فیصلہ !
21 دسمبر 2019 2019-12-21

اگلے روز اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم سنایاہے، یہ حکم تین رکنی بینچ نے سنایا جس کے سربراہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ تھے ،جبکہ اُن کے ساتھ اِس بینچ میں مسٹرجسٹس شاہد کریم اور سندھ ہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس نذر اکبر شامل تھے،مسٹر جسٹس نذر اکبر نے اِس فیصلے سے اختلاف کیا، ....پاکستان کی تاریخ میں یا عدلیہ کی تاریخ میں یہ پہلا فیصلہ ہے جس نے ملک کے سب سے طاقتور ادارے کو ہلا کررکھ دیا ہے، عدلیہ کا جو پس منظر ہے عدلیہ سے ایسے فیصلے کی ہرگز توقع نہیں تھی، اِس فیصلے پر ڈی جی آئی ایس پی آرنے فرمایا ”فیصلے سے آئینی تقاضے پورے نہیں ہوئے ،دفاع کا حق بھی نہیں دیا گیا، اُنہوں نے جنرل مشرف کی افواج پاکستان کے لیے خدمات کی لمبی چوڑی تفصیلات بھی پیش کیں، ان خدمات سے شاید کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہوگا، اُنہوں نے تین جنگیں لڑیں اور جیتی کتنی؟ یہ سوال بھی غیراہم ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے جو کیس عدالت کے سامنے تھا اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے وکلاءنے اس کیس میں جو کمزور کردار ادا کیا، اُس کے نتیجے میں خصوصی بینچ کے پاس اس فیصلے کے علاوہ اور چارہ کیا تھا؟، یہ بھی فرمایا گیا”یہ فیصلہ عجلت میں کیا گیا ہے“ ....دوسری جانب کا بڑامضبوط مو¿قف یہ ہے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اِس کیس کو جان بوجھ کر طول دینے کی کوشش کی ، اس کوشش میں وہ کامیاب بھی ہوئے، یہ کیس تقریباً چھ برس چلا، ان چھ برسوں میں چھ مرتبہ اُنہیں طلب کیا گیا، وہ نہیں آئے، عدالت نے ستمبر 2014ءمیں شواہد مکمل کرلیے تھے، فیصلہ اُس کے پانچ برسوں بعد سنایا گیا، سو یہ مو¿قف ہرگز درست نہیں کہ کیس کا فیصلہ عجلت میں کیا گیا ہے ۔البتہ اس کے برعکس اگر کوئی یہ کہے عدالت نے اِس کیس کافیصلہ سنانے میں روایتی تاخیر کی تو یہ ہرگز غلط نہیں ہوگا.... میرے خیال میں اس کیس کو کسی نے سیریس نہیں لیا، سب اس یقین میں مبتلا تھے عدلیہ اپنے روایتی کردار کے مطابق اس کیس کو مزید دس پندرہ برسوں تک لٹکائے رکھے گی، تب تک جنرل مشرف اِس دنیا سے رخصت ہوچکے ہوں گے اور یہ کیس بھی اُن کے ساتھ ہی دفن ہو جائے گا، اِس ملک کے ”اصل طاقتوروں“ کے کان تب کھڑے ہوئے جب چیف جسٹس آف پاکستان نے وزیراعظم عمران خان کی ایک عدلیہ کے حوالے سے کی جانے والی تقریر کے ردعمل میں فرمایا ” ہمیں نصیحتیں نہ کریں“، اِس موقع پر یہ بھی اچانک اُن کے منہ سے نکل گیا ”ابھی ایک جنرل کا فیصلہ بھی آنے والا ہے“ ....اُن کے لہجے اور باڈی لینگوئج نے بتادیا تھا کیا فیصلہ آنے والا ہے، اُس کے بعد حکمران اور اصل حکمران حرکت میں آئے، پر افسوس تب تک بہت دیر ہوچکی تھی، اُنہوں نے یہ فیصلہ رُکوانے کی بہت کوشش کی، جس میں شاید پہلی بار اُنہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ماضی میں کوئی فیصلہ رُکوانا اُن کے لیے دنیا کا سب سے آسان کام ہوا کرتا تھا، اب یہی کام اُن کے لیے دنیا کا مشکل ترین کام بن گیا، یہ درست ہے محترم چیف جسٹس آف پاکستان نے بطور چیف جسٹس آف پاکستان اپنے مختصر عرصے میں عدلیہ کی جانب سے عام آدمی کو مستقل طورپر ریلیف دینے کے لیے کوئی بڑا کارنامہ نہیں کیا، وہ شاید کچھ کرنا بھی چاہتے ہوں، مگر اُنہیں زیادہ عرصہ نہ ملا۔ممکن ہے اُن کے کہنے کے مطابق جنرل مشرف کے حوالے سے آنے والے خصوصی عدالت کے فیصلے میں اُن کا کوئی کردار نہ ہو، مگر تاریخ میں یاد رکھا جائے گا اُن کے دور میں ایک ایسا فیصلہ ہوا جس کے بعد آسانی سے آئین توڑنے والے مستقبل میں ایسا کرتے ہوئے کم ازکم سوچا ضرور کریں گے، ممکن ہے آگے چل کر وہ اس فیصلے کے خلاف سیاسی حکمرانوں کو اپیل کرنے کا حکم دیں، یا صدر مملکت کو ہی یہ ”حکم“ جاری کردیں کہ سزائے موت معاف کردی جائے، ہوسکتا ہے سپریم کورٹ میں اپیل کی صورت میں بھی کوئی ریلیف اُنہیں مل جائے، مگر ایک بار عدلیہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ضرور ہوگئی ہے اصلی بالادستی اُس کی ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایکسٹینشن کے معاملے میں بھی عدلیہ کی جانب سے ایسا ہی تاثر دیا گیا تھا، ملکی تاریخ اور ملکی مفاد میں یہ کس قدر یادگار لمحات ہوتے جنرل مشرف کی سزائے موت کے فیصلے پر غیرضروری ردعمل دے کر عدلیہ کو تنقیدی نشانہ بنانے کے بجائے خالصتاً قانونی راستہ اپنایا جاتا اور اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کردی جاتی، اس سے یہ ثابت ہو جاتا پاکستان کا ہرادارہ چاہے وہ کتنا ہی طاقتور ہے عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرتا ہے اور عدلیہ کی بالادستی تسلیم کرتا ہے۔

افواج پاکستان ایسے جرنیلوں سے بھری پڑی ہے جو ملکی دفاع کا تحفظ کرنے کی کمال صلاحیتیں رکھتے ہیں، میں ہر اُس جنرل (آرمی چیف) کو سلام پیش کرتا ہوں جو ایکسٹینشن کی لالچ میں پڑنے کے بجائے گھر چلے گیا، نمائشی یا ظاہری طورپر ہی سہی مگر اس ملک کا اصلی حکمران اس ملک کا وزیراعظم ہی ہوتا ہے، کیا وہ بھی یہ مطالبہ کرسکتا ہے چونکہ ملکی حالات بہت خراب ہیں اور میرے سوا کوئی اُنہیں ٹھیک کرنے کی صلاحیت یا اہلیت نہیں رکھتا لہٰذا مجھے بھی تین برسوں کی ایکسٹینشن دی جائے ؟ کیا ایسی صورت میں وہ ”قوت“ اُس کی اِس خواہش یا مو¿قف کو سپورٹ کرے گی جو ایسے ہی کسی جواز کے تحت خود ایکسٹینشن لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتی، بلکہ اپنا حق سمجھتی ہے؟؟ یہ ملک صرف ایک صورت میں ترقی کرسکتا ہے اِس ملک میں قانون سب کے لیے برابر ہو، ہمارے محترم وزیراعظم یہی خواب ہمیں دکھا دکھا کر مسنداقتدار پر سوار ہوئے، اب ہمارے سارے خواب بکھرے پڑے ہیں، وزیراعظم میں صرف ایک ہی صلاحیت ہے، وہ ”یوٹرن“ بہت اچھا لیتے ہیں، اب جنرل ریٹائرڈ مشرف کے حوالے سے بھی ایک بڑا یوٹرن لینے کے لیے وہ تیار کھڑے ہیں، بلکہ لے چکے ہیں، ”نوکری کیہ تے نخرہ کیہ“.... اُمیدہے اب آہستہ آہستہ سابقہ سیاسی حکمرانوں کی ”مجبوریاں“ بھی اُن کے پلے پڑنی شروع ہو گئی ہوں گی، ممکن ہے اگلے چند روز میں قوم سے ایک اور خطاب کی اُنہیں ضرورت محسوس ہونے لگے جس میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی اُنہیں جمہوریت کے لیے خدمات گنوانا پڑ جائیں .... البتہ جنرل ریٹائرڈ مشرف کو سزائے موت سنائے جانے والے فیصلے میں اِس بینچ میں شامل ایک جج نے جو ریمارکس غیرقانونی، غیراخلاقی وغیر انسانی طورپر دیئے، اُس کی جو مذمت ہورہی ہے، میں اُس مذمت سے مکمل طورپر اتفاق کرتا ہوں، اِس پر اگلے کالم میں عرض کروں گا !!


ای پیپر