”بس کر دیں یار ۔۔“
21 دسمبر 2018 2018-12-21

ہمارے وزیر خزانہ جناب اسد عمر نے ایک اور منی بجٹ کا عندیہ دے دیا ہے جس میں ٹیکسوں کی شرح مزید بڑھا ئی جائے گی حالانکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت کی ایسی تیسی ہونے کے بعدعام آدمی ویسے ہی خود کو گنے کا رس نکالنے والے بیلنے میں محسوس کر رہا ہے، دروغ بہ گردن راوی، کہتے ہیں کہ اسد عمراپنی بھرپور جوانی میں لیموں کی شکنجنین بیچنے والی ایک ریڑھی پر پہنچے اور ریڑھی والے کوبتایا کہ وہ لیموں کا رس اچھی طرح نہیںنکال رہا۔ ریڑھی والے قہقہہ لگایا اور بولا میں پہلوان ہوں اور میں جس طرح رس نکالتا ہوں کوئی دوسرا نہیں نکال سکتا، ااس نے لیموں پکڑا، ایسا نچوڑا اور مروڑا کہ لیموں کی چیخیں نکل گئیں،دھان پان سے جناب اسد عمر مسکرائے، اسی لیموں کو پکڑا اور ایسی مہارت کا مظاہرہ کیا کہ اس لیموں میں سے مزید قطرے ٹپ ٹپ گرنے لگے بلکہ گواہی ملتی ہے کہ ٹوکری میں پڑے ہوئے درجنوں لیموں بھی خود بخود پانی پانی ہو گئے، یہ تو ماضی اور جوانی کا واقعہ ہے جو ان کے وزیر خزانہ بننے کے بعدکی کارکردگی میں ہرگز مبالغہ آمیز نہیں لگتا بلکہ نظر آ رہا ہے کہ تجربے نے ان کی صلاحیتوں کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔

جناب اسد عمر کہتے ہیں کہ عوام بچت کریں تاکہ اس بچت سے حکومت کو ٹیکس ادا کئے جا سکیں۔ انہوں نے شیخ خاندان کا یہ معروف واقعہ یقینا سن لیا ہوگا کہ جب اللہ بخشے بڑے شیخ صاحب زندہ تھے توانہوں نے دیسی گھی کی ایک بوتل کھانے کی میز پر رکھی ہوئی تھی، گھر والے ہر روز سختی سے بند اس بوتل کے باہر روٹی لگاتے، شیخ صاحب کے بقول دیسی گھی سے چُپڑی روٹی کے مزے اڑاتے، کہنے والے کہتے ہیں کہ بڑے شیخ صاحب اسحاق ڈار صاحب کے مداح تھے۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ ستر برس کی عمر میں بڑے شیخ صاحب کا انتقال ہو گیا اور گھر کی حکمرانی پینتالیس برس کے چھوٹے شیخ صاحب کے پاس آ گئی، راوی یہاں بیان کرتا ہے کہ جناب اسد عمر کے مُرید چھوٹے شیخ صاحب نے اس دیسی گھی کی بوتل کوایک الماری میں بند کرتے ہوئے تالا لگا دیا، کہنے لگے جس نے دیسی گھی والی روٹی کھانی ہے وہ الماری کے دروازے کو لگا کے کھائے، بہت ہو گیا، اب یہ بڑے شیخ صاحب والی عیاشیاں نہیں چلیں گی۔

بچت بہت ضروری ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج کل وزارت خزانہ میں سب کو حکم ہے کہ وہ اپنی ایک آنکھ بند رکھیں۔ جب یہ حکم جاری ہو رہا تھا تو کسی نے پوچھا، جناب یہ حکم کیوں، جواب ملا، فضول خرچی نہیں چلے گی ، جب ایک آنکھ سے کام چل سکتا ہے تو دوسری کیوں استعمال کی جائے۔ ایک کان ، ایک نتھنے، ایک ٹانگ اور ایک ہاتھ تو ٹھیک رہا مگر سننے میں آ رہا کہ اب واحد، چھوٹا سا دماغ استعمال کرنے کی فضول خرچی بھی بند کر دی گئی ہے۔ نئے پاکستان میں جب پی ٹی آئی کے ایک کمٹڈ کارکن سے کمیونٹی کلب والوں نے سوئمنگ پول بنانے کے لئے چندہ مانگا تو اس نے ملازم کو حکم دیا کہ انہیں سوئمنگ پول کے لئے ایک گلاس پانی عطیہ کردو اور دیکھو ، گلاس ساتھ والوں کے نلکے سے بھرنا۔ پرانے پاکستان میں لوگ باہر کھانا کھانے کے جایا کرتے تھے، کہتے ہیں کہ نئے پاکستان میں بھی ایک روز کہا گیا کہ آج سارا خاندان باہر کھانا کھائے گا، تیار ہوجائیں، جب سب گھر والے تیار ہو گئے تو علم ہوا کہ جناب اسد عمر کے حکم پر کھانا صحن میں لگا دیا گیا ہے۔

بچت میںگڑ بڑ بھی ہوجاتی ہے کہ ایک حکومتی رکن اسمبلی چودھری صاحب نے دیکھا کہ ان کا ملازم روزانہ رات کو لالٹین جلا کے اپنی محبوبہ سے ملنے کے لئے جاتا ہے، انہیں جناب اسد عمر صاحب کی طرف سے بچت کی پالیسی یاد آ گئی، ملازم کو ڈانٹتے ہوئے بولے، یہ فضول خرچی کرنے کی کیا ضرورت ہے، جب میں تمہاری عمر کا تھا اور محبوبہ سے ملنے کے لئے جاتا تھا تو بغیر لالٹین کے اندھیرے میں جاتا تھا۔ ملازم نے برا سا منہ بنایا اور بولا، بتانے کی ضرورت نہیں، چودھرائن کی شکل دیکھ کے ایسے ہی لگتا ہے، آپ نے بے وقوفی کی، اندھیرے میں تو ایسی ہی چیزیں ہاتھ آتی ہیں۔ پاکستانیوں نے بھی حکومت کا انتخاب لالٹین جلائے بغیر ہی کر لیا ہے۔اپوزیشن کہتی ہے کہ حکومت سو دنوں میں سو لطیفوں کی خالق رہی اور عین ممکن ہے کہ کسی روز کسی عدالت میں تحریک انصاف کا کوئی کارکن درخواست دائر کر دے کہ حکومتی لطیفے بیان کرنے پر پابندی عائد کر دی جائے جس طرح آج سے تین برس پہلے دلی ہائیکورٹ میںا یک سردار جی نے رٹ دائر کر دی تھی اوراپنی درخواست کے ساتھ ساٹھ لطیفوں کی ایک لسٹ بھی منسلک کر دی تھی۔ سیانے کہتے ہیں کہ ہر لطیفہ دراصل میں ایک المیہ ہوتا ہے ،ایک ناقابل بیان لطیفہ ( یا المیہ) یاد آ گیا، اسد عمر صاحب قوم کو کچھ اور کرنے دیں یا نہ دیں ، رونے تو دیں ۔

ہردور کے حکمران کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی ٹیکس نہیں دیتے، وہ بتاتے ہیں کہ اکیس، بائیس کروڑ پاکستانیوں میں سے صرف دس لاکھ ٹیکس ریٹرن جمع کرواتے ہیں اور اعداد و شمار کے مطابق ان میں بڑی تعداد تنخواہ گزار وں کی ہے۔ کسی سیانے نے کہا ہے کہ ایک جھوٹ ہوتا ہے، ایک سفید جھوٹ ہوتا ہے اور اس سے بھی اگلے درجے کے جھوٹ کو اعداد وشمار کہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر پاکستانی ٹیکس نہیں دیتے تو کیا حکمران او ربیوروکریٹ اس ملک کو اپنی جیب سے چلاتے ہیں اور جب ان کے ورلڈ بینگ اور آئی ایم ایف سمیت دنیا بھر کے اداروں سے لئے ہوئے قرضوں کی قسطیں ادا ہوتی ہیں تو کیا ان اصحاب کے ذاتی اکاونٹس سے ہوتی ہیں، ہرگز نہیں،پاکستان اچھا برا جیسا بھی چلا اور بناہے وہ پاکستانیوں کے ٹیکسوں سے ہی چلا اور بنا ہے اور ہمارا سوال یہ ہے کہ ان ٹیکسوں سمیت پوری قومی آمدن کو خرچ کرنے کا آپ کو سلیقہ ہے یا نہیں۔ یہ درست ہے کہ پاکستان میں براہ راست ٹیکس ادا کرنے والے کم ہیں مگر کیا آپ نے باالواسطہ ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد اور ادا کئے جانے والی ٹیکس کی شرح کے بارے سوچا اور جانا ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چودھری کہتے ہیں کہ وہ موبائل فون پر اڑتیس فیصد ٹیکس ہے اور اس سے زیادہ مناسب ٹیکسشین کیا ہو گی ،ا نہوں نے یہ جواب ملک میں لائے جانے والے چھبیس ہزار روپوں کی مالیت کے فون پردس ہزار سے زائد عائد کی جانے والی ڈیوٹی پر کیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو فواد چودھری جتنا امیر کرے تاکہ ہمیںاڑتیس فیصد ٹیکس انتہائی مناسب لگے۔

میں پاکستان کا ایک عام شہری ہوں، میں شناختی کارڈ کی بھاری فیس ادا کرتے ہوئے گویا اس ملک میںسانس لینے کا بھی ٹیکس ادا کرتاہوں اور پانی پینے پر بھی ٹیکس ادا کرتا ہوں ۔ گھرمیں رہنے پر بھی پراپرٹی ٹیکس دیتا ہوں اور باہر نکل کر ایک چیونگم چبانے پر بھی ٹیکس ادا کرتا ہوں۔میں اگرمڈل یا اپر مڈل کلاس سے ہوں اور میرے پاس ایک گاڑی ہے تو اسے خریدتے وقت بھی میںسیلز ٹیکس ہی نہیں بلکہ امپورٹ، کسٹم ویلتھ اور لگژری سمیت نجانے کون کون سے بھاری ٹیکس اور ڈیوٹیاں ادا کرتا ہوں ، چلانے سے پہلے رجسٹریشن کا ٹیکس ادا کرکے نمبر لگواتا ہوں، چلانے لگتا ہوں توڈرائیونگ لائسنس کی فیس کے علاوہ ٹوکن ٹیکس بھی دیتا ہوں، گاڑی سڑک پر آتی ہے تو پٹرول ڈلواتے ہوئے اور موبل آئل تبدیل کرواتے ہوئے بھی ٹیکس ادا کرتا ہوں جبکہ ٹائروں اور سپئیر پارٹس پر الگ سے ٹیکس ہیں۔ گاڑی کھڑی کرتا ہوں توپارکنگ ٹیکس ادا کرتا ہوں ، رنگ روڈ ہو یاموٹر وے مختلف سڑکوں سے گزرتا ہوں تو ٹال ٹیکس ادا کرتا ہوں۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اب مجھ سے بھاری جرمانوں کی صورت بھی وصولی کی جاتی ہے۔ موجودہ حکومت قائم ہونے کے بعدمعمول میں مڈل اور اپر مڈل کلاس کے زیر اسععمال سڑکوں پر نظر آنے والی تمام گاڑیاں ایک سے چار لاکھ روپوں تک مہنگی ہو چکی ہیں تو کیا ایک نئے منی بجٹ کا اعلان کرنے والے جناب اسد عمر سے درخواست کی جا سکتی ہے کہ وہ اب بس کر دیں ،قوم کی آواز کے ساتھ سانس بند کرنے والا کام نہ کریں۔


ای پیپر