فوٹو بشکریہ فیس بک

جمال خشوگی قتل، سعودی حکومت کا انٹیلی جنس کارروائیوں کی نگرانی کا فیصلہ
21 دسمبر 2018 (12:42) 2018-12-21

ریاض: سعودی حکومت نے جمال خشوگی کے قتل کے بعد انٹیلی جنس کارروائیوں کی نگرانی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی حکومت سرکاری کمیٹیاں تشکیل دے گی جو ملک میں ہونے والی انٹیلی جنس کارروائیوں پر نظر رکھے گی۔ سعودی فرمانرواں شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو اس ٹیم کا ہیڈ مقرر کیا ہے۔ صحافی جمال خشوگی کے قتل کے بعد سعودی عرب کو بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر ترکی اور امریکا کی جانب سے اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھایا گیا۔

واضح رہے کہ ترک صدر نے اعلان کیا تھا کہ وہ سعودی عرب سے تحریری درخواست کریں گے کہ جمال خشوگی کے قتل میں ملوث 18 افراد کو ترکی کے حوالے کیا جائے۔ تاکہ ہم مجرموں کے خلاف کارروائی اور تحقیقات کرسکیں۔ ترکی نے سعودی صحافی قتل کیس میں سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف احمد العسیری اور سابق مشیر سعود القحطانی کے وارنٹ گرفتاری جاری بھی کیے۔ ترک تحقیقات میں ان دونوں پر سعودی صحافی کے قتل میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا کہ جمال خشوگی کے قتل میں ملوث کسی سعودی شہری کو ترکی کے حوالے نہیں کریں گے۔

ادھر امریکی سینیٹ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو صحافی جمال خشوگی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے کی قرارداد منظور کرلی جس میں قتل کی مذمت بھی کی گئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ استنبول کے سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خشوگی کا قتل سعودی عرب کی جانب سے معاملے کو من پسند طریقے سے پیش کرنے کی بدترین مثال ہے۔

یاد رہے کہ جمال خشوگی کو 2 اکتوبر کو استنبول کے سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا۔


ای پیپر