کیا ایک کراچی کو زیادہ شہروں میں تقسیم نہیں کردینا چاہئے؟
21 اگست 2020 (22:14) 2020-08-21

کراچی اتنی بڑی آبادی کا ایک شہر بن چکا ہے جو پاکستان جیسے غریب ملک کے لیے ناقابل کنٹرول ہے۔ ہم اکثر یہ بات بڑی دھوم سے بتاتے ہیں کہ کراچی پورے ملک کا معاشی مرکز ہے۔ یہاں پورے ملک سے آئے ہوئے مختلف طبقوں، زبانوں اور کلچر کے لوگ رہتے ہیں۔ فخر سے بتائی جانے والی یہ باتیں ہی شاید اُس بگاڑ کی ابتداء ہیں جس کے باعث آج سب پاکستانی کراچی کے حوالے سے دکھی ہیں۔ آبادی کا ناقابل برداشت بوجھ ایک علاقے میں اکٹھا نہ کیا جاتا اور سب سے زیادہ معاشی سرگرمیوں کو صرف ایک مقام پر جمع نہ کیا جاتا تو ملک کے گوشے گوشے سے سینکڑوں میل چل کر لوگ اپنا خوشحال مستقبل تلاش کرنے کے لیے کراچی میں آباد نہ ہوتے۔ اگر معاشی سرگرمیاں، شہری سہولتیں اور بہتر مستقبل کے مواقع پاکستان کے مختلف حصوں یا کم از کم اندرونِ سندھ کے مختلف علاقوں میں پھیلا دیئے جاتے تو اتنے زیادہ انسانوں کا وزن صرف کراچی پر نہ پڑتا بلکہ بڑے علاقے پر پھیل جاتا۔ سائنس اور منطق کے اصول کے مطابق بھی جب سارا بوجھ ایک مخصوص جگہ پر ڈال دیا جائے تو وہ حصہ دبائو کا شکار ہوجاتا ہے اور اگر وہی وزن بڑے حصے پر پھیلا دیا جائے تو کوئی علاقہ بری طرح متاثر نہیں ہوتا بلکہ وزن بٹ جانے سے معاشی اور معاشرتی طور پر بہتر نتائج سامنے آتے ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے کراچی کا موجودہ دردناک ایشو اُس وقت سے شروع ہوتا ہے جب کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر، معاشی سنٹر اور مرکز بننا شروع ہوا۔ اس میں جہاں گزشتہ 73برس کے ہمارے حکمرانوں کی کم عقلی، غیرمنصوبہ بندی یا مخصوص مفادات کا حصول شامل تھا وہیں خاص نیتوں کا عمل دخل بھی تھا۔ اس پورے معاملے کی شاید پیش بندی کرتے ہوئے ہی ملک کا دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد شفٹ کیا گیا لیکن بعد میں آنے والی چالاک یا سطحی ذہن رکھنے والی حکومتوں نے دارالحکومت کی شفٹنگ کی اصل وجہ کی طرف توجہ نہیں دی بلکہ اسلام آباد کو محض حکمرانی کی مچان بناکر رکھا۔ اب بھی بڑے بڑے ملکی و غیرملکی مالیاتی اداروں کے تمام مرکزی دفاتر کراچی میں ہیں، اب بھی تقریباً تمام بینکوں کے ہیڈ آفس کراچی میں ہیں، اب بھی بڑی اشتہاری کمپنیوں کے ہیڈ آفس کراچی میں ہیں، اب بھی زیادہ تر بڑے میڈیا ہائوسز کے مرکزی دفاتر بھی کراچی میں ہی ہیں اور حد تو یہ ہے کہ چینلز پر 

اشتہارات کے لیے ریٹنگ کی ججمنٹ بھی زیادہ تر کراچی سے ہی حاصل کی جاتی ہے۔ فرض کریں اگر کراچی کی آبادی اتنی زیادہ نہ ہوتی تو کیا وہاں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بہتر نہ ہوتی؟ کیا خوبصورت کراچی کچرا سٹی بنتا؟ لیکن آبادی کیسے کم ہوسکتی تھی کیونکہ روزگار اور بہتر مستقبل کے مواقع پورے ملک سے زیادہ یہاں پیدا کئے جارہے تھے۔ یہ شروع سے انسانی فطرت ہے کہ جہاں انسانی بھوک، پیاس اور تحفظ کا بندوبست ہوگا اُسی طرف انسانوں کی ہجرت شروع ہو جائے گی۔ بالکل ایسے ہی جیسے چند چیونٹیاں اگر کوئی خوراک کا ٹکڑا دیکھ کر اُس کی طرف جائیں تو اُن کے پیچھے پیچھے لاتعداد چیونٹیاں چلی آتی ہیں۔ سیمیناروں، تقریروں اور میڈیا پر ہم اکثر تجزیئے بھی سنتے ہیں اور نصیحتوں کی باتیں بھی۔ اُن سب میں یہی کہا جارہا ہوتا ہے کہ کراچی میں امن قائم ہونا چاہئے اور کراچی کو کچرا سٹی سے خوبصورت سٹی بنانا چاہیے ورنہ کراچی کے اثرات پورے ملک پر جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اگر ہم غور کریں تو انسان صرف نصیحتوں اور تجزیئوں سے مکمل طور پر کنٹرول نہیں کئے جاسکتے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو الہامی و مذہبی کتابوں اور اقوالِ زریں کی موٹی موٹی کتابوں میں بہت سی نصیحتیں اور ہدایتیں موجود ہیں لیکن انسانوں کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون، منصوبہ بندی اور جزاوسزا کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جب کسی آبادی کا کوئی گروہ قانون سے کنٹرول نہ ہوسکے تو اُس پر نصیحتیں اور اقوال زریں بھی اثر نہیں کرتے۔ اُس کے لیے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ کراچی کی موجودہ صورتحال سے گھبرائے پاکستانی شہریوں کو دلاسہ دینے کے لیے مختلف تجاویز سامنے آتی رہی ہیں جن میں کبھی کمشنری نظام کو بحال کرنا کبھی ختم کرنا، کبھی بلدیاتی نظام لانے کی بات کرنا، کبھی شہر کو رینجرز کے حوالے کرنے اور فوج کو بلانے اور کبھی کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ اِن اقدامات سے کراچی کا موجودہ خراب ماحول اگر کسی طرح وقتی طور پر ٹھیک ہو بھی جائے تو کیا یہ ایک مستقل حل ہوگا؟ کیونکہ اس سے قبل بھی سِول اور فوجی تمام آپشنز اب تک کراچی میں استعمال کئے جاچکے ہیں لیکن معاملات کچھ عرصے بعد پھر پہلے سے زیادہ خراب ہوجاتے ہیں۔ تو کیا ہمیں کراچی کے اصل مسئلے یعنی وہاں معاشی اور دیگر سہولتوں کا پورے ملک سے زیادہ ایک جگہ اکٹھے ہونے کو زیرغور نہیں لانا ہوگا؟ کیا یہ معاشی سرگرمیاں اور سہولتیں اور مختلف دفاتر کے ہیڈ آفس صرف کراچی کی بجائے پورے ملک میں پھیلا نہیں دینے چاہئیں؟ کراچی کے موجودہ ایک شہر کو مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کیا ان زونز کو علیحدہ علیحدہ شہر بناکر ان کی سرحدیں مقرر نہیں کردینی چاہئیں؟ تاکہ ہرشہر علیحدہ سے ایک مکمل خودمختار انتظامی اور بلدیاتی شہر ہو۔ یعنی پورا کراچی ایک کی بجائے زیادہ شہروں میں تقسیم ہو جائے۔ اس طرح وہاں کی آبادیوں کو آسانی سے قانون کے دائرے میں لایا جاسکے گا۔ اہم ترین بات یہ کہ کراچی سے سبق سیکھتے ہوئے لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، پشاور، گوجرانوالہ اور ملتان وغیرہ جیسے زیادہ بڑے ہوتے دوسرے شہروں کو بھی کیا ابھی سے کنٹرول نہیں کرنا چاہئے؟ سب سے ضروری بات یہ کہ پاکستان کے سابقہ کیپٹل کراچی میں موجود سٹیٹ بینک، مالیاتی اداروں، بینکوں اور دیگر اہم اداروں کے ہیڈ آفسز کو پاکستان کے نئے موجودہ کیپٹل اسلام آباد میں ہی منتقل کرنا چاہئے کیونکہ ہیڈ آفسز کی جگہ کیپٹل میں ہی ہوتی ہے۔ 


ای پیپر