رائے منظور ناصر اور پی سی ٹی بی
21 اگست 2020 (22:11) 2020-08-21

P C T B Punjab Curriculum and Text Book Board,کا مخفف ہے۔یہ حکومت پنجاب کے محکمہ تعلیم ( سکولز ایجوکیشن) کا ایک انتہائی اہم ادارہ ہے۔صوبہ پنجاب کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں کوئی کتاب اس ادارہ کے No objection certificateکے بغیر نہیں پڑھائی جا سکتی ۔یہ ادارہ یہ سرٹیفکیٹ ،حکومت پنجاب کے طے شدہ مختلف پیمانوں پر چھان پھٹک کے بعد کسی کتاب کے سلسلے میں جاری کرتا ہے۔ ہمارے صوبہ پنجاب کے نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں تقریباً دس ہزار کتابیںمختلف پبلشنگ اداروں سے جاری شدہ پڑھائی جا رہی ہیں۔ لیکن آپ حیران ہونگے کہ صوبہ پنجاب کے کئی نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں کئی کتابیں اس ادارے کے سرٹیفکیٹ کے بغیر بھی پڑھائی جا رہی ہیں۔ آپ کو معلوم تو ہے کہ پاکستان میں قانون کی عملداری کچھ اسی طرح کی ہے۔یہ ادارہ خود بھی چار ، پانچ سو کروڑ روپے کی کتابیں ہر سال چھپواتا ہے اور انہیں صوبہ کے سرکاری تعلیمی اداروں میں مفت تقسیم کرتا ہے۔ آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ اس ادارے کا واسطہ اس ملک کے مختلف پبلشنگ اور پرنٹنگ اداروں سے مستقلاً رہتا ہے۔بلکہ کچھ غیر ملکی پبلشنگ اداروں کی کتابیں بھی ہمارے صوبہ اور ملک میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ ادارہ مختلف کتابوں کو سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے پہلے اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ان کتابوں میں کسی قسم کا مواد اسلام ، اپنے ملک پاکستان ، مذہبی شخصیات اور پاکستان میں بسنے والی اقلیتوںکے خلاف نہ ہو ۔ لیکن چونکہ مختلف تعلیمی اداروں ،خصوصاً نجی تعلیمی اداروں میں پبلشرز اور تعلیمی اداروں کے سربراہوں کی ملی بھگت سے ایسی کتابیںبھی لاگو کر دی جاتی ہیں جن کے سلسلے میں پی سی ٹی بی سے کوئی این او سی (NOC) نہیں لیا گیا ہوتا اس لیے ان میں کئی ایسی باتیں پائی جاتی ہیں جو محکمہ تعلیم کے پیمانوں سے واضح انحراف کے مترادف ہوتی ہیں۔ جیسا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تاریخ پیدائش کا مختلف کتابوں میں غلط اندراج ہونا۔ سر سید احمد خان کے متعلق غلط تاریخ کا اندراج۔میں عموماً لکھتا رہتا ہوںکہ اپنے ملک میں دولت مندوں اور طاقتور سیاستدانوں کے لیے کوئی قانون نہیں۔ پی سی ٹی بی کا واسطہ پبلشرز اور پرنٹرز سے رہتا ہے۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ ان کا شمار اس ملک کے دولت مندطبقات میں کیا 

جاتا ہے لہذا ان کا اثر ورسوخ مسلمہ ہے ۔ ان کی کتابوں کی نظرثانی (Review ) پی سی ٹی بی کے ماہرین مضامین (Subject specialists) نے کرنی ہوتی ہے جو درمیانے درجے کے سرکاری ملازمین ہوتے ہیں۔ سرکاری ملازم چاہے بائیس گریڈ ہی کا کیوں نہ ہو غریب ہی ہوتا ہے لہذ ا اُن میں سے کافی نے تو ان دولت مند پبلشرز کی خوشنودی کو مد نظر رکھنا ہوتا ہے۔ بعض پبلشرز تو اپنی کتابیں پہلے تعلیمی اداروں میں لاگو کروا لیتے ہیں اور ساتھ ہی انہی کتابوں کو پی سی ٹی بی کے NOC کے لیے بھجوا دیتے ہیں جو عرصوں تک زیر نظر ثانی رہتی ہیںاور وہ کتابیں سالہا سال سکولوں میں پڑھائی جا رہی ہوتی ہیں۔ان طاقتور پبلشرز کا اثر و رسوخ تو بعض پی سی ٹی بی بورڈ کے ممبران تک پر بھی ہوتا ہے۔دریں اثنا ء حکومت پنجاب نے اس ادارہ کی سربراہی رائے منظور ناصر کو دے دی۔ رائے منظور ناصر کی شخصیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔وہ پنجاب کی صوبائی مینجمنٹ سروس (PMS) کے معروف آفیسر ہیں۔اُن کی حب الوطنی اور اپنے مذہب سے محبت اُن کی شخصیت سے چھلکتی ہے۔ کچھ کر گزرنے کی لگن تو ان میں بدرجہ اُتم پائی جاتی ہے۔ سو انہیں کچھ کر گزرنے کا موقع میسر ہوا تو انھوں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر چل سو چل کا نعرہ بلند کر دیا۔ چھوٹتے ہی انھوں نے اپنے ادارہ میں تیس (30 ) نظر ثانی (Review ) کمیٹیاں بنا ڈالیں جن کا کام پنجاب کے تعلیمی اداوں میں پڑھائی جانے والی کتب کی حکومتی دئیے گئے پیمانے کے مطابق نظر ثانی کرنا تھا۔ پہلے قدم کے طور پر پانچ سو کتب کی نظر ثانی کی گئی، جن میں سے سو کتابوں پر یعنی بیس فیصد پر مختلف وجوہات کی بناء پر پابندی لگا دی گئی۔ پنجابی میں کہتے ہیں ’’ ایتھوں تسی اگلے اندازے لا لو ‘‘۔ ابھی تو ساڑھے نو ہزار کتابوں کی نظرثانی بقایا پڑی تھی۔پبلشرز سے کہا گیا کہ وہ ان کتابوں کی فروخت فوراً بند کر دیں اور جتنی کتابیں سکولوں میں پڑھائی جا رہی ہیںانھیں وہاں سے فوراً اُٹھائیں ۔ اگر خواہش ہے کہ ا نھیںسکولوں میں پڑھایا جائے تو ان میں موجود اغلاط کی تصحیح کریں اور سی ٹی بی ٹی سے ان کے متعلق این او سی لیں۔آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیںکہ سی ٹی بی ٹی سے متعلق پبلشرز کے غصے کا کیا عالم ہو گا۔سو انھوں نے بھی طنابیں کس لیں۔ سو یہ عالم ہوا کہ ع بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے ۔ کیا ہونا تھا ، ُادھر زردار اور ادھر صرف آفیسر تو۔اور پھر ہوا یوں کہ رائے صاحب کو ایک ٹی وی چینل کے ملازم نے خبر دی کہ آپ کی ٹرانسفر ہو چکی ہے۔ ابھی تو رائے صاحب کے اور بڑے عزائم تھے ۔ وہ سوچ رہے تھے کہ یہ جو سی ٹی بی ٹی اپنی کتابیں تیار کرا کر مختلف سرکاری تعلیمی اداروں میں تقسیم کرتا ہے اس پر تقریباً پانچ سو کروڑ خرچ ہوتے ہیں۔کیوں نہ کسی طور اس غریب قوم کے پیسے بچائے جائیں۔ سکروٹنی کی گئی تو معلوم ہوا کہ سب سے بڑا خرچہ ورجن  (virgin ) کاغذ کی خرید پر آتا ہے جو صرف چار فیکٹریاں تیار کرتی ہیں اور پی سی بی ٹی کو بیچتی ہیں۔پلان یہ بنایا گیا کہ صرف مذہبی تعلیمات سے متعلق تحریریں ورجن کاغذ پر چھپوائی جائیں اور باقی سب کام سائیکلو سٹائل کا غذ پر کرایا جائے، اور اس طرح پبلک کا ایک کروڑ روپیہ بچایا جائے۔ معصوم ناصر کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ سب خبریں سب فیکٹیر یز مالکان کو مسلسل مل رہی ہیں۔ سو جن طاقتوں کو نقصانات کا احتمال تھا وہ سب حرکت میں آ گئیں اور بات حکومت کے اعلیٰ ایوانوں تک جا پہنچی۔ سنا ہے کہ ایک متعلق وفاقی وزیر نے دلیل پیش کی کہ پہلے ہی پنجاب حکومت کے خلاف بہت باتیں ہو رہی ہیں ۔ ہمیں ساز گار ماحول بنانا ہے اور حکومت کے مخالفین کی تعداد کم کرنی ہے۔ ایک آفیسر کی قربانی کیا ہوتی ہے کچھ بھی نہیں، اسے کوئی اور پوسٹ دے دیں گے ۔ اور پھر نہ کوئی سمری لکھی گئی ، نا ںکوئی فائل حرکت میں آئی اور منظور ناصر او ایس ڈی بن گئے۔ایک دیانتدار، مستعد اور درد دل رکھنے والا آفیسر جو اس غریب اور لاچار قوم کے لیے بہت کچھ کر سکتا تھا، گھر بٹھا دیا گیا ۔میں نے ایک طویل عرصہ سرکاری ملازمت کی ہے اور اس دوران ہر قسم کی پوسٹ پر کام کیا ہے۔ میرے آگے تو یہ روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اس ملک میں کوئی نظام نہیں ہے۔یہاں ان پڑھوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ بریفنگز (Briefings ) دیتے پھرتے ہیں۔یہاں تمام حکمران ہر قسم کا ’ُ جگاڑ ‘ لگا کر اپنی حکومتوں کو دوا م بخشتے نظر آتے ہیں۔اس ملک میں کسی حکمران سے یہ توقع رکھنا کہ وہ حق کاعلم بلند کرنے والے آفیسر کے ساتھ کھڑا ہو جائیگا، اسے خلل ہے دماغ کا نہ کہیں تو اور کیا کہیں۔ جہاں کسی ضلع کے چار پانچ ایم پی اے اور ایم این ایز اپنے ضلع کے ایک انتہائی دیانتدار اور محنتی آفیسر کو پانچ منٹ میں اپنے ضلع سے چلتا کر دیں، اُس نظام سے کیا اُمیدیں باندھی جا سکتی ہیں۔تحریک انصاف کے دور میں جو حالات سرکاری افسران کے ہوئے ہیں ، کیا وہ کسی کو بتانے کی ضرورت ہے۔میں دل ہی دل میں ہنس رہا تھا کہ رائے منظور ناصر وہ خوش قسمت انسان ہے جو اپنی تمام انقلابی خواہشات اور اقدامات کے باوجود آٹھ مہینے پی سی ٹی بی میں گزار گیا، حالانکہ اس دوران میں اُس نے اس محکمہ کے دو سیکریٹریز کے ساتھ کام کر لیا۔


ای پیپر