دن بھر جلا کے شب کو بجھایا گیا ہوں میں
21 دسمبر 2018 2018-12-21

فلمسٹار علی اعجاز اپنے عہد کے مقبول فنکار تھے ان کی وفات پر نئی نسل پوچھ رہی ہے یہ کون تھے؟ جس پر نجانے کیوں جدید نظم کے منفرد شاعر مجید امجد کی نظم آٹو گراف یاد آگئی۔

کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے

کتا بچے لئے ہوئے

کھڑی ہیں منتظر لڑکیاں

ڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر حسین لڑکیاں

مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کواڑ چیخ اٹھے

اُبل پڑے الجھتے بازوﺅں چٹختی پسلیوں کے پُر ہراس قافلے

گرے بڑھے مٹرے بھنور ہجوم کے

کھڑی ہیں یہ بھی یہ راستے پہ اک طرف

بیاضِ آرزو بکف

نظر نظر میں نارسا پرستشوں کی داستان

لرز رہا ہے دم بہ دم

کمانِ ابروﺅں کا خم

کوئی جب ایک نازِ بے نیاز سے

کتابچوں پہ کھینچتا چلا گیا

حروفِ کج تراش کی لکیر سی

تو تھم گئیں لبوں پہ مسکراہٹیں شریر سی

کسی عظیم شخصیت کی تمکنت

حنائی انگلیوں میں کانپتے ورق پہ جُھک گئی

تو زرنگار پلوﺅں سے جھانکتی کلائیوں کی تیز نبض رک گئی

وہ باﺅلر جو ایک مہ وشوں کے جمگھٹوں میں گھر گیا

وہ مضحہ بیاض پر بصد غرور کلکِ گوہریں پھری

حسین کھِلکھلاہٹوں کے درمیان وکٹ گری

میں اجنبی ، میں بے نشاں

میں پا بہ گل

نہ رفعتِ مقام ہے نہ شہرتِ دوام ہے

یہ لوحِ دل .... یہ لوحِ دل

نہ اس پہ کوئی نقش ہے نہ اس پہ کوئی نام ہے

علی اعجاز جس کسمپرسی کی حالت میں رخصت ہوئے، یقین نہیں آتا کہ ایک بڑا سٹار یوں خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو سکتا ہے۔

وہ بھی دور تھا جب کامیڈی فلموں کی مشہور فلمی جوڑی علی اعجاز اور ننھا ہر فلمساز اور ہدایت کار کی ضرورت ہوا کرتی تھی۔ کامیڈی کرنے والے اداکار فلموں میں ہوتے تو تھے مگر بطور ہیرو اور مرکزی کردار منطور ظریف اور رنگیلا کے بعد علی اعجاز اور ننھا ایک جوڑی کی طرح کامیاب ہوئے بلکہ ہر فلم ان کی موجودگی سے کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ علی اعجاز نے تقریباً 106 فلموں میں کام کیا جن میں باﺅجی ، سالا صاحب، سوہراتے جوائی، نوکر تے مالک ، دادا استاد، دھی رانی ، سونا چاندی ، چور مچائے شور اور مسٹر افلاطون بہت مقبول ہوئیں۔ بیشتر فلموں میں فلمسٹار ننھا ان کے ساتھ لیڈنگ رول میں رہے۔ علی اعجاز کو صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔ انہوں نے ٹیلی ویژن کی کئی ڈرامہ سیریل میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے، عطاالحق قاسمی کی خواجہ اینڈ سن سریل میں ان کی اداکاری بے حد پسند کی گئی۔ دوبئی چلو سے وہ فلموں میں مرکزی کردار کے لیے منتخب ہوئے اور پھر ننھا کی وفات تک وہ مختلف فلموں نہایت کامیاب رہے۔ آخری دور میں انہیں فلم انڈسٹری نے بُری طرح نظر انداز کیا۔

اپنے دور کے کئی کامیاب اور محفلوں کی جان ، فنکار جب سکرین سے غائب ہوتے تو ان کے اپنے قبیلے نے بھی انہیں فراموش کر دیا۔

ایسے کئی فنکار نہایت کسمپرسی کی حالت میں اِس جہاں فانی سے رخصت ہوئے۔

آج کی نسل ایسے فنکاروں سے آشنا نہیں۔ بس جب کوئی فنکار شاعر ادیب گوشئہ گمنامی میں دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو ہمیں علم ہوتا ہے کہ اپنے زمانے کا کتنا بڑا فنکار ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگیا ہے۔ مرنے کے بعد ہم کالم لکھنے والے یا میڈیا کے لوگ جاگ اٹھتے ہیں۔

کاش! اِن فنکاروں اور تخلیق کاروں کی زندگی میں ‘ ایامِ بیماری میں ان کی خبر گری کی جائے۔ ان کی دلجوئی کا بندوبست کیا جائے۔ ان کی عیادت کے لیے جایا جائے۔ مگر اکیسویں صدی کے انسانوں کے لیے تو اپنے لیے بھی وقت نہیں۔ وہ علیل اور گوشئہ کرب میں پڑے فنکاروں اور اہل قلم کے لیے کہاں سے وقت نکالیں؟ حالانکہ یہ وقت تو کسی پر بھی آسکتا ہے۔

ڈاکٹر انور سجاد جیسا فنکار اِسی شہر کے کسی ” گوشے “ میں صاحبِ فراش ہے مگر قبیلہ ادب کے لوگوں کو یاد نہیں۔ انور سجاد نے کتنے ہی شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ خوشیوں کا باغ جیسا ناول لکھ کر پذیرائی حاصل کی مختلف ڈرامے لکھے، ان میں اداکاری کی ، رقص جیسے فن میں بھی انہیںمہارت حاصل تھی۔ تنقید بھی لکھی مگر آج وہ اِسی شہر میں علالت اور کرب سے گزر رہے ہیں۔

یہی حال ڈاکٹر سلیم اختر جیسے نامور نقاد محقق افسانہ نگار اور ماہر تعلیم کا ہے کراچی میں ڈاکٹر جمیل جالبی اور نقاش کاظمی بھی بستر علالت پر ہیں۔ ان کی حیات میں ہمارے پاس وقت نہیں کہ ان کی عیادت کو جاسکیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحتِ کاملہ عطا کرے خدانخواستہ ان میں سے کوئی ہمیشہ کے لیے ہم سے روٹھ گیا تو کسے کسے مضامین باندھے جائیں گے۔ تعزیتی کالم ریفرنس اور حال ہی میں الطاف فاطمہ جیسی تخلیق کارہ خاموشی سے چل بسیں۔ پروین عاطف ، فہمیدہ ریاض، صفدر سلیم سیال عطش درانی سلیم آغا، یہ سب لوگ چلے گئے ہم نے بھی جانا ہے مگر ہمارے پاس تو مسکرانے کے لیے بھی وقت نہیں، روئے کون! ناقدری کا یہ عالم ہے کہ بقول حیدر دہلوی

حیدر یہ بزمِ وقت میں شمع ہُنر کی قدر

دن بھر جلا کے شب کو بجھایا گیا ہوں میں


ای پیپر