تری نگاہ غلامانہ ہو تو کیا کہیے
21 دسمبر 2019 2019-12-21

بھونچکے عوام، بھونچکا پاکستان۔ یوٹرن کے ہاتھوں مسلسل دائروں کا سفر۔ دھوم دھڑکے کی یو این میں تقریر ہوئی۔ خوب ڈھول پیٹے گئے، بغلیں بجائی گئیں بہادری، حق گوئی کے ڈنکے بجے۔ مگر بہت جلد سبھی کچھ ہمیشہ کی طرح جھاگ بن کر بیٹھ گیا۔ ملائیشیا اور ترکی کے ساتھ مل کر کچھ نیا کرنے چلے تھے۔ وعدے بھی دعوے بھی، امیدیں بھی۔ جب سٹیج سج گیا تو ہمی سو گئے داستاں کہتے کہتے۔ لائن حاضر ہونا پڑا۔ خود جاتے جاتے وزیر خارجہ کا اعلان فرما دیا کانفرنس میں ملائیشیا جانے کا مگر ان کا بستر بھی باندھنے سے پہلے ہی کھولنا پڑ گیا کیونکہ این او سی ان کا بھی جاری نہ ہو سکا۔ اب باوجودیکہ پاکستان کی کشمیر پر تنہائی کا مداوا بھری دنیا میں ڈٹ کر ترکی اور ملائیشیا نے کیا تھا۔ بھارت کی ناراضی اور معاشی نقصان مہاتیر محمد نے انگیز کر کے جرأت مندانہ مؤقف اختیار کیا لیکن ہم احسان شناسی کا حق ادا کرنے کے لیے آزاد نہ تھے۔ کشمیر پر مشرق وسطیٰ میں افسوسناک سناٹا چھایا تھا۔ بلکہ مودی کی پذیرائی ہوتی رہی۔ ہماری اشک شوئی کو دو بول ہمدردی کے تو میسر نہ آئے۔ البتہ مودی کو ایوارڈ دینے والے ہاتھ نے وہی لال قالین ہمارے وزیراعظم کے لیے بچھا کر بحرینی اعلیٰ ایوارڈ سے انہیں بھی نواز دیا۔ جو ایوارڈ دیتے ہیں، بینک میں پیسہ ڈالتے ہیں پھر وہی ہمارے دوروں پر قدغن لگانے کا حق رکھتے ہیں۔ آئندہ اتنے یوٹرنوں کی گھمن گھیریوں کی شرمساری سے بچنے کا فارمولا یہ ہے کہ تقاریر، عزائم، وعدے اور دورے سعودی عرب، یو اے ای (امریکی اتحادی) اور ایمپائروں سے چیک پاس کروا لیا کریں۔ قوم چکرا کر رہ گئی ہے۔

یہ تو سیاسی ، بین الاقوامی محاذ پر ایک خارجہ پالیسی والی سبکی تھی جس کا سامنا ہمیں کرنا پڑا۔ پسینہ پونچھیئے اپنی جبیں سے۔ اب دیکھئے کہ آئی ایم ایف سٹاف مشن، (پاکستان نچوڑنے کے مشن کی تکمیل پر) جاتے ہوئے حکومت کو تھپکی دے گیا اور مسکین عوام کے زخموں پر نمک چھڑک گیا ہے۔ ریکارڈ توڑ مہنگائی، ٹیکسوں کا کمر توڑ بوجھ، کساد بازاری، بیروزگاری، عوام کو ملنے والی رعایتوں سے مکمل محرومی کے بعد مسٹر جیفری فرینک نے نہایت فرینکلی (واضح، دو ٹوک) یہ بتایا کہ اب ہوئی نہ بات! پاکستان کے معاشی اشاریات (Indicators) بہتر ہو گئے ہیں۔ عوام تو بجلی، گیس خوراک کے تھپیڑے کھا رہے اور معاشی بھنور میں ڈبکیاں لگا رہے ہیں، اعداد و شمار کیا جانیں! چوری ، ڈاکوں، قتل کے اعداد و شمار کی بڑھوتری البتہ خوب جان رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کیا عزائم بتا کر آئی تھی کیا بن گئی! نوجوان، باصلاحیت، اعلیٰ تعلیم یافتہ ملک سنبھالنے اور ہر گرداب سے نکالنے والی قیادت کے منتظر عوام نے دیکھا کہ یکے بعد دیگرے متنازعہ افراد آتے جاتے گئے۔ جب دھول بیٹھی تو سارے وزراء مشرف دور کے تھے۔ سو حقیقی حکومت تو از سر نو عین وہی تھی قاف لیگی اور ایم کیو ایم کی! عوام دُکھ کی ٹھنڈی آہیں بھر کر رہ گئے۔ (شاید سردی میں اتنا اضافہ اسی لیے ہے!) مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ بھی کسی دھماکے سے کم نہیں حکومت کے لیے۔ ایمپائر کی انگلی ہی گویا کاٹ دی!

پاکستان کی تاریخ کا منفرد ترین، اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ ہے سو خوب جھکڑ چل رہے ہیں۔ توہین عدالت سے بے خوف، بے غم ہو کر خوب بیان بازی جاری ہے! اگرچہ ایک طویل کہانی کا تو یہ صرف فٹ نوٹ ہے۔ 18 سال ملک پر جوگزری، اس کا لمحہ لمحہ تاریخ میں اور عنداللہ محفوظ ہے۔ سارے آڈیو، وڈیو ریکارڈ۔ بڑی عدالت تو لگنی ہی ہے۔ ’مالک یوم الدین‘ تو دن میں مسلمان 32 مرتبہ کم و بیش دہراتا ہی ہے۔ پاکستان پر کیا بیتی؟ بات صرف آئین پاکستان کی معطلی کی ہی نہیں۔ نظریۂ پاکستان کی تدفین، ملکی آزادی، خود مختاری امریکہ کے ہاتھ گروی رکھا جانا، بحر و بر افغانستان پر حملہ آور غاصبوں کے لیے کھول دینا، فہرست بہت طویل ہے۔ اس کے دنیاوی فیصلے، عمر کے اس حصے میں علامتی حیثیت کے حامل ہیں۔ وہ سیاسی لیڈر تو نہیں ہے کہ بلا تامل لٹکا دیا جائے۔ کفٰی باللہ حسیباً۔ (اصل) حساب لینے کو اللہ کافی ہے۔ تاریخ ہی آخرت پر ایمان لانے پر مجبور کرتی ہے ہر ذی شعور کو! کچھ وہ ہیں جن کے دیئے دکھوں اور جرائم کا حساب دنیا میں کسی صورت چکانا ممکن نہیں۔ اور کچھ وہ ہیں جن کے انسانیت پر احسانات کے اعتراف میں انعامات دنیا میں ممکن نہیں۔ سو ہم اس دن کا صبر سے انتظار کرتے ہیں اگر دنیا میں عدل قائم نہ کیا جا سکے! مشرف کہانی ’افغانستان پیپرز کی طرح، مغرب ہی سے کسی دن مکمل لیگ ہو گی۔ ان کے ہاں تفصیلات اس جنگ کی جس طرح کھل کر سامنے آئی ہیں، ہم تو اتنے بڑے سچ کے نہ عادی ہیں نہ متحمل ہو سکتے ہیں۔ وہ ہاہا کار مچ اٹھی ہے کہ پناہ بخدا۔ یہاں تو فیصلہ سنانے والے ہی گردن زدنی ہو گئے۔ انہیں نمونۂ عبرت بنا دینے کو دانت پیسے جا رہے ہیں۔ ہر معاملے میں امریکہ یورپ کو سند اور لائق تقلید قرار دینے والے، اس ضمن میں آنکھ اٹھا کر بھی انہیں دیکھنے کے روادار نہیں۔ پاکستان میں جمہوریت کی بساط الٹ کر ایمرجنسی کے نفاذ سے جو کہانی شروع ہوئی تھی، وہی ہمیں برادر افغانستان سے یوٹرن لے کر صلیبی جنگ کی دلدل میں بھی دھکیلنے کی ذمہ دار تھی۔ جنگ کے نتائج اب سامنے آ چکے۔ جھوٹ، فریب پر مبنی جنگ کے تلخ حقائق کا اعتراف امریکی خود کر چکے۔ ہم بھی اسی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ جب ساری دنیا کی علمیت ، عسکریت، صلاحیت، قوت کھپا کر آج مکمل ناکامی کا اعتراف وہ خود کر رہے ہیں، تو ہماری کیااوقات ہے۔ ہمارے لیے سبق یہ ہے (طالبان کی فتوحات سے) کہ ہمارے زوال (ایٹمی طاقت، مضبوط فوج، تعلیمی برتری کے باوجود ) کا اصل سبب اللہ کی نافرمانی اور دین بیزاری ہے۔ سبب کچھ اور ہے جس کو تو خود سمجھتا ہے، زوال بندۂ مومن کا بے زری سے نہیں۔ اندازہ کیجیے کہ امریکہ 2008ء سے 2016ء تک کاغذوں میں سر دیئے اس جنگ پر تحقیق کرتا صفحے کالے کرتا رہا۔ 59000 صفحات لکھے گئے، یا دداشتوں کے ذریعے اس جنگ کی خفیہ تاریخ ! بڑے بڑے نامی گرامی رمز فیلڈ جیسے لکھتے لکھواتے رہے۔ رچرڈ ہالبروک، امریکہ کا مایہ ناز 50 سالہ سفارتی تجربے کا حامل اوباما کا نمائندہ خصوصی برائے افغانستان و پاکستان تھا ۔ اس کی خصوصیت جنگ زدہ لیڈروں کو مذاکرات پر لا بٹھانے کی تھی۔ افغان جنگ نے چکر ا کر رکھ دیا۔ یہی جان لیوا ثابت ہوئی۔ دسمبر 2010ء میں شہ رگ پھٹ جانے سے مرا۔ آخری الفاظ یہ تھے۔ ’تمہیں (امریکہ کو) افغانستان میں یہ جنگ روکنی ہو گی!‘ اس کی وصیت ، فرعون کے آخری پچھتاوے کے الفاظ: میں ایمان لایا بنی اسرائیل کے رب پر، کی طرح رائیگاں گئی۔ امریکہ نے شاید تاریخ میں روسی جرنیل کے آخری الفاظ، آخری روسی دستے کو 1989ء میں افغانستان سے پسپا ہو کر نکالتے وقت کے پڑھے نہ تھے، یا ان پر کان نہ دھرا تھا۔ اس نے آمو دریا پار کر کے روسی سرحد میں قدم رکھ کر کانوں کو ہاتھ لگائے تھے کہ آئندہ روس کبھی افغانستان کا رخ نہ کرے گا! اب دنیا کے ذمے یہ ’ریسرچ‘ باقی ہے، تھنک ٹینکوں کے لیے چیلنج ہے، کہ آخر یہ کیا ہوا! امریکہ سازو سامان کی انتہا پر اور افغان بے سرو سامانی کی انتہا پر ۔ امریکہ ہر سطح پر بدترین ناکامی کا شکار ہوا۔ ہمارے ساتھ بھی اس نے یہی کیا کہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تجھ کو بھی لے ڈوبیں گے! سو ہم بھی غوطے کھا رہے ہیں! تاریخ کا جبر یہی ہے! پہلے بندۂ صحرائی نے آدھی دنیا انتہا کی بے سروسامانی سے فتح کی اور ساڑھے تیرہ سو سال حکمران کی! اب بندۂ کوہستانی کی باری ہے۔ فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہ بانی، یا بندۂ صحرائی یا مرد کہستانی! جو ابو الحکم کہلاتا تھا اپنے علم سرداری اور دانائی کا زعم لیے۔ وہ نبوت کو جھٹلا کر، القرآن الحکیم کا انکار کر کے رہتی دنیا تک میں ابو جہل گردانا گیا۔ وہ منظر تازہ کیجیے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، (چودہ سالہ چرواہے جو ایمان لائے تھے) غزوۂ بدر میں ابو جہل کے سینے پر جوتا رکھے کھڑے ہیں اس کی گردن اتارنے کو۔ ابوجہل، فرعونی لہجے میں بجھنے سے پہلے تکبر میں بھڑک کر کہتا ہے۔ ’او چرواہے! بڑی اونچی جگہ چرھا ہے، سردار کی گردن ہے ذرا لمبی رکھ کر کاٹنا‘! اور پھر اس کی لاش نمونۂ عبرت بنا کر بدر کے کنویں میں پھینکی گئی۔ ابو الحکم، اپنا علم ڈبو کر جہل میں جا مرا۔ عبداللہ بن مسعودؓ سردار علماء میں شمار ہوئے۔ فقۂ حنفی کی ذوفشانی ان کے علم سے ہے! وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر، اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر! ساری آئی وی لیگ یونیورسٹیوں کا علم ذہانت تجربہ افغانستان کے قبرستانوں میں دفن ہو گیا! یہ ہم بھی جو ڈنڈا لے کر مدارس کے سر ہوئے رہتے ہیں انہیں اعلیٰ عصری علوم سے بہرہ مند فرمانے کو۔ (جس کا شاہکار ہم نے وکلاء اور ڈاکٹروں کی سرپھٹول اور لسانی تنظیموں کے ہاتھوں اسلامی یونیورسٹی میں خون ناحق ہوتے دیکھا) کیا اب ضرورت اس بات کی نہیں کہ عصری علوم والوں کو فرض عین علم (جو ہر مسلمان پر فرض ہے نماز کی طرح!) قرآن و سنت کا، دینے کی فکر کریں۔ طالبان جیتی جاگتی مثال ہیں فتوحات کے جھنڈے گاڑتی، دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈالتی! تھنک ٹینکوں کو کچھ یہاں بھی ’تھنکنے‘ کی ضرورت ہے!

جہاں میں بندۂ حُر کے مشاہدات ہیں کیا

تری نگاہ غلامانہ ہو تو کیا کہئے


ای پیپر