زن و مرد…
21 دسمبر 2019 2019-12-21

دوستو، کہتے ہیں کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ، لیکن باباجی کہتے ہیں وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں بھنگ۔۔اب آپ وجود زن کو رنگ بولیںیا بھنگ، لیکن کائنات کی تصویر اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک اس میں مرد نہ ہو۔۔ جس طرح موٹرسائیکل دوپہیوں کے بغیر موٹرسائیکل نہیں مانی جاتی اسی طرح زندگی کی گاڑی کے لئے زن و مرد دو پہیے ہوتے ہیں۔۔چلیں پھر آج کے کالم کی گاڑی انہی دو پہیوںکے نام کرتے ہیں۔۔

کہتے ہیں کہ ۔۔مرد اپنی ضرورت کی چیز خریدے گا چاہے اسے سوروپے کی چیز دوسوروپے میں خریدنی پڑے اورعورت دوسو روپے کی چیز ایک سومیں خرید لے گی،اور چیز بھی وہ جس کی ضرورت نہیں بس سیل لگی ہوئی تھی۔۔۔ایک مرد کے واش روم میں گن کر چھ چیزیں ہوتی ہیں،ٹوتھ برش،ٹوتھ پیسٹ،صابن،شیمپو ،شیو کرنے والا ریزر اور تولیہ۔۔اورعورت کے واش روم میں پچاس سے زیادہ چیزیں ہوتی ہیں جن میں سے مرد کو صرف بیس کا پتا ہوتا ہے کہ یہ کیا ہے باقی عورت ہی جانے۔۔۔ہر کسی قسم کی بحث میں عورت کے پاس ایک آخری فقرہ ہوتا ہے اوراگر مرد اس فقرے کے جواب میں کچھ کہہ دے تو ایک نئی بحث شروع۔ ۔ عورت کو اپنے مستقبل کی فکر ہوتی ہے اور اس وقت تک ہوتی ہے جب تک اسے ایک اچھا شوہر نہ مل جائے اورمرد کی مستقبل کی فکر ایک بیوی ملنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔۔۔ایک کامیاب مرد وہی ہے جو اپنی بیوی کے خرچے سے زیادہ پیسے کمائے اورایک کامیاب عورت وہی ہے جو ایسا مرد بطور شوہر پا لے۔۔۔ایک عورت، مرد سے یہ سوچ سے شادی کرتی ہے کہ وہ بدل جائے گا لیکن وہ نہیں بدلتااورایک مرد عورت سے یہ سوچ کر شادی کرتا ہے کہ یہ نہیں بدلے گی اور وہ بدل جاتی ہے۔۔۔عورت ہمیشہ شاپنگ کے لیے، پودوں کو پانی دینے کے لیے،کچرا پھینکنے کے لیے اور کتاب پڑھنے کے لیے بھی لباس کا خیال کرے گی ڈریس اپ ہو گی اورمرد صرف شادی یا جنازے کے لیے ہی تیار ہوتا ہے۔۔۔عورت کو اپنے بچوں کے بارے سب کچھ علم ہوتا ہے ان کی ڈاکٹر سے اپائنمنٹ،ان کے خفیہ معاشقے،ان کا ہوم ورک،ان کی پڑھائی،ان کے بہترین دوست،ان کا پسندیدہ کھانا،ان کی پسندیدہ کتاب وغیرہ اورمرد کو بس یہ علم ہوتا ہے کہ میرے گھر میں میری فیملی رہتی ہے۔۔۔مرد کو صبح ساڑھے سات جانا ہے وہ سات بجے اٹھ کر تیار ہو جائے گااورعورت کو اگر کہیں ساڑھے سات جانا ہے تو تیار ہونے کے لیے پانچ بجے اٹھنا پڑے گا۔۔۔

عورت کی اپنے آئیڈئیل کے لیے دعا۔۔یا اللہ! میرا ہونے والا شوہر کیئرنگ ہو،خوبصورت ہو، اچھا کماتا ہو، مجھے خوش رکھے،میری مشکلات سمجھنے والا ہو، میرے والدین کی عزت کرے،، میری غلطیوں کو اگنور کرے وغیرہ وغیرہ۔۔اورمرد کی دعایا اللہ! خوبصورت ہو۔۔۔مرد کو اپنا آپ آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر باڈی بلڈر لگتا ہے چاہے وہ موٹا ہواورعورت کو اپنا آپ ہمیشہ ہی موٹا لگتا ہے چاہے وہ اسمارٹ ہوں۔۔ مرد اگر ایک ہفتہ فیس بک پر نہ جائے تو ایک ہفتے بعد محض بیس یا پچیس نوٹیفیکیشن ہوں گے اوراگر عورت ایک ہفتہ فیس بک پر نہ جائے تو اڑھائی سو نوٹیفیکیشن،، سو سے زائد پرائیویٹ میسج اور تین سو سے زائد فرینڈ ریکوئیسٹ۔۔۔عورت کو خوش کرنا ہے تو اسے پیار دیا جائے ،جینے مرنے کی قسمیں کھائی جائیں،شاپنگ کروائی جائے،باہر کھانا کھلایا جائے اورمرد کو خوش ہونے کے لیے پاکستان کا کرکٹ میچ جیتنا بہت ضروری یا پھر بینک کا ایس ایم ایس الرٹ کہ سیلری آگئی ہے۔۔

ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں کہ۔۔خواتین کو کیا معلوم کہ روز مرّہ کی زندگی میں مردوں کو ابتدا ہی سے کیسے سنگین اور دگرگوں حالات سے نمٹنا پڑتا ہے۔ کیا کوئی عورت جانتی ہے کہ کسی لڑکی کے تانگے کے پیچھے سائیکل چلاتے ہوئے ایک ہاتھ سے بال سنوارتے ہوئے توازن بگڑنے پر سائیکل سمیت کسی سبزی فروش کے چھابڑے میں اوندھے منہ جا گرنے سے شخصیت پر کیسے منفی نفسیاتی اثرات ثبت ہوتے ہیں؟ کیا کسی عورت کو احساس ہے کہ کسی لڑکی کو ایک نظر دیکھنے کے لئے گرمیوں کی تپتی دھوپ یا جاڑے کی ٹھٹھرتی بارش میں گھنٹوں اس کے کالج کے سامنے کھڑا ہونا کس قدر تکلیف دہ امر ہے؟کیا کوئی عورت سمجھ سکتی ہے کہ بازار میں کسی دبلی پتلی حسین نوجوان لڑکی سے مڈبھیڑ کی صورت میں آدھ گھنٹہ سانس روک کر پیٹ اندر کھینچ کر رکھنا کس عذاب کا نام ہے؟کیا آج تک کسی نے یہ میسج دیکھا یا پڑھا ہے، میرا نام بشیر ہے، میں بڑی مشکل میں ہوں، مجھے پچاس روپے کا بیلنس بھجوا دو، اللہ پاک کی قسم واپس لوٹا دوں گا۔اور پھر خواتین کو اعترض ہے کہ مرد ان کے لئے کرتے ہی کیا ہیں؟یہ کونسا کاروباری اصول ہے کہ خواتین اگر مرد درزی یا ڈیزائینر یا بیوٹیشن کی خدمات حاصل کریں تو ٹھیک لیکن مرد اگر اپنے لئے خاتون درزن، خاتون حجام تلاش کرے تو اس کا کردار ڈھیلا پڑ جاتا ہے؟یہ کیسے ممکن ہے کہ مرد ایک ہی دکان سے کوٹ پینٹ ٹائی قمیض چرمی پیٹی جرابیں بنیان حتیٰ کہ جوتے اور جانگیہ تک خرید لیتا ہے اور عورتوں کو اڑتالیس دکانیں کھنگالنے کے بعد بھی ایک چپل نہیں ملتی؟یہ کیوں ہے کہ کسی دعوت میں ایک حسین عورت کے گرد چند مرد جمع ہو جائیں تو وہ’’پارٹی کی جان‘‘ کہلاتی ہے، اور اسی دعوت میں ایک خوبرو مرد کے گرد چند خواتین موجود ہوں تو اسے ’’خبیث بڈھا فلرٹ ُُ‘‘کہا جاتا ہے؟یہ کس کا فیصلہ ہے کہ شدید گرمی میں عورت باورچی خانے میں کھڑی ہو تو مظلوم، اور چلچلاتی دھوپ میں اسی عورت کا دوپٹہ رنگ کرانے رنگ ساز کے کھولتے ہوئے کڑاھے کے سامنے کھڑا ہو تو مردظالم؟یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مرد عورت کو گال پر ہلکی سی چپت بھی لگا دے تو میکہ، محلہّ، میڈیا، ٹی وی چینل اوردرجن بھر این جی اوز ہاہا کار مچا دیتی ہیں کہ عورت پر ظلم ہوگیا، جبکہ عورت مار مار کر اپنے مرد کا بھرکس نکال دے اور وہ بیچارہ شرم کے مارے کسی سے ذکر بھی نہ کر سکے تو بھی مرد ظالم؟

ہمارے پیارے دوست ٹی وی دیکھ رہے تھے،بیگم صاحبہ پاس بیٹھ کر پیار سے پوچھنے لگیں، ٹی وی پر کیا ہے؟ وہ بڑی معصومیت سے بولے۔۔دھول مٹی۔۔شادی کی سالگرہ پہ بیگم نے کہا کہ مجھے ایسی جگہ لے جائیں جہاں ہم مدتوں سے نہیں گئے،وہ انہیں اپنے والدین سے ملانے لے گئے۔۔ایک رات بیگم نے فرمائش کی کہ مجھے مہنگی جگہ ڈنر کرائیں،وہ اسے پٹرول پمپ لے گئے۔۔بیگم نیا سوٹ پہن کر آئینے میں دیکھ رہی تھیں۔ کہنے لگیں ماڈل پہ کتنا اچھا لگ رہا تھا۔ میں تو کتنی موٹی، بھدی اور بے ڈول لگ رہی ہوں۔ پلیز میری تعریف میں کچھ کہیں تاکہ میرا موڈ خوشگوار ہو۔کہنے لگے، تمہاری نظر بڑی تیز اور پرفیکٹ ہے۔سبزی والے نے خراب سبزی دی۔ بیگم کہنے لگیں کہ جب پتا ہے کہ یہ کھلا دھوکہ دیتا ہے پھر بھی بار بار اسی کے پاس جاتے ہیں؟وہ بولے۔۔تمہارے میکے بھی تو جاتا ہوں۔


ای پیپر