16 دسمبر کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے…!
21 دسمبر 2019 2019-12-21

16دسمبر کے حوالے سے یہ کالم تاخیر سے لکھا جا رہا ہے (تاخیر کی وجہ انشاء اللہ اگلے کالم میں تفصیل سے بیان کی جائے گی) لیکن میں اسے اپنا ایک فریضہ سمجھ کر ایسا کر رہا ہوں۔ اس لیے کہ 16دسمبر سے وابستہ پاکستان کی تاریخ کے انتہائی المناک واقعات سقوط مشرقی پاکستان (16 دسمبر 1971) اور سانحہ APS پشاور (16دسمبر 2014) ایسے واقعات ہیں جن کو بھلانا آسان نہیں تو ان کو یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ان سے پتہ چلتا ہے کہ ملک و قوم کو کیسی کیسی مشکلات اور المناک و دل خراش حالات و سانحات سے دوچار ہونا پڑتا رہا ہے۔ دسمبر 1971 ء کی 16 تاریخ کو سقوطِ ڈھاکہ کا المناک سانحہ پیش آیا ۔ پاکستان دو لخت ہوا اور پاکستان کی مشرقی کمان کے کمانڈر۔ ننگِ وطن لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی نے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں اپنے بھارتی ہم منصب لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈالے اور 90 ہزار کے لگ بھگ پاکستانی سپاہ کو اپنے ابدی اور ازلی دشمن بھارت کا جنگی قیدی بننا پڑا۔ پوری پاکستانی قوم اس سانحہ پر پھوٹ پھوٹ کر روئی۔اللہ گواہ ہے آج سے اڑتالیس برس قبل 16 دسمبر 1971 ء کو سقوطِ ڈھاکہ اور پاکستان کے دو لخت ہونے کا سانحہ پیش آیا تو میں اس وقت سی بی سرسید سائنس کالج شاہراہِ مال راولپنڈی جہاں میں پڑھاتا تھا اپنے ساتھیوں کے ساتھ اور شاید اُن سے بڑھ کر پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا۔ پچھلے کئی سالوں سے سقوطِ ڈھاکہ کے بارے میں اخبارات کے لیے اپنے کالم (مضامین) لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں ہمیشہ آنسو تیرتے رہے ہیں لیکن پچھلے پانچ سالوں سے 16دسمبر کا ذکر کرتے ہوئے میری آنکھوں میں تیرنے والے آنسوئوں کی مقدار دو چند ہے یا اُس سے بھی بڑھ کر ہے کہ وارسک روڈ پشاور کے آرمی پبلک سکول کے سانحہ میں شہید ہونے والے پھولوں جیسے نرم و نازک اور ستاروں کی طرح دمکتے چمکتے چہروں کے مالک نونہالوں اور اُن کے قابلِ قدر اور قابلِ فخر اساتذہ اور دیگر سٹاف ممبران کی یاد میں اُمنڈنے والے آنسو بھی اُن میں شامل ہو چکے ہیں۔

16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک سکول وارسک روڈ پشاور میں جو انتہائی المناک سانحہ پیش آیا، معصوم اور بے گناہ جانوں کے خون سے جو ہولی کھیلی گئی۔ سفاکی، ظلم، بربریت اور وحشیانہ پن کا جو مظاہرہ کیا گیا، پھولوں جیسے نرم و نازک اور فرشتوں جیسے پاک باز 122 معصوم بچوں کو چشمِ زدن میں خون میں نہلا دیا گیا ، سکول کی پرنسپل سمیت 12 معمارانِ قوم اور 10 دیگر سٹاف ممبران کو شہید کر دیا گیا۔ کیا اس سانحہ کو بھلایا جا سکتا ہے؟ یقینا نہیں ۔ شیطان کے درندہ صفت چیلوں نے جب بربریت کی انتہا کرتے ہوئے ان معصوم بچوں کو گولیوںکی باڑ اور دستی بموں کا نشانہ بنایا ہو گا تو ان معصوم بچوں کی چیخیں اور آہ بکاہ کی آوازیں یقینا عرشِ بریں تک پہنچی ہونگی، ان کے اساتذہ گولیوں کی بوچھاڑ میں اُن کے سامنے ڈھال بنے ہونگے۔ یہ سب کچھ انتہائی دل دہلا دینے والا منظر ہو گا۔ میں اس پیرانہ سالی میں اس کا تصور کرتا ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو ہی نہیں تیرنے لگتے ہیں بلکہ میرا خون بھی کھولنے لگتا ہے۔

ان دنوں اس سانحہ کو یاد کرکے اور یہ پڑھ سن کر میر ا دل اور بھی خون کے آنسو ہی نہیں بہانے لگا ہے بلکہ غم و غصہ سے میرا خون بھی کھول رہا ہے کہ سانحہ APS پشاورکے ماسٹر مائند تحریک طالبان پاکستان کے امیر مُلا منصور (نرے) نے جب اس کے وحشی پیروکار معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیل رہے تھے کیسے فون کرکے بعض صحافیوں کو اطلا ع دی کہ جا کر دیکھو کہ APS پشاورمیں کس طرح چنگیز خان اور ہلاکو خان کے ظلم و بربریت کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ یقینا یہ سب کچھ انتہائی المناک ، خوفناک اور دل خراش تھا جسے آنے والے زمانوں میں بھی نہیں بھلایا جا سکے گا۔ ملا منصور اپنے انجام کو پہنچ چکا اس کے درندہ صفت وحشی پیروکار بھی کیفر کردار ہو چکے لیکن بے گناہ اور معصوم بچوں کی قیمتی جانوں کا مداوہ اور ان کے عزیز و اقارب کے غموں کا کفارہ کیسے ادا ہوگا یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ابھی تک تشنہ تکمیل ہے ۔

پاکستان کی تاریخ کے ایک اور سیاہ دن16دسمبر 1971کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے کہ آج سے تقریباً نصف صدی قبل پاکستان کے مشرقی حصے میں پاکستان سے نفرت، تعصب ، ضد اور انتقام کے جن جذبات کو ہوا دی گئی وہ بلاآخر دسمبر 1971 ء میں پاکستان کے مشرقی حصے (مشرقی پاکستان) کی متحدہ پاکستان سے علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کی صورت میں منتج ہوئے۔ دکھ کی بات ہے کہ نفرت کے یہ جذبات اب بھی اُبھارے جا رہے ہیں۔ آج بھی "بنگلہ بندھو" شیخ مجیب الرحمن کی سپوتنی بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد پاکستان اور پاکستانیوں سے نفرت اور تعصب پر مبنی اپنے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے متحدہ پاکستان سے محبت کرنے اور اُس کے لیے قربانیاں دینے والوں کے خون سے اپنے انتقام کی پیا س بجھا رہی ہے۔آج بھی بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کرنے والوں کی پھانسیوں کی باڑ اُگائی جا رہی ہے۔ متحدہ پاکستان سے وفاداری کا حلف نبھانے والے جماعت ِ اسلامی کے بزرگ رہنمائوں، جماعت ِ اسلامی بنگلہ دیش کے سابقہ امیر نوے سالہ بزرگ رہنما پروفیسر غلام اعظم ، اے کے ایم یوسف جیسی شخصیات موت کی سزا پانے کے بعد جیل کی کال کوٹھڑیوں میں اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ اسی طرح عبدالکلام آزاد، دلاور حسین شہیدی، ملا ں عبدالقادر ، قمر الزمان، چوہدری معین الدین، مطیع الرحمن نظامی، علی احسن مجاہد، میر قاسم علی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے اہم رہنما صلاح الدین قادر چوہدری پھانسی کی سزا پانے کے بعد تختہ دار پر لٹک چکے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی انتقام کی آگ ابھی تک ٹھنڈی نہیں ہوئی اور وہ آئے روز پاکستان کے بارے میں نفرت بھر ے جذبات کا اظہار کر نے سے گریز نہیں کرتی ہے۔

16 دسمبر کی تاریخ یقینا ہم کبھی بھی بھلا نہیں سکتے یہ ہمارے دلوں میں اپنے دشمن سے نبرد آزما ہونے اور اُس سے انتقام لینے کے جذبات کو ہی نہیں اُبھارتی بلکہ ہمارے اس یقین کو بھی پختہ کرتی ہے کہ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔بلاشبہ میرے رب کے کرم، اُس کے پیارے حبیب پاکؐ کے صدقے ، پوری قوم کے جذبے ، اخلاص اور عز مِ صمیم اور مسلح افواج کی بہادری، شجاعت اور بے مثال قربانیوں سے پاکستان میں دہشت گردی، انتہا پسندی، خون ریزی اور قتل و غارت گری کے المناک واقعات کا بڑی حد تک خاتمہ ہو چکا ہے ۔ معصوم اور بے گناہ جانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے اور پاکستان کے امن و سلامتی کو برباد کرنے والے کیفرِ کردار کو پہنچ چکے ہیں۔تاہم تاریخ کی یہ گواہی آنے والے زمانوں کے اوراق پر ہمیشہ ثبت رہے گی کہ پاکستان سے قتل و غارت گری ، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے میں وارسک روڈ پشاور کے آرمی پبلک سکول کے 144 معصوم اور بے گناہ نفوس کے پاک اور محترم خون کا بھی بڑا حصہ ہے۔ یقینا قوم کو جو حیات نو ملی ہے اس میں شہدائے پشاور کی قربانی ہمیشہ جگمگاتی رہے گی۔


ای پیپر