کرونا اور تعلیمی بحران… والدین،ادارے پریشان !
21 اگست 2020 (22:13) 2020-08-21

ترقی پذیر قوموں کا ایک مسئلہ ہوتا ہے کہ یہاں جب بھی کوئی بحران آتا ہے تو اپنے ساتھ مسائل کا انبار کھڑا کردیتا ہے یہی کرونا کے دوران ہوا ایک طرف کرونا، دوسری جانب بھوک،افلاس اور کروڑوں لوگوں کی بے روزگاری۔ اس وبا نے تو عالمی طاقتوں کی معیشتوں کے بھرم توڑدئیے تو ہم جیسی مقروض قوموں کا کیا حشر کیا ہوگا؟ یہاں پرتو کوئی پرسان حال بھی نہیں! 

کرونا سے تمام شعبہ ہائے زندگی کی طرح تعلیم کا شعبہ بھی بہت مشکل سے دوچار ہوا۔ پاکستان کی بات کریں تو ہمارے تعلیمی ادارے، اساتذہ، بچے اور والدین سب متاثر ہوئے۔ میں نے خود کو ایک استاد، والدہ، بچے اورتعلیمی ادارے کی سربراہ کی جگہ رکھ کر سوچا تو اندازہ ہوا کہ سب کا ہی نقصان ہوا چاہے مالی ہو یا جانی!  اس سلسلے میں کچھ علم دوست اورمخلص ماہرین تعلیم سے رابطہ کیا۔ دین اسلام، وطن عزیز اور عوام کا درد رکھنے والے ماہر تعلیم جناب سہیل بشیر جو ایک استاد ہیں اور ایک پرائیویٹ سکول چین کے ڈائریکٹر بھی ہیں ان سے کچھ سوالات کیے۔ جس پر انہوں نے صورت حال کو بہت خوبصورتی سے واضح کیا۔ پرائیویٹ سکولز کا مستقبل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا اسٹیٹ کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن اس کے پاس یہ ذرائع نہیں کہ وہ تمام بچوں کو سکولوں میں جگہ دیں۔ نہ ان کے پاس اتنے ادارے ہیں۔ 

پچھلے تیس سالوں میں لاہورسمیت گردو نواح میں لاتعداد تعلیمی ادارے بنے جو ظاہر کرتا ہے کہ اسٹیٹ اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اس تناظر میں اب پرائیویٹ سیکٹر کے بغیر تعلیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسٹیٹ بنیادی ہنگامی اور انقلابی اقدامات کرتے ہوئے بہت سارے ادارے بنائے اور ان تمام بچوں کو ان میں کھپا سکے جوکہ وقتی طور پر نظر نہیں آ رہا۔ اب حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر نے مل کر اس ذم داری کو پورا کرنا ہے۔

 اس کے علاوہ کم و بیش پاکستان کے یک کروڑ بچے سکول نہیں جارہے ان کو کس فورم پر لے کر جانا ہے یہ بھی واضح نہیں؟لہٰذا پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس میں مختلف قوموں کا طریقہ کار دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر ہم انڈیا کو فالو کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ وہ ٹیکس تمام پرائیویٹ سیکٹر کے معاف کر دیتے ہیں اس کے بدلے میں دس سے پندرہ فیصد بچوں کو سکول میں مفت پڑھایا جائے۔ وہاں بھی اسٹیٹ اپنی ذمہ داری پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ شئیر کر رہی ہے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے بغیر تعلیمی عمل کو ترویج اور ترقی نہیں دی جا سکتی۔ ایک سوال پر کہ اساتذہ کو تنخواہیں ادا کی گئیں؟ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے نے تمام جگہوں پراساتذہ کوتنخواہ ادا کی ہے البتہ وہ ادارے جو بہت زیادہ مالی بحران کا شکار ہوئے وہاں ٹیچرز کو 80 یا90 فیصد تک تنخواہیں اداکی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ادارے نے ابھی تک تمام جگہوں پر مستقل تعینات سٹاف کو مکمل تنخواہیں ادا کی ہیں۔ 

انہوں نے تعلیمی سال کے ضائع ہونے کے خدشے پر ان کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے نے تین ماہ کی تعلیمی پلاننگ مکمل کروادی ہے۔ بچوں کی آن لائن کلاسزباقاعدگی سے ٹیسٹ، ہوم ورک کی فراہمی، پرچوں کی چیکنگ اور ترسیل کا سارا عمل خوبی سے مکمل کیا گیا۔ انتظامی طور پرانہیں وسائل کی کمی کا سامنا رہا اورافسوس ناک پہلو یہ تھا کہ 

والدین کی طرف سے فیسوں کی ادائیگی کا تناسب 50  فیصد سے اوپرنہیں گیا بلکہ تیس یا چالیس فیصد تک ہی رہا۔

 مگران سنگین حالات میں بھی حکومت کی طرف سے کوئی پالیسی واضح نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پندرہ ستمبر کو تعلیمی اداروں کے کھلنے کی حتمی تاریخ پر انہیں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ ان کے لیے اولین ترجیح سٹاف اور بچوں کی سکیورٹی ہے۔ وہ اس بات پربضد نہیں کہ شادی ہال سنیما یا ٹورزم کی طرح فوراً سکول کھولے جائیں مگر انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے وزیر تعلیم نے اس ساری صورتحال میں ایک سخت اوردرشت رویہ اپنائے رکھا جو ان کے منصب کو زیب نہیں دیتا۔ باقی صوبوں میں بھی یہی حالات ہیں مگر وہاں ایسا رویہ نہیں ہے۔ یہ لہجوں کی تلخی کا وقت نہیں بلکہ مل جل کر مسئلے کا حل نکالنے کا ہے۔ اس سلسلے میں سکول مالکان کو بھی حکومتی توجہ اور اچھی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔جناب سہیل بشیر بچوں کی ذہن سازی، تعلیمی سلسلے کو مزید بہتری کے ساتھ آگے لے جانے کے لیے پر امید ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بچوں کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہے کہ ماسک پہننا ہاتھ دھونا کتنا ضروری ہے جبکہ ہمیں اب ان چیزوں کو لائف سٹائل کا حصہ بنا کر آگے چلنا ہے۔ کیونکہ ویکسین آنے کے عمل میں تقریباً چھ ماہ سے سال لگ جائے گا۔ اس لیے ہماری کرونا کی کمانڈ یا ٹاسک فورس کو ایس او پیز بنانا ہوں گی تاکہ تمام سکول اس پر عمل کریں کیونکہ پاکستانی قو م سمجھدار ہے ان ایس او پیز پر عم کرتے ہوئیہم اچھے اندازمیں اس سے نبرد آزما ہوسکتے ہیں۔اللہ رب العزت ہمیں اس سے اچھے انداز میں نکلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

صنوبر شاہین بھی ایک ماہر تعلیم اورایک ملٹی نیشنل تعلیمی ادارے کی ڈائریکٹر اکیڈیمکس ہیں ان کا کہنا تھا کرونا کے باعث تعلیمی سلسلہ رک جانے کے بعد مشکل کی گھڑی میں بھی کچھ پرائیویٹ سکولز نے نئی جدت اپناتے ہوئے نہ صرف خود اعتمادی کا مظاہرہ کیا اپنے اساتذہ کو بر سر روزگار رکھا بلکہ بچوں کے لیے آن لائن کلاسز امتحانات کا انعقاد بھی کیا تاکہ ان کا تعلیمی سلسلہ کسی نہ کسی طور چلتا رہے۔انہوں نے اپنے مثبت روئیے سے والدین کو اعتماد میں لیتے ہوئے تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں اور بچوں کا سلسلہ تعلیم سے جڑا رہا۔

 تاہم کئی پرائیویٹ سکولز نے بچوں کے والدین کے معاشی حالات سے باخبر ہوتے ہوئے بھی ان پر فیسوں کا بوجھ لادے رکھا۔ انہوں نے ایک طرف تو اساتذہ کے معاشی حالات کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں بھی تنخواہوں سے محروم کیا بچوں کو تعلیمی معاونت بھی برائے نام دی اور فیسوں کے لیے والدین کو مجبور کیے رکھا۔ رہی بات حکومت کی تو خاموشی کے سوا کچھ معلوم نہیں ہوگا پرائیویٹ سکولز کی آہ وبکا کے باوجود گورنمنٹ نے کوئی مالی اعانت نہ کی۔ اگرہمیں اپنے تعلیمی نظام کو مضبوط کرنا ہے اور روشن سے روشن ڈگر پر لانا ہے تو پرائیویٹ سکولز کو گورنمنٹ کی مالی اعانت لازمی بات ہے۔اس بحران سے نکلنے کے لیے حکومت سکول مالکان اساتذہ والدین اوربچے سبھی کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ پرائیویٹ سکولز جو تعلیمی شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں ان کی سرپرستی کرے تمام سکول کے اساتذہ کو جدید تعلیمی جدتوں سے آشنا کرنے کے لیے کورس اور ورکشاپ منعقد کی جائیں۔والدین کے لیے بھی آگاہی پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ وہ بھی اس عمل میں بچوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ ایسے پرائیوٹ سکولز جنہوں نے اس وبا کے دوران آئی ٹی کا بہترین استعمال کرتے ہوئے بچوں کا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا انہیں شامل عمل کرتے ہوئے ان سے ٹریننگ میں مدد لی جائے۔ ایسے ماڈل سکولز کو مثال بناتے ہوئے تمام باقی پرائیویٹ سکولوں کو رغبت دی جائے۔

بحیثیت ایک قوم ہمیں کسی بھی ناگہانی آفت یا حالات سے نمٹنے کے لیے اپنے اندر اکیسویں صدی کی مہارتیں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ہم واویلا مچانے کی بجائے مسئلے کا حل تلاش کرسکیں اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوں۔


ای پیپر