مسجد نبوی کے قالین کے نیچے سے   نبی کریم ؐکی پسندیدہ چیز مل گئی 
21 اگست 2020 (18:34) 2020-08-21

ریاض: مسجد نبویؐ کے فرش سے قالین ہٹائے گئے تو فرش میں دفن نبی کریم ؐ کا 14 سو سال پرانا کنواں مل گیا۔ ایک طویل عرصے بعدمدینہ منورہ کے صحن میں دفن وہ کنواں سامنے آگیا جس سے رسول کریم ؐ پانی نوش فرمایا کرتے تھے۔ یہ کنواں کس کا تھا اور مسجد نبویؐ کا حصہ کیسے بنا۔

کورونا وائرس کی وجہ سے مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات کا درجہ رکھنے والے دو شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سعودی حکومت نے انتہائی سخت اقدامات کئے۔اور مسجد نبوی کے حوالے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ فرش پر رکھے گئے قالینوںکو ہٹا دیا جائے۔جب ان قالینوں کو ہٹا یاگیا تو فرش پر موجود ایک جگہ ایسی بھی تھی۔جسے مخصوص ڈیزائن سے بنا ہوا دائرہ لگا کر نشان زدہ کردیا گیا تھا۔

 اس دائرے کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ درحقیقت یہ دائرہ اس کنوئیں کی نشاندہی کیلئے لگایا گیاہے جو مسجد کے فرش کے اس حصے کے عین نیچے دفن ہے۔اگر آپ گیٹ نمبر 21سے مسجد کے اندر داخل ہوں تو یہ دائرہ پہلے تین پلرز کو چھوڑ کر تیسرے اور چوتھے پلر کے درمیان فرش پر دکھائی دے گا،اس کنوئیں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ ؐ کے دور مبارک میں مسجد نبویؐ کے سامنے ایک باغ تھا۔ جو ایک صحابی حضرت ابو طلحہ انصاری ؐ کی ملکیت تھا۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ مدینے کے چند مالدار ترین لوگوں میں سے ایک تھے۔

 ایک روز انہوں نے قرآن کریم کی ایک آیت کریمہ پڑھی جس کا ترجمہ ہے۔ تم میں سے کوئی اس وقت


ای پیپر