وفاقی محتسب: 6ماہ میں41071شکایات کے فیصلے!
21 اگست 2020 (22:12) 2020-08-21

شہریوں کی شکایات کے ازالے اور انہیں انصاف مہیا کرنے کے لیے وفاقی محتسب کی شاندار کارکردگی کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پچھلی صدی کی 80کی دہائی کے ابتدائی برسوں (غالباً1983) کی کوئی مبارک گھڑی تھی  جب وفاقی محتسب (Federal Ombudsman) کے ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ کوئی فرضی اور حقیقی اعداد و شمار نہیں اور نہ ہی خالی خولی نعرے اور بلند آہنگ دعوے ہیں  بلکہ حقیقت ہے کہ جنوری تا جون 2020ء کے چھ ماہ کے مختصر عرصے میں وفاقی محتسب سیکریٹریٹ اور علاقائی دفاتر میں 47285 شکایات کا اندراج ہی نہ ہوا بلکہ 41071 (87%) شکایات کے فیصلے بھی کر دیئے گئے۔ ان میں سے کوئی بھی شکایت ایسی نہیں تھی کہ جس کے ازالے کے لیے 60دن کی مقررہ مدت سے زیادہ وقت لیا گیا ہو۔ اکثر شکایات کنندہ گان کا مسئلہ 30 دنوں اور 45دنوں سے بھی قبل حل ہو گیا۔ ایسی متعدد شکایات بھی تھیں جن میں ایک ہفتے کے دوران ہی شکایات کنندگان کو ریلیف مل گیا۔ بلاشبہ یہ وفاقی محتسب ادارے کے پچھلے سال کی شاندار کارکردگی کا اعادہ ہے۔ پچھلے سال  یعنی 2019ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران وفاقی محتسب کو 34151 شکایات موصول ہوئیں اور 35895 (ان میں پہلے کی شکایات بھی شامل ہیں) کے فیصلے سُنائے گئے۔ دیکھا جائے تو موجودہ سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پچھلے سال کے پہلے چھ مہینوں کے مقابلے میں زیادہ شکایات (47285)ہی موصول نہیں ہوئیں بلکہ زیادہ شکایات (41071)کا ازالہ بھی کر دیا گیا۔ 

حقیقت یہ ہے کہ جب جذبہ جواں ہو، ہمتِ مرداں شیوہ ہو اور پریشان حال لوگوں کی جلد سے جلد دادرسی مطلوب ہو تو پھر مددِ خدا یعنی اللہ کریم کی تائید اور نُصرت بھی ہم رکاب ہو جاتی ہے۔ اسے معجزہ  تو نہیں کہا جا سکتا  کہ معجزے پیغمبروں سے منسوب ہیں اور خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی نبی ، رسول یا پیغمبر نے نہیں آنا لیکن محیرالعقل کا رکردگی ضرور قرار دیا جا سکتا ہے کہ وفاقی محتسب سیکریٹریٹ اور علاقائی دفاتر میں اس تیز رفتاری کے ساتھ شکایات کے فیصلے ہو رہے ہیں اور شکایات کنندگان کی دادرسی ہو رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ نیت صاف ہو اور کام کرنے کا جذبہ ہو تو پھر جیسے انگریزی کہاوتWhere there is a will, there is a way. میں کہا گیا ہے اس کے لیے کوئی نہ کوئی راہ نکل آتی ہے۔ وفاقی محتسب ادارے (سیکریٹریٹ) میں بھی یہی ہوا۔ لاک ڈائون کے باوجود شکایات کا آن 

لائن اندراج ہی جاری نہ رکھا گیا بلکہ ان کے بروقت فیصلے بھی کیے جاتے رہے۔ یہ سب وفاقی محتسب سید طاہر شہباز جیسے انتہائی فرض شناس اور نیک نام سابقہ بیوروکریٹ کی ہدایات کے نتیجے میں ممکن ہو سکا۔ انہوں نے جہاں وفاقی محتسب سیکریٹریٹ میں جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے  ہوئے شکایات کی آن لائن سماعت کا فیصلہ کیا وہاں انہوں نے علاقائی دفاتر کو بھی ایسا ہی کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ ایک اجلاس کے دوران انہوں نے اپنے ادارے کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ شکایات کنندگان کو ریلیف فراہم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں لیکن کرونا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر کو بھی ضرور اختیار کیا جائے ۔ انہوں نے یہ تاکید بھی کی کہ شکایات کے فیصلے 60دنوں کے مقررہ وقت کے اندر ہی ہونے چاہئیں۔ انہوں نے شکایات کنندگان کے لیے یہ گنجائش یا سہولت بھی رکھی کہ وفاقی محتسب میں شکایات کی سماعت کے دوران شکایات کنندگان کی حاضری ضروری نہیں، ان کا موقف آن لائن معلوم کر لیا جائے تاہم کوئی شکایت گزار ذاتی سماعت کے لیے آجائے تو کرونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اسکا مؤقف سن لیا جائے۔ 

سچی بات ہے کہ ادارے اپنے سربراہان اور دیگر کارپردازوں کی محنت ، لگن ، خلوص، ذمہ داریوں کے احساس، کارِ مفوضہ کی سرانجام دہی ، فرائض کی ادائیگی اور ہمدردانہ رویوں کی بناء پر جہاں نیک نامی اور اچھائی کماتے ہیں وہاں اعلیٰ کارکردگی کا نقش بھی ثبت کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ وفاقی محتسب کا ادارہ جس کے قیام کا مقصد ہی مختلف سرکاری اور نیم سرکاری محکموں کے خلاف عوام الناس کی جائز شکایات کی دادرسی اور ازالہ سے ہے، اس کے حوالے سے دیکھا جائے تو اوپر بیان کردہ سارے نکات کی تصدیق ہوتی ہے۔ یہ کہنا بھی شاید غلط نہ ہو کہ کسی بھی ادارے کی اعلیٰ کارکردگی اور نیک نامی میں اس ادارے سے وابستہ سبھی لوگوں کا کچھ نہ کچھ کردار اور حصہ ضرور ہوتا ہے۔ لیکن یہ اس صورت میں سامنے آتا ہے جب ادارے کا سربراہ بذاتِ خود انتہائی فعال ، مستعد، محنتی، فرض شناس، راست گو، امانت دار اورہمدردانہ اور پرخلوص رویوں کا مالک ہو۔ وفاقی محتسب سید طاہر شہباز کے  بارے میں میں کچھ زیادہ نہیں جانتا لیکن جو کچھ پڑھنے ، سننے اور سمجھنے کو ملا ہے اور پھر وفاقی محتسب سیکریٹریٹ اور علاقائی دفاتر کی جو شاندار کارکردگی پچھلے سال رہی ہے اور اس سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران سامنے آئی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بلا شبہ اوپر بیان کردہ اوصاف سے ہی متصف نہیں ہیں بلکہ وہ اپنی ذات کے ساتھ اپنی ٹیم پر عوام الناس کے بے پناہ اعتماد کو قائم کرنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ 

عدالتوں میں انصاف کے حصول اور مظلومین کی دادرسی کے لیے کتنا وقت لگ جاتا ہے اس سے ہم بخوبی آگاہ ہیں۔ مقدمات کے فیصلے ہونے میں بعض اوقات عشرہ ، ڈیڑھ عشرہ اور دو عشرے بھی بیت جاتے ہیں اور دادرسی اور انصاف کے طلبگار اس دوران اس جہانِ فانی سے کوچ بھی کر جاتے ہیں۔ ایک قومی معاصر میں سینئر تجزیہ کار اور کالم نگار محترم ارشاد بھٹی کا "پیارے ، یہ ہے پیارا پاکستان"کے عنوان سے کالم چھپا ہے جس میں انہوں نے نام لے لے کر کچھ مثالیں پیش کی ہیں کہ کیسے انصاف کے حصول اور ماتحت عدالتوں سے دی جانے والی سزائوں کے خلاف ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں اپیلوں کی سماعت ہونے اور فیصلوں کے آنے تک کتنے بے گناہ اور بے قصور تختہ وار پر لٹکا دیئے گئے یا قدرتی موت کا شکار ہو گئے یا کچھ انتہائی معمولی جرائم میں پانچ، پانچ ، دس، دس  سال تک جیل میں گلتے سڑتے رہے۔ یقینا ہمارے عدالتی نظام کے حوالے سے یہ ایسے حقائق ہیں جن کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔ ایسے میں اگر سرکاری اور نیم سرکاری محکموں کے خلاف جائز شکایات کے محدود مدت میں لیکن وسیع تعداد میں ازالے اور دادرسی کا سلسلہ سامنے آتا ہے تو اسے عوام الناس کے لیے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ بلا شبہ ٹھنڈی ہوا کا یہ جھونکا وفاقی محتسب کے ہی مرہونِ منت ہے۔

تھوڑا سا واپس وفاقی محتسب میں 2020ء کے پہلے چھ ماہ (جنوری تا جون) کے دوران موصول ہونے اور فیصل ہونے والی شکایات کی طرف آتے ہیں۔ چھ ماہ یعنی 180دنوں کے دوران کُل 47285شکایات موصول ہوئیں ، گویا ایک دن میں 262یا 263شکایات کا اندراج ہوا۔ اسی طرح چھ ماہ یعنی 180دنوں کے دوران 41071شکایات کے فیصلے کئے گئے، یا دوسرے لفظوں میں ایک دن میں 228 شکایات کنندگان کی دادرسی کی گئی۔ یہ اعداد و شمار بلا شبہ پکار پکار کر کہ رہے ہیں کہ وفاقی محتسب (ادارے) کی کارکردگی ہی شاندار نہیں عوام الناس کا اس پر اعتماد بھی انتہائی حدوں کو چھو رہا ہے۔ وفاقی محتسب (ادارے) کے حوالے سے یہ بات بھی قابلِ تعریف ہے کہ وہاں شکایات کے اندراج کے لیے کسی طرح کی فیس ، ٹکٹوں یا اسٹام پیپر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ محض سادہ کاغذ پر درخواست ہی کافی سمجھی جاتی ہے۔ آخر میں وفاقی محتسب سکریٹریٹ کے میڈیا ایڈوائزر ڈاکٹر انعام الحق جاوید جو محنت، جانفشانی، اور اعلیٰ کارکردگی کے حامل کیرئیر کے مالک رہے ہیں کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ ان کے بلواسطہ رابطے کی بناء پر وفاقی محتسب کے بارے میں یہ سطور لکھنی میں نے ضروری سمجھی ہیں۔


ای پیپر