نئی خوشخبریاں۔۔۔!
21 دسمبر 2018 2018-12-21

نئے سال کی آمد پر حکومت کی طرف سے عوام کو بجلی کے نرخوں میں اضافے اور مالیاتی خسارہ پورا کرنے کے لئے آئندہ ماہ مِنی بجٹ لانے اور ٹیکسوں میں اضافے کی ’’ خوشخبریاں ‘‘ سُنا دی گئیں ہیں۔ نیپرا نے یکساں پاور ٹیرف کا اِطلاق کرتے ہوئے بجلی کے صارفین پر اضافے کے 226ارب روپے کا بوجھ ڈالنے کا فیصلہ کرتے ہوئے بجلی 1.27روپے فی یونٹ مہنگی کر دی ہے۔ یہ اضافہ ترمیمی نیپرا ایکٹ کے تحت بجلی کی ترسیلاتی کمپنیوں (ڈسکوز) کے مستحکم اکاؤنٹس کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ بجلی ٹیرف کے اِس اضافے کا اثر زیادہ بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین پر پڑے گا۔ ٹیرف کے اضافے سے وہ صارفین متاثر نہیں ہونگے جو ماہانہ 300یونٹس تک بجلی استعمال کریں گے۔ البتہ جو صارفین بلحاظِ وقت (ٹی او یو)میٹر استعمال کر رہے ہیں اُنہیں پیک آور ٹیرف کے تحت 20.70روپے کے تحت ادائیگی کرنی ہوگی اور کم پیک ٹیرف کے تحت 16.70روپے فی یونٹ کے حساب سے ادائیگی کرنی ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ گھریلو صارفین کو 300یونٹس تک بجلی استعمال کرنے کی صورت میں ملنے والی سہولت بڑی تھوڑی تعداد میں ہی صارفین کو حاصل ہو سکے گی۔ اس لئے کہ اس وقت زیادہ تر ٹی او یو(بلحاظِ وقت) میٹر استعمال کیے جا رہے ہیں۔

بجلی کے نرخوں میں اضافے کے اس فیصلے کو سامنے رکھتے ہوئے مجھے ملتان سے تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر منتخب قومی اسمبلی کے رکن محمدابراہیم خان کی اگلے روز پی ٹی وی کے اینکر پرسن سید انوار الحسن کے پروگرام میں کی جانے والی گفتگو یاد آ رہی ہے۔ تحریکِ انصاف کے ممبر قومی اسمبلی ارشاد فرما رہے تھے کہ میں نے وزیر اعظم عمران خان کو کہا ہے کہ ہم نے عوام کو سستی بجلی مہیا کرنی ہے اور اس کے لئے تھرمل کی بجائے ہائیڈل منصوبوں سے پیدا کردہ بجلی پر انحصار کرنا ہے جس پر لاگت 3روپے اور کچھ پیسے فی یونٹ آتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت نے بجلی کے مہنگے منصوبے لگائے جن سے فی یونٹ بجلی کی پیداواری لاگت بڑھی ہے جب کہ ہم سستی بجلی پیدا کر کے عوام کی مشکلات کم کریں گے۔ جناب محمد ابراہیم کے اِن ارشادات اور نیپرا کی طرف سے بجلی کے نرخوں میں 1.27روپے فی یونٹ اضافے کے فیصلے سے میں سوچوں میں گم ہوں کہ کسے درست سمجھوں۔ جناب محمد ابراہیم خان کی عوام کو سستی بجلی مہیا کرنے کی خوشخبری کو یا نیپرا کی طرف سے بجلی کے نرخوں میں 1.27روپے فی یونٹ اضافہ کرنے کے فیصلے کو۔ ویسے جناب محمد ابراہیم خان کے ہائیڈل منصوبوں سے

سستی بجلی پیدا کر کے عوام کو مہیا کرنے کے دعوے یا خوش کن اعلان کو ایں خیال است ، محال است و جنوں است ہی سمجھا جا سکتا ہے کہ بجلی تھرمل منصوبوں سے پیدا کی جانی ہو یا ہائیڈل پاور پراجیکٹ سے خاص طور پر ہائیڈل پاور پراجیکٹ سے اس کے لئے لمبا عرصہ ہی درکار نہیں ہوتا ہے بے پناہ وسائل کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومتیں بدل جاتی ہیں تب بھی ہائیڈل پاور پراجیکٹس کاغذوں پر موجود منصوبوں سے آگے نہیں بڑھ پاتے ہیں۔ کیا دیا میر بھاشا ڈیم کی مثال ہمارے سامنے موجود نہیں جس کے لئے مسلم لیگ کی حکومت اگرچہ اپنے دورِ حکومت کے سالانہ میزانیوں میں خطیر رقوم مخصوص کرتی رہی اور ڈیم کی فیزی بلٹی رپورٹ کی تکمیل اور اراضی کے اصول سمیت ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے کچھ ٹھوس پیش رفت بھی ہوئی ہے ۔لیکن برسرِ زمین حقیقت یہی ہے کہ اس کی تعمیر کے لئے عملی طور پر واضح پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے۔ پتہ نہیں اور کتنے برس بیت جائیں گے کہ اس کا تعمیراتی کام مکمل ہوگا اور یہاں سے سستی بجلی حاصل ہو سکے گی۔

ویسے محمد ابراہیم خان صاحب سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی جماعت کے قائد وزیر اعظم جناب عمران خان کو یاد دِلائیں کہ اُن کے آبائی ضلع میانوالی کے قصبہ کالا باغ کے مقام پر دریائے سندھ پر کالا باغ ڈیم کے نام سے پانی ذخیرہ کرنے اور سستی بجلی پیدا کرنے کا ایک بڑا منصوبہ زیر التوا چلا آرہا ہے۔ وہ اس کی تعمیر کا کوئی بندوبست کریں تویہ قوم پر اور آئندہ نسلوں پر بہت بڑا احسان ہوگا۔ کیا یہ قومی المیہ نہیں ہے کہ پچھلی صدی کی ستر کی دہائی میں بڑی محنت سے جس منصوبے کی فیزی بلٹی رپورٹ ہی تیار نہیں ہوئی بلکہ بعد کے سالوں میں اربوں روپے کے اخراجات سے رہائشی کالونیاں اور دوسری تعمیرات بھی مکمل ہوئیں اُسے ہم نے سیاست کی اس طرح بھینٹ چڑھا دیا کہ اُس کا نام لینا بھی گالی بن گیا۔ کیا یہ ہماری ناشکری اور قدرت کی عطا کردہ نعمتوں کی احسان ناشناسی نہیں ہے کہ 3500میگاواٹ بجلی پیدا کرنے اور 6.5میلین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کے اس منصوبے کو جسے چار سالوں کے انتہائی کم عرصے میں مکمل کیا جا سکتا ہے ہم نے طاقِ نسیاں بنا کر ہمیشہ کے لئے فراموش کر دیا ہے ۔ ؂الحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں کہ ہم آج ملک میں پانی کی قلت اور پانی کو محفوظ نہ کرنے کا رونا قومی سطح پر رو رہے ہیں۔ اور وہ وقت دُور نہیں جب ہم پانی کے قطرے قطرے کے لئے روئیں گے۔

اَب حکومت کی طرف سے عوام کو ملنے والی دوسری خوشخبری کی طرف آتے ہیں وفاقی وزیر خزانہ اَسد عمر نے کہا ہے کہ مالیاتی خسارہ پورا کرنے کے لئے آئندہ ماہ جنوری میں منی بجٹ لانے اور ٹیکسوں میں اضافے پر غور کیا جا رہا ہے۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو دی گئی بریفنگ میں اُن کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اَب ماہانہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ سعودی ارب سے 2ارب ڈالر مل چکے ہیں جنور ی میں مزید ایک ارب ڈالر ملیں گے۔ سعودی ارب سے 3.18%سُودرپر قرضہ لیا گیا ہے ۔جنوری میں سعود ی عرب سے تیل اُدھار پر ملنا شروع ہو جائے گا ۔ چین سے اِمدادی پیکج پر معاہدے طے پا چکے ہیں۔ چین کے کمرشل بنکوں سے قرضے ملیں گے۔ جناب اسد عمر کے اِن خیالات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کس طرح کی معاشی بدحالی سے دو چار ہے ۔ اور اِس بات کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے دِنوں میں عوام کو مہنگائی اور ٹیکسوں میں اضافے کی صورت میں نہ جانے اور کتنی خوشخریاں سُننے کو ملیں گیں۔ جناب اسد عمر کے اِن خیالات کو دیکھا جائے تو یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ جناب اَسد عمر ماضی کی حکومتوں کے فیصلوں اوربرسوں سے جاری چلی آنے والی معاشی منصوبہ بندی کو آگے لے کر چل رہے ہیں کہ ماضی میں بھی حکومتیں اسی طرح بیرونی قرضوں پر انحصار اور ان کے حصول کو اپنی کامیابی سمجھتی رہی ہیں۔


ای پیپر