سندھ حکومت کی کارکردگی۔۔۔؟
21 دسمبر 2018 2018-12-21

وفاقی حکومت کی ہدایات اور عدالتی ’’مداخلت‘‘ کے باوجودسندھ میں گنے کا بحران ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ اکتوبر کے وسط میں گنے کی پسائی کا شروع ہونے والا سیزن مل مالکان کی ٹال مٹول کی وجہ تاحال شروع نہیں کیا جاسکا ہے۔ گزشتہ ایک عشرے سے یہی صورتحال رہی ہے کہ کاشتکار یا عدالت چاہے کچھ بھی کر لے، سیزن جنوری سے پہلے شروع نہیں ہوتا۔ 10 دسمبر کو حکومت سندھ کے گنے کی قیمت 182 روپے فی من مقرر کی تھی۔لیکن شوگر مل مالکان نے حکومت کی مقرر کردہ قیمت کو غیر قانونی قرار دے کر اس پر عمل درآمد سے انکار کردیا ہے۔ مل مالکان کا کہنا ہے کہ یہ قیمت کابینہ سے منظوری کے بغیر مقرر کی گئی ہے، لہٰذا اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ مزید یہ کہ یہ قیمت قابل عمل بھی نہیں کاشتکاروں کا مؤقف ہے کہ نہ مقررہ قیمت ادا کی جا رہی ہے اور نہ شوگر ملز چلائی جارہی ہیں، کین کمشنر کا دعویٰ ہے کہ 26 شوگر ملز چل رہی ہیں۔ عدالت نے 10 جنوری تک سندھ حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ کئی کاشتکاروں کی گزشتہ سال کی بقایاجات ادا نہیں ہو سکی ہیں۔ عدالت نے 22 جنوری کو تفصیلات طلب کی ہیں۔گزشتہ روز اس صورتحال پر کاشتکاروں نے سندھ اسمبلی کے پاس دھرنا دیا وہ اسمبلی جانا چاہ رہے تھے لیکن، انہیں اسمبلی تک جانے نہیں دیا گیا۔ وزیر زراعت اسماعیل راہو نے انہیں یقین دہانی کرا کے واپس روانہ کردیا۔ اس مسئلے پر اخبارات نے اداریے اور کالم شائع کئے ہیں۔

سرکاری طور پر کاربونیٹیڈ ڈرنکس پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ لیکن اس اعلان پر عمل درآمد کے لئے کیا کوئی پلان موجود ہے اور نہ ہی انتظامی مشنری۔ فوڈ اتھارٹی خود ایک نوزائید ادارہ ہے۔ اس کے پاس نہ اتنا عملہ ہے اور نہ ہی وسائل۔ مزید برآں اس مقصد کے لئے کوئی آگاہی مہم بھی نہیں چلائی گئی۔ پولیس اور ضلع انتظامیہ پہلے ہی ناجائز تجاوزات مہم میں مصروف ہیں۔ لہٰذا اس حکومتی اعلان پر مستقبل قریب میں عمل درآمد کا کوئی امکان نہیں۔ محکمہ صحت کی بھی صورتحال قابل ستائش نہیں۔ سندھ ہائی کورٹ میں بتایا گیا کہ صوبے کے کئی چھوٹے شہروں میں گائناکالوجسٹ موجود نہیں۔ اور یہ بھی کہ 400 ڈاکٹرز میں سے صرف 174 نے جوائننگ دی ہے۔ شاید ان ڈاکٹر صاحبان کو مرضی کی پوسٹنگ نہیں ملی تھی۔

سندھ میں بھی اسٹینڈنگ کمیٹیز کی تشکیل کا معاملہ تعطل کا شکار ہے۔ بعض اہم کمٹیوں کی سربراہی حکومت اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔ پبلک اکاؤنٹس ، داخلہ،

ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن، خزانہ، اور خوراک کے محکموں کی سربراہی ۔ قومی اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی اپوزیشن کو دینے کا مطالبہ کرنے والی پارٹی یہ کام سندھ میں نہیں کر رہی ہے۔ اور نہ ہی دیگر کمیٹیوں کی تشکیل کر رہی ہے۔ اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی تشکیل نہ ہونے کی وجہ سے قانون سازی کے معاملات گزشتہ تین ماہ سے تعطل کا شکار ہیں۔ تین اہم بل عارضی طور پر تشکیل کردہ کمیٹیوں کے حوالے کر دیئے گئے ہیں۔ کمیٹیوں کو آزادی سے کام کرنے نہیں دیا جاتا۔

سندھ کی یونیورسٹیز کے معاملات مسلسل موضوع بحث رہے ہیں۔ اب حکومت نے بعض وزراء کو روچانسلر مقرر کردیا ہے ان ترامیم سے یونیورسٹیز کی خود مختاری متاثر ہوگی ۔سینڈیکیٹ کے دس میں سے آٹھ اراکین سرکاری ملازمیں ہونگے۔۔ سندھ ہائی کورٹ میں سندھ یونیورسٹیز ایکٹ میں ترامیم کے خلاف آئینی درخواست دائر کردی گئی ہے۔

روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ محکمہ تعلیم کے ذمہ داران تعلیم کی بہتر دعوؤں میں کوئی کسر اٹھا کر نہیں رکھی ہے۔ دوسری طرف اس محکمہ کی نااہلی کے نئے نئے ریکارڈ تصویری شکل میں سامنے آرہے ہیں۔ ایک تصویر مانجھند کے قریب امیدعلی برہمانی گوٹھ کے گرلزپرائمری اسکول کی ہے جس پر مقامی بااثر نے قبضہ کر کے محکمہ آبپاشی کے ٹھیکدار کی سیمنٹ کی سینکڑوں بوریاں اور اپنے عملے کی رہائش کے لئے چارپائیاں اور بسترے لگا رکھے ہیں۔ اسکول بند ہونے کی وجہ سے بچیوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے، دوسری تصویر دو ماہ سے بند بھریا روڈ کے گوٹھ نبی بخش راجپر کے مین پرائمری اسکول کی ہے اسکول کے طلباء و طالبات استاد نہ ہونے کے خلاف اسکول کے سامنے مظاہرہ کر رہے ہیں۔رہائشیوں نے متعلقہ تعلیمی افسران کو شکایات کیں اور تحریری طور پر بھی درخواستیں دیں، لیکن محکمہ نے کوئی اقدام نہیں کیا کہ تعلیم کا باقاعدہ بندوبست ہو سکے۔

یہ درست ہے کہ ملک بھر میں تعلیم کا نظام اطمینان بخش نہیں لیک سندھ میں تعلیم کی تباہی گزشتہ چار عشروں سے بلا رکاوٹ بڑی تیزی سے جاری ہے۔ ہر اقتداری دور سرکاری تعلیم کو تباہی کی طرف لے جاتا رہا ہے۔ اور ہر آنے والا دور مزید تباہی کو وہاں سے شروع کرتا ہے جہاں گزشتہ دور نے اس تباہی کو چھوڑا تھا۔ سندھ میں جب خراب حکمرانی اور بدانتظامی کی شکایت کی جاتی ہے تو اسے جمہوریت کے خلاف سازش قرار دیا جاتا ہے۔ حقیقی معنوں میں جمہوریت کے خلاف سازش تو یہ ہے کہ بد انتظامی اور خراب کارکردگی کی وجہ سے جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچنے نہ پائیں۔ ہمارے حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ حکمرانی صرف د عوے اور وعدے کرنے کا نام ہے۔ مہذب ملک اپنے مستقبل کے لئے تعلیم میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سندھ میں جان بوجھ کر تعلیم کو تباہ کیا جارہا ہے۔ کئی ماہ تک اسکول بغیر استاد کے رہتے ہیں لیکن محکمہ تعلیم اس سے بیخبر ہرتا ہے۔

آج بھی سندھ میں سینکڑوں سکول بھینسوں کے باڑوں اور اناج کے گودام بنے ہوئے ہیں۔ کئی اسکولوں پر باثر افراد کے قبضے ہیں۔ محکمہ تعلیم یہ قبضے چھڑانے سے عاجز ہے۔ کچھ عرصہ قبل محکمہ تعلیم کی انتظامیہ نے اسکولوں پر بااثر افراد کے قبضے چھڑانے میں بدترین ناکامی کے بعدان اسکولوں کو غیر ضروری قرار دے کر بطور اسکول ختم کردیا تھا۔ لہٰذا یہ عمارتیں ان بااثر افراد کو بطور بخشش دی گئیں۔ اساتذہ کی بایو میٹرک نے کرپشن کی ایک نئی ونگ قائم کردی۔

جس طرح نجی ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کے لئے ریلوے اور سرکاری ٹرانسپورٹ کو تباہ کیا گیا، اسی طرح صوبے میں تعلیم اور صحت کے سرکاری نظام کو تباہ کر کے نجی سرمایہ کاروں کے لئے سہولت اور مواقع پیدا کئے جارہے ہیں۔


ای پیپر