نیکٹا کو پوری طرح فعال کیا جائے
21 دسمبر 2018 2018-12-21

دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ ایک قومی ذمہ داری ہے۔ وفاقی حکومت، مسلح افواج کے ادارے، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور تمام صوبوں کی حکومتیں بیک وقت اس قومی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لئے مستعد ہو جائیں تو اس مصیبت سے نجات حاصل کرنے کی صورت پیدا ہو گی۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کوبھی فعال قومی کردار ادا کرنا چاہئے۔ بہتر ہو گا اصلاح احوال کے لیے باقاعدہ اقدامات کا تعین کر کے ان پر بلاتاخیر عمل درآمد شروع کر دیا جائے ۔ اسی طرح قانون نافذ کرنے والے سول اداروں کی استعداد کار اور قوانین کے اندر اگر کوئی سقم رہ گیا ہے ان تمام امور کے بارے میں حقائق بھی قوم کے سامنے آنے چاہئیں تاکہ اہل وطن جان سکیں کہ نیشنل ایکشن پلان حقیقت میں کہاں کھڑا ہے اور اسے تیز تر کرنے کے لئے فی الواقع کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ جہاں تک انٹیلی جنس ایجنسیوں کا تعلق ہے توقع تھی کہ نیکٹا یعنی ’’نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی‘‘ کو پوری طرح فعال کر دیا جائے تاکہ ملک کی تیس کے قریب انٹیلی جنس ایجنسیاں ایک نظام عمل کے تحت آ جائیں بلکہ اسی طرح جس طرح امریکہ میں نائن الیون کے بعد 16 انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ایک ادارے کے ماتحت کر دیا گیا تھا جس سے ان کا نظام کار زیادہ مضبوط، زیادہ فعال اور زیادہ نتیجہ آور بن گیا۔ امید ہے اس جانب بھی پوری توجہ دی جائے گی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارکردگی کے حوالے سے اس اہم پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ اگر امریکہ میں ہوم لینڈ سکیورٹی ادارے کے تحت تمام ایجنسیاں مربوط انداز میں کام کر سکتی ہیں، تو پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ یہ بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ نیکٹا کے متحرک اور فعال ہونے کی راہ میں اب کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کی جائے تو یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ یہ ادارہ پاکستان میں امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کے ادارے کی طرح فعال کردار ادا کر سکتا ہے ۔

وطن عزیز میں جب تک دہشت گردوں، ان کی تنظیموں، ان کے سرپرستوں، ان کے سہولت کاروں کے لئے وہ جہاں اور ارض وطن کے جس حصے میں پائے جاتے ہیں انہیں کیفرکردار تک نہیں پہنچایا جاتا اس وقت تک دہشت گردی کے آسیب سے قوم و ملک کو چھٹکار ا نہیں مل سکتا۔ لہٰذا نیشنل ایکشن پلان جو دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہولناک اور درجنوں پھولوں جیسے نونہالوں کی زندگی چھین لینے کے واقعے کے بعد پارلیمنٹ کی باقاعدہ منظوری سے طے پایا تھا ۔ اس کا مؤثر ترین نفاذ امر لازم بن چکا تھاکیونکہ جون 2014ء میں آپریشن ضرب عضب کے آغاز اور دسمبر 2014ء میں نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ کے بعد اگرچہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں کمی واقع ہوئی، اس کے باوجود ملک کے کئی حصوں میں دہشت گردوں کے سلیپر سیل موجود ہیں اور ان کے افغانستان اور بھارت وغیرہ میں منصوبہ سازوں کے ساتھ روابط بھی ہیں۔لازم ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی بچی کھچی کمین گاہوں کو اکھاڑ پھینکا جائے اور وہ عناصر جو ان کے رابطہ کار کا کام کرتے ہیں انہیں پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھنے کی اجازت نہ دی جائے ۔ ضروری ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کی رفتار کار کا جائزہ لینے اور اس کی مکمل نگہبانی کرنے کے لئے ٹاسک فورس کو مزید متحرک کیا جائے ۔ اس کی نگرانی وزیراعظم خود کریں اور اس میں وفاقی حکومت کے نمائندوں کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے نمائندے بھی شامل کئے جائیں۔ اس کے علاوہ دیگر اداروں اور ماہرین سے بھی مدد لی جائے ۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ان کے کام کو زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے زیادہ سہولتیں اور وسائل مہیا کئے جائیں ۔

دریں چہ شک کہ سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لئے سنجیدہ ہے۔ عیاں را چہ بیاں کہ نیشنل ایکشن پلان کا بنیادی مقصد ملک میں قیام امن و امان اور نفاذ قانون کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا اور انسدادِ دہشت گردی کو یقینی بنانا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردانہ اور تخریب کارانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد اور گروہوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہر ذمہ دار حکومت کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ 16 دسمبر 2014ء کے سانحہ پشاور کے بعد سیاسی و عسکری قیادت نے نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق کیا تھا۔ اسی کے نتیجے میں فوجی عہدیداروں اور سول حکومت کے اشتراک سے اپیکس کمیٹیاں بنائی گئی تھیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کا فروغ نائن الیون کے بعد افغانستان میں شروع کی جانے والی مبینہ بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد ہوا۔ ضروری تھا کہ اکتوبر 2002ء سے مئی2018ء تک جو پارٹیاں برسر اقتدار رہیں، وہ اس ضمن میں مربوط لائحہ عمل بناتیں۔

جہاں تک نیشنل ایکشن پلان کا تعلق ہے اس کے اہم نکات میں دینی مدرسوں میں اصلاحات، خلاف قانون تنظیموں کے مراکز اور کارروائیاں بند کرنا، دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے پر سخت پابندی، فاٹا میں اصلاحات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار کو بڑھانا اور فوجداری قوانین کے اندر پائے جانے والے اسقام کو دور کرنا شامل ہیں۔ ہمارے نزدیک بہتر ہوتا کہ نیشنل ٹاسک فورس کے قیام کے ساتھ اس بات کا بھرپور جائزہ لیا جائے کہ دینی مدرسوں میں اصلاحات کا کون سا پہلو باقی رہ گیا ہے ۔ جہاں تک دہشت گردی کو فروغ دینے والی تنظیموں کا تعلق ہے وہ عموماً نام بدل کر دوبارہ کارروائیاں شروع کر دیتی ہیں۔ ان کے بارے میں بھی قوم کو آگاہی ملنی چاہئے، کونسی تنظیمیں کس نئے روپ میں متحرک ہیں اسی طرح جو اندرونی و بیرونی عناصر دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرتے ہیں ان کا ہمارے اداروں کی نظروں سے چھپا رہنا بعیداز قیاس ہے۔داخلی سلامتی کی صورت حال پر غور کرتے ہوئے دہشت گردوں کی فنڈنگ کو کنٹرول کرنے کے مو جودہ میکانزم کا جائزہ لیاجائے۔ نام تبدیل کرکے کام کرنے والی کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا، صوبوں کی مشاورت اور نیشنل ایکشن پلان پر مربوط اور تیز عملدرآمد کے لیے بین الصوبائی اجلاس بلائے جائیں۔ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے صوبوں کو مزید فنڈز بھی دیے جائیں۔ ملک بھر میں نفرت انگیز مواد کی اشاعت اور اس کو پھیلانے والے افراد کے خلاف کارروائی ، دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کیلئے موثر اقدامات کیے جائیں۔

یہ ایک کھلا راز ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں وفاق کے ساتھ صوبوں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ دہشت گردوں کی نقل و حرکت، کارروائیاں، انفراسٹرکچر اور ان کے اہداف زیادہ تر صوبوں میں ہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام صوبائی حکومتیں دہشت گردی کی اس جنگ میں اب وفاق کو مکمل تعاون فراہم کریں۔ تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مکمل ہم آہنگی اور تال میل ہو۔ انٹیلی جنس شیئرنگ کے ساتھ ساتھ ملنے والی معلومات کے بعد ان کی نگرانی اور جانچ پڑتال کا انتہائی مؤثر نظام قائم کرنے کے بعد اس پر پوری طاقت اور عزم کے ساتھ عمل کیا جائے ۔ بہتر نتائج کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل تعاون، رابطہ اور عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔ اندریں صورت جب کہ دہشت گردوں کی اندرون و بیرون ملک فنڈنگ روکنے کے لئے قانون سازی کا بھی اعلان کیا جاچکا تھا ۔ اہم ترین فیصلوں پر اگرحرف بہ حرف عملدرآمد صوبائی و وفاقی سطح پر زمینی حقیقت کی شکل میں سامنے آجائے تو عمومی تاثر یہی ہے کہ ملک میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوسکتا۔یہ امر پیش نظر رہے کہ انسانی مساعی کبھی 100 فیصد نتائج کے حامل نہیں ہوا کرتیں۔ نتائج میں کمی بیشی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ خدانخواستہ کوئی واقعہ اگر رونما ہو بھی جائے تو ردعمل میں ماضی کی اس مذموم روایت کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے کہ ادارے اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دیں۔ اب اس کی ذمہ داری کسی ایک ادارے پر نہیں تمام اداروں پر عائد ہوگی ۔ یہ مائنڈ سیٹ اب تبدیل ہونا چاہیے۔


ای پیپر