دین اور تعلیم ٹارگٹ…؟؟؟
21 اگست 2020 (22:11) 2020-08-21

 صدیوں سے انسانی فطرت ہے کہ غمی خوشی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے،عید ہویا شب برآت،جشن آزادی ہو یااور کوئی دن دیہاڑسب کی خوشیاں سانجھی ہیں کسی بھی محفل میں سلام دعا کے لیے زیادہ تر گلے ملتے یا ہاتھ ملاتے تھے اور ملاتے ہیں،کورونا وائرس کی وبا کے باعث یہ طریقہ بدل گیا ، اب لوگ گلے ملنے یا ہاتھ ملانے کے بجائے کہنیاں اور پاؤں ملانے لگے ہیں،دوستوں، اقرباء یا اہل خانہ سے ملاقات پر گلے ملنا اس لیے ایک عام سی بات ہے کہ یوں آپس کی قربت اور ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے، اسی طرح شناسا افراد سے ملاقات یا اجنبیوں سے تعارف کے وقت ہاتھ ملانا بھی عمومی سماجی رویوں کا حصہ ہے، جو دوطرفہ احترام کو ظاہر کرتا ہے،یہ مسئلہ کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہوا ،عالمی ادارہ صحت کی طرف سے اسے ایک عالمگیر وبا بھی قراردیا گیا وبا ء کے آتے ہی اس کے بارے میں پہلے کہا گیا کہ چینی چمگاڈرکھاتے ہیں جس کی وجہ سے کرونا پھیلا یہ ہے وہ ہے پر واویلا شروع ہو گیا پھر بھانت بھانت کی بولیاں بولی گئیں تاحال بولی جا رہی ہیں کبھی کہا گیا ہاتھ نہ ملائیں کبھی کہا گیا گلے نہ ملیں کبھی کہا گیا منہ پر ماسک رکھیں کبھی کہا گیا پندرہ منٹ بعد ہاتھ منہ دھوئیں ایسی ایسی مشہوریاں کی گئیں کہ لوگ راتوں رات امیر ہو گئے،ہمار ے دین نے تو پہلے ہی صفائی کو نصف ایمان قرار دیایہ الگ بات ہے کہ ہم انگریزی ٹیکے پر زیادہ اعتبار کرتے ہیں آج ڈاکٹرجو کہہ رہے ہیں وہ سچ اور اللہ معاف کرے جو ہمیں دین نے کہا وہ بھلا دیا جس کی وجہ سے آج ہم ذلیل وخوار ہو رہے ہیں کرونا کے بارے میں ایسی ایسی افواہیں پھیلائیں گئیں کہ لوگ ذہنی مریض بن گئے کرونا سے پتہ نہیں اموات ہوئیں ہیں کہ نہیں لیکن پریشانی کے عالم میں کئی لوگ موت سے جا ملے،ماہرین نے کچھ کہا اور عطائیوں نے کچھ؟سیاستدانوں نے بھی کیا کچھ نہیں کہا جیسے وہی طبی ماہر ہوں جبکہ اس سلسلے میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا پوری دنیا کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا کر یوٹرن‘ ادارے کی طرف سے ایک ویڈیو وائرل کی گئی جس میں ڈاکٹر ماریہ وین کے مطابق کرونا چھوت بیماری نہیںاور نہ ہی یہ ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہوتی ہے، ڈاکٹر کے مطابق اس مرض میں مبتلا شخص کو نہ ہی آئسولیٹ کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی سوشل فاصلے کی، ویڈیو ادارے کی ویب سائٹ پر موجود ہے جسکے وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر میں تھرتھلی مچ گئی اس کے باوجود ہم بضد ہیں کہ کرونا ختم ہوا نہ ہوگا اس کی آڑ میں ہم نے اپنے الو سیدھے کر لئے،مارکیٹیں بند کردی گئیں، سکول بند کردئیے گئے،لوگوں کو گھروں میں قید کرکے نفسیاتی مریض بنا دیا گیا،مساجد کو تالے تک لگ گئے وضوخانے بند کردئیے گئے، اب تو لوگوں نے ایک دوسرے کے گھروں میں جانا کم کر دیا ہے،بازاروں یا دفاتر میں خالی چھینک اور کھانسنے والے کوعجیب نظر سے عرصہ دراز تک دیکھا جانے لگاہے، حتیٰ کہ دین تک کو ڈمیج کردیا گیا آپ سرکار ﷺکے دور میں ایک روز بہت بارش ہوئی تو حضرت بلالؓ کو فرمایا کہ بلالؓ اعلان کر دو نماز گھروں میں ادا کی جائے صرف اس خدشے پر کہ کپڑے خراب ہوں گے،طاعون پھیلنے پر بھی نماز سے نہیں روکا گیا لیکن کرونا کے باعث نماز میں فاصلہ مقرر کردیا گیاباقاعدہ نشان لگا دئیے گئے، صدر مملکت عارف علوی ایس او پیز کے نام پرمساجدجا کر چیک کرتے رہے کہ کہیں نمازی کندھے سے کندھا ملا کر تو نہیں کھڑے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کندھے سے کندھا ملائو، صف میں خلا ہو تو خالی جگہ پر شیطان گھس جاتا ہے، سرکاری، درباری اور عالمی اسٹبلشمنٹ کے گماشتہ علماء نے فاصلہ رکھنے کے فتوے جاری کر دئیے ، انہیں خوف خدا ہے نہ ہی نبی کی شرم،کرونا ایک ڈرامہ ، لاک ڈاون ناٹک اور سماجی فاصلہ اسلامی اقدار و شعائر کے خلاف ایک عالمی سازش ہے، سماجی فاصلہ کے نادر شاہی حکم کے نتیجہ میں ہم کتنی سنتوں کو ترک کر رہے ہیں،مصافحہ، معانقہ،مریضوں کی عیادت، مشترکہ خاندانی نظام میں بزرگوں کی قربت، جنازوں میں شرکت، سیدالایام جمعہ کے اجتماع اور باجماعت نماز، سپر ڈیپارٹمنٹل سٹورں، مارکیٹوں، کارخانوں اور بازاروں کو کھول دیا گیا، لیکن مساجد میں آج بھی نماز کی مشروط اجازت ناقابل فہم ہے، نائن الیون کی طرح یہ بھی ایک گریٹ گیم ہے، اصل ٹارگٹ دین اور تعلیم تھا جس میں طاغوت کامیاب ہوا ہے آج وہ ہمارا مذاق اڑا رہے ہوں کہ یہ ہیں عاشق رسول ﷺ جو اپنے آقا کے نام پرمر مٹنے کو ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں آج نمازیں چھوڑ دیں حج ،عمرہ پر پابندی لگا دی سماجی فاصلوں کے نام پرلوگوں کو ایک دوسرے سے دور کردیا گیا جنازے تک لوگوں نے چھوڑ دئیے اب جو عادت ڈال دی گئی ہے شائد ہی اپنی سابقہ روش کو اپنا سکیں،گھلنے ملنے میں اب بہت وقت لگے گا تب تک اپنا رہن سہن بھول جائیں گے اس سلسلے میں ایک کہاوت ہے کہ گجھے نوں گجھائیے نہ تے گجھے دی گھیج ہٹائیے نہ؟ اس وباء نے لوگوں میں کیا تبدیلیاں رونما کی ہیں دوبارہ زندگی معمول پر آنے میں کچھ وقت نہیں لگے گا شائد اب دوبارہ وقت آئے ہی نہ کہ لوگ پھر سے خوشیوں اور غمیوں میں اسی طرح شامل ہوں کہ جب ماضی میں ہوتے رہے ہیں اب جبکہ کاروبار زندگی معمول پر ہے تو تعلیمی ادارے آج بھی بند ہیں ایس او پیز کے نام پرتعلیم پر حملہ کرکے نئی نسل کو تباہ کردیا گیا ہے اب کہا جا رہا ہے کہ سکول کھولنے اور موجودہ حالات میں ان کو محفوظ طریقے سے آپریٹ کرنا انتہائی مشکل عمل ہے لہٰذا تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنا اپنا کردار مثبت انداز میں ادا کرنا ہو گا،سکولوں کو دو شفٹوں یا دنوں کے حوالے سے تقسیم کر نے کا بھی شوشہ چھوڑا جا رہا ہے ،سرکارکہہ رہی ہے کہ سکول کو 50 فیصد سے زائد طلباء بیک وقت بلانے کی اجازت نہیں ہو گی، اساتذہ کی ٹریننگ کے لئے سکولوں کو ہفتے میں 5 دن اساتذہ کیلئے کھولنے کی اجازت بھی دی جائے گی اور نجی سکول مالکان کو اپنے اساتذہ اور دیگر سٹاف کو کرونا سے بچائو کے حوالے بھرپور ٹریننگ دینا ہوگی،حکومت کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کرونا وائرس کی صورتحال بہتر ضرور ہوئی ہے مگر خطرہ اب بھی موجود ہے، پندرہ ستمبر سے پانچویں سے دہم جماعت کے بچوں کیلئے سکولز کھول دیئے جائیں گے، پہلی سے چوتھی جماعت کے بچوں کی کلاسسز جنوری سے شروع کئے جانے کا ا مکان ہے،ایس او پیز کے مطابق آدھے بچے ایک دن اور آدھے اگلے روز بلوائیں جائیں گے،ایک دن سکول آنے والے بچوں کو اگلے روز چھٹی ہوگی جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ دین اور تعلیم کے بگاڑ کیلئے کس طرح کا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟۔


ای پیپر