس نے ملک بھر کے اندر حق اور مخالفت میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے… آئین مملکت میں چونکہ آئین شکنی کی جسے غداری بھی کہا جاتا ہے حتمی سزا پھانسی قرار دی گئی ہے… اس لیے اس سزا کے اعلان پر بجائے خود ماسوائے طاقتور طبقے کے زیادہ اوراصولی اعتراض سامنے نہیں آیا مگر فیصلے کے پیرا گراف نمبر 66 میں خصوصی عدالت کے سربراہ اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب وقار احمد سیٹھ نے جو یہ لکھ دیا ہے جنرل مشرف اگر سزا پانے سے پہلے بیرون ملک مر جائیں تو ان کی لاش کو واپس لایا جائے اور گھسیٹ کر اسلام آباد کے ڈی چوک پر لٹکا دیا جائے… اس پر ایک طوفان کھڑا ہو گیا ہے… یہ خاص الفاظ 3 میں سے ایک یعنی اقلیتی جج کے فیصلے میں رقم کیے گئے ہیں لہٰذا عمل نہیں ہو پائے گا لیکن اس میں الفاظ اور اظہار کی جو شدت پائی جاتی ہے ہمارے آئین شکنوں میں سے واحد زندہ شخصیت کے بارے میں جس نفرت کا اظہار کیا گیا ہے، اس پر ان کے اپنے ادارے سمیت ملک بھر میں سخت انقباض کا اظہار ہوا ہے… بات اصولی اور اخلاقی طور پر درست ہے… لاش کی خواہ کتنے بڑے مجرم کی ہو سرعام بے حرمتی کی اجازت آج کی دنیا کا مسلمہ اخلاق دیتا ہے نہ دین حق یعنی اسلام کی واضح تعلیمات اس پر صاد کرتی ہیں… مگر یہ فیصلے کا جزوی پہلو ہے… اصل فیصلہ آئین شکنی یا سنگین غداری کے مرتکب کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے سزائے موت دینا ہے جو خصوصی عدالت کے تین میں سے دو ججوں نے صادر کیا ہے… تاہم یہ سوال بآواز بلند اُٹھایا جا رہا ہے ایک جج صاحب کی جانب سے سزا کا اعلان جن وحشت زدہ الفاظ کے لباس میں قوم کے سامنے آیا ہے، اس کا سبب کیا ہے اور ایک ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے اس معاملے میں ضروری احتیاط سے کام کیوں نہیں لیا… ظاہر ہے اس کی وضاحت تو خود محترم جج صاحب پیش کرسکتے ہیں اور حقیقی جج وہ ہوتا ہے جو صرف اپنے فیصلوں میں بولتا ہے… اٹھتے بیٹھتے تشریحات یا وضاحتیں جاری نہیں کرتا…جسٹس وقار احمد سیٹھ نے برطانوی ڈکٹیٹر اولیور کرامویل کی لاش کو سرِ عام لٹکا دینے کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی جانب سے پرزور استدلال بھی پیش فرمایا ہے… لیکن یہ دو اڑھائی صدی پرانی بات ہے آج کا عہد اور اس میں بسنے والا انسان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا… کیا یہ بات بھی جناب جسٹس سے چھپی ہوئی تھی وہ کس دور میں جی رہے ہیں… اس نکتے پر بھی وہ خود روشنی ڈال سکتے ہیں لیکن اس سوال سے اغماض نہیں کیا جا سکتا… انہوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے تو یہ کس عمل کا شاخسانہ ہے… ہماری اعلیٰ عدالتیں تاریخ پاکستان کے آغاز کے سالوں سے سخت دباؤ کا شکار رہی ہے… اس دباؤ میں آ کر بڑے بڑے نامور ججوں نے ایسے فیصلے صادر کیے جو طالع آزماؤں کے بہت کام آئے… ان کے ذریعے ڈکٹیٹروں کے ہاتھوں آئین کو غصب کرنے اور ملک پر لمبے لمبے عرصے کے لیے فرد واحد کی حکمرانی کو سند جواز بھی عطا کی گئی ہے ان فیصلوں نے پاکستان کی تاریخ کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے… آئین کو چلنے نہ دیا، جمہوریت کو پنپنے نہ دیا، عوام کی منتخب حکومتیں جائز مدت پوری کرنے کے قابل نہ رہتی تھیں… سیاستدانوں کو سخت سے سخت تر سزائیں دی گئیں… تو کیا جسٹس وقار احمد سیٹھ کی جانب سے اسی پر برابر کا ردعمل دکھایا گیا ہے۔

آمریتوں اور اعلیٰ عدلیہ کے مابین غیر علانیہ گٹھ جوڑ کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہی عدالتوں کے ذریعے ایک منتخب وزیراعظم کو قتل کے جرم میں معاونت کے الزام میں سات میں سے چار ججوں کے فیصلے پر تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا… آئین پاکستان میں اگرچہ دفع 6 شامل ہو چکی تھی اور دستور شکنی High treason قرار پا چکی تھی… اس کا ترجمہ خواہ دستور مملکت سے بغاوت قرار دے دیجیے یا سنگین غداری کا نام دے دیجیے، حتمی سزا بہرصورت پھانسی ہے… اس کے باوجود مارشل لاؤں کا سلسلہ نہ رک پایا اور غاصب صاحب لوگ پاکستان کے جمہوری اداروں اور منتخب حکومتوں کا شکار کرتے رہے… آئین شکنی کی دفعہ 6 کو غیر مؤثر بنانے کے لیے ایک نامور وکیل شریف الدین پیرزادہ کی خدمات حاصل کی گئیں، جس نے مشورہ دیا دستور کو توڑیے مت، معطل کر دیجیے یا سرد خانے میں رکھ دیجیے… مطلب وہی تھا کہ اس پر عمل درآمد کو پوری طرح روک دیجیے بے معنی دستاویز بنا کر رکھ دیجیے… ایوب و یحییٰ خان کی مانند اسلامی جمہوریہ پاکستان پر من مرضی کا اقتدار مسلط کر لیجیے… ہماری اعلیٰ عدالتوں سے جس طرح آلہ کار کا کام لیا گیا، اس کے پیش نظر اس طرح کی قانونی توثیق حاصل کرنا چنداں مشکل نہ تھا لہٰذا جسٹس انوار الحق اور ان کے بعد جسٹس ارشاد حسن نے بالترتیب جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کو اپنے پیشرو جسٹس محمد منیر کی مانند بدنام زمانہ نظریۂ ضرورت کی مدد فراہم کرنے میں دیر نہ کی… پھر جیسا کہ سب جانتے ہیں 2007ء میں عدلیہ کی زبردست تحریک چلی… اس نے ہمارے نظم مملکت اور امور ریاست پر گہرے اثرات مرتب کیے… عدلیہ نے خوب انگڑائی لی… خیال تھا آئندہ حصول انصاف کا یہ عظیم ادارہ اپنی حرمت اور آزادی پر حرف نہیں آنے دے گا… 2010ء میں 18 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے یہ بات بھی ہمیشہ کے لیے طے کر دی گئی کہ کتاب آئین کو بزور طاقت اٹھا باہرپھینکنا یا اسے طاق نسیان میں رکھ دینا ایک ہی نوعیت کا جرم ہے جس کی سزا دستور کی دفعہ 6 میں درج ہے… ڈکٹیٹر مشرف جا چکا تھا مگر پیچھے اپنا ورثہ چھوڑ گیا… چیف جسٹس ثاقب نثار کی باری آئی تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج شوکت ترین نے راولپنڈی بار کے اجلاس میں کھڑے ہو کر برملا کہا بالائی دنیا کی جانب سے اعلیٰ عدالت کے ججوں کے کانوں میں یہاں تک سرگوشی کی جاتی ہے فلاں مقدمے کی سماعت کے لیے بنچ کی اس طرح کی تشکیل کرو، اس طرح نہ کرو… یہ بھی ارشاد فرما دیا جاتا ہے کہ ہمیں کیسا فیصلہ مطلوب ہے اور پھر فیض آباد دھرنے کے حوالے سے ایک جرأتمندانہ فیصلہ دینے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جو درگت اب تک بنائی جا رہی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں… عدلیہ کی آزادی کو سلب کرنے اور مرضی کے فیصلے حاصل کرنے کی تاریخ لمبی اور کئی مثالوں سے بھری پڑی ہے… اب اس عمل کا ردعمل سامنے آیا ہے… سلسلہ مکافات عمل نے ہلکی سی جھلک دکھائی ہے… ایک جج صاحب کے ضمیر نے ایسی انگڑائی لی ہے کہ ہر باشعور اور باضمیر پاکستانی ششدر ہو کر رہ گیا ہے… آئین شکنی کا جرم ثابت ہوتا ہے تو پھانسی کی سزا ضرور ملنی چاہیے لیکن لاش کو گھسیٹ کر لانا اور ڈی چوک میں تین دن کے لیے لٹکائے رکھنا ایسا فعل ہے جس کی اجازت دی نہیں جا سکتی… مگر جس 60 ، 65 سالہ عمل کا یہ ردعمل دیکھنے کو ملا ہے، کیا اس کی اجازت دی جا سکتی تھی یا یہ سارا کچھ گوارا کیا جا سکتا تھا… آپ خصوصی عدالت کے سربراہ اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب وقار احمد سیٹھ کے سخت ترین الفاظ اور شدت بیان کے مظہر پیرایۂ اظہار پر ضرور تنقید کیجیے لیکن ان طالع آزماؤں اور ججوں کے بارے میں کیا فرمائیے گا جو ملی بھگت سے یا بوٹوں والوں کے دباؤ میں آ کر معاملات کو یہاں تک لے آئے کہ زیر بحث فیصلے میں اسی قدر شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے جس پر جنرل مشرف کا ادارہ تو اپنی جگہ بڑے بڑے صاحبان ضمیر کا غصہ بھی دیدنی ہے مگر ایک حرف مملکت خداداد کی اس بدقسمت آئینی و عدالتی تاریخ کے بارے میں بھی ارشاد فرما دیجیے… جس کی کوکھ سے جج وقار احمد سیٹھ کے فیصلے نے جنم لیا ہے…

اگر 1971ء میں پاکستان دو لخت نہ ہوتا… اگر وقت کے فوجی جرنیل کی سربراہی میں لڑنے والی سپاہ بھارتی کمان کے سامنے ہتھیار نہ ڈالتی… اگر پے در پے دو مارشل لاؤں میں پاکستان کی قسمت کے ساتھ کھلواڑ نہ ہوتا … اگر ایوب خان نے ملک کے اقتدار پر فوری قبضے کے بعد امریکہ کو خفیہ ہوائی فوجی اڈے نہ دے دیئے ہوتے … اگر جسٹس محمد منیر نے اس غاصب کی حکمرانی کو نظریۂ ضرورت کا لبادہ پہنا کر قانون کی نگاہ میں قابل قبول نہ بنایا ہوتا… اگر جنرل یحییٰ نے ایوب خان کے نافذ کردہ 1962ء کے آئین ہی کو چلنے دیا ہوتا… اس کے تقاضے پورے کرتے ہوئے صدر مملکت (ایوب خان) کی سخت بیماری کی شکل میں قومی اسمبلی کے سپیکر عبدالغفار کو جن کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا قائم مقام صدر بننے دیا ہوتا، پھر 1970ء کے انتخابات مشرقی پاکستان کے سپوت کی نگرانی میں ہوتے تو شاید شیخ مجیب کے 6 نکات کی شکل میں وہ ردعمل نہ آتا جو 7 دسمبر 1970ء کی شام کو پہلے عام انتخابات کے نتائج میں دیکھنے کو ملا اور مشرقی پاکستان علیحدگی کی راہ پر چل نکلا… اس سے چند ماہ قبل ہمارے ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی والے حصے پر اس آپریشن کی ضرورت بھی شائد پیش نہ آتی جس کی تاک میں بھارت بیٹھا تھا اور مکتبی باہنی تیار کر رکھی تھی جو آپریشن والوں سے جا ٹکڑائی… یہ تھے وہ اور دوسرے تلخ ترین تجربات جن کے لگائے ہوئے کاری زخموں سے چور چور اور غم زدہ بقیہ پاکستانی قوم کے منتخب نمائندوںنے 1973ء کا آئین تیار کرتے وقت اس میں دفعہ 6 شامل کی اور واضح کیا آئندہ کوئی طالع آزما ایوب اور یحییٰ جیسی حرکت کرے گا تو موت کی سزا کے انجام کو پہنچے گا… مگر یار لوگ کب ڈرنے والے تھے… انہوں نے سابقہ تجربات کے پیش نظر ہماری اعلیٰ عدالتوں کو دوبارہ آلہ کار کے طور پر استعمال کیا… آج اس سب کا ردعمل بلاشبہ شدید تر ہے لیکن سر آئزک نیوٹن کے سائنسی کلیے اور سلسلہ مکافات عمل جیسی دینی و روحانی صداقت کے تحت برابر کا ہے… فیصلہ یقینا فوری طور پر نافذ العمل نہیں… اپیل کا مرحلہ باقی ہے… آئین اور قانون کا تقاضا ہے جنرل مشرف پہلے وطن لوٹ کر خود کو قانون کے حوالے کریں پھر عدالت عظمیٰ کے سامنے اپیل کی استدعا کریں لیکن وہ ایسا کرنے والا نہیں ہے… بیماری کا بہانہ آڑے آئے گا… چونکہ طاقتوروں سے تعلق رکھتا ہے، اسے لچک دی جائے گی کہ قانون میں تھوڑی بہت گنجائش پیدا کر کے اپنے وکیل کے ذریعے اپیل کی درخواست جمع کرا دے اور ارض پاکستان کے اعلیٰ ترین ججوں سے حتمی فیصلہ حاصل کرے… ہم کسی قسم کی رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں لیکن ایک آئین دوست اور جمہوریت پسند پاکستانی کی حیثیت سے راقم کی رائے ہے کیا اچھا ہو ہماری عدالت عظمیٰ نہایت درجہ منصفانہ اور متوازن فیصلے کے ذریعے نئی تاریخ رقم کرے… خصوصی عدالت کے فیصلے میں دی گئی اصل سزا یعنی موت برقرار رکھے لیکن اس میں لاش کی بے حرمتی کرتے ہوئے اسے ڈی چوک پرلٹکا دینے والا جو پہلو ہے، اسے ساقط کردے تاکہ آئین اور قانون کی بالادستی کا تصور بھی راسخ ہو اور کسی قسم کے غیر انسانی پہلو کا بھی پوری طرح اسقاط ہو جائے… یوں ہمارے انصاف کا شفاف ترین چہرہ اور توازن عمل چمک کر قوم اور دنیا کے سامنے آ جائے گا…


ای پیپر