تحر یکِ انصا ف کی حکومت کے دو سال
21 اگست 2020 (00:55) 2020-08-21

کسی بھی حکو مت کی کا رکر دگی کا بہتر ین اند ا ز ہ اس کے عوا م کی عمو می حا لت سے لگا یا جا سکتا ہے۔ تحر یکِ انصاف کی حکومت کو حا ل ہی میں دو برس مکمل ہوئے ہیں۔ تو ان دو سا لو ں میں وز یرِ اعظم عمرا ن کا جو مجمو عی تا ثر سا منے آ یا ہے و ہ یہی ہے کہ ان کے بلند با نگ دعو ے انتہائی کھو کھلے ہیں۔ ان کے عمو می حما ئیتیو ں کا خیا ل تھا کہ روز مر ہ اشیاء کے نر خ کم ہو نا شرو ع ہو جا ئیں گے۔ مگر ان کو وہ پر لگے کہ خد ا کی پنا ہ۔ عوا م بلبلا اٹھے۔لیکن اس سے بڑا افسو س یہ کہ ان کی فریا د سننے کے لیئے کو ئی سامنے نہیں آ یا۔ بہر حا ل حکومت کی سالگرہ جشن سے زیادہ جواب دہی کا دن ہوتا ہے۔ تاج پوشی کے جشن تو بادشاہتوں میں ہوتے ہیں۔جمہوری ثقافت میںحکومت کی عہدیداری ذمہ داری اور جواب دہی سے عبارت ہوتی ہے۔ چنانچہ اس روز جشن بند کمروں میں ہوں تو ہوں، باہر، گلی کوچوں میں تو عدالت ہی لگی ہوتی ہے۔ حساب مانگا جاتا ہے اور حکمرانوں کو عوام کے سامنے اپنی کارکردگی کا گوشوارہ پیش کرنا ہوتا ہے۔ کیا، کیا نہیں ہوسکا، آگے کیا اہداف اور منصوبہ بندی ہے، اس کی تفصیلات دینا پڑتی ہیں۔ ہماری حکومت سے بھی یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس دن کو اپنی کارکردگی کی تفصیلات سامنے لانے کے لیے بروئے کار لائے گی۔ ہمارے ہاں اعلیٰ سیاسی سطح پر پایا جانے والا یہ مغالطہ بے بنیاد ہے کہ عوام سنجیدہ اور مفید مطلب سوال جواب کی بجائے بلند آہنگ مباحث سے خوش رہتے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں۔ حقیقت میں ہمارے عوام بھی اپنے اور ملک کے مفادات کے لیے اسی طرح سنجیدہ اور متین ہیںجیسا کہ کسی بھی جمہوری اقدار کے حامل معاشرے کے عوام ہوسکتے ہیں ماضی میں کسی سطح پر اگر کوئی کمی تھی تو جدید ذرائع ابلاغ اور تعلیم کے ساتھ اس سوچ میں بھی تبدیلی آچکی ہے۔ چنانچہ موجودہ دور میں یہ باور کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ ملک کے عوام بھی اُسی طرح سوچتے ہیں جیسے تین، چار دہائیاں پہلے کے لوگ سوچتے تھے۔ حالات و واقعات بہت بدل چکے ، لوگوں کی توقعات اور تفکرات میں نمایاں تبدیلی آچکی ہے، لہٰذا موجودہ دور کی حکومت کے لیے ایسا ممکن نہیں کہ وہ یہ تصور کرکے آگے بڑھے کہ عوام کو بہت دیر تک اندھیرے میں رکھا جاسکتا ہے۔ ایسا خود جمہوری عمل اور سیاسی جماعتوں کے لیے مناسب نہیں۔ حکومت سے یہی توقع کی جانی چاہیے کہ وہ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی دو سالہ کارکردگی پر 

عوام کو تفصیلی طور پر اعتماد میں لے گی۔ اس دوران جو کچھ حاصل ہوا، عوام کو اس بارے میں بھی معلوم ہونا چاہیے اور درپیش رکاوٹوں کے بارے میں بھی، جن کی وجہ سے حکومت کے اکثر پروگرامز، یا یوں کہا جائے کہ پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی ایجنڈے کا ایک بڑا حصہ تشنہ تکمیل ہے۔ حقیقت میں ہماری نظر میں حکومت کی دو سالہ کارکردگی کو بیان کرنا اتنا بھی مشکل نہیں جتنا حکومت اور اپوزیشن کے تنائو میں اسے بنا دیا جاتا ہے۔ ہر عام شہری حکومت کی دو سالہ کارکردگی کو حکومت سے وابستہ کی گئی اپنی توقعات کے تناظر میں جانچتا ہے۔ وہ اطراف کی بات ضرور سنے گا، کیونکہ نہ سننا اس کے لیے ممکن نہیں، لیکن وہ کارکردگی کے بارے فیصلہ اپنی توقعات ہی کی روشنی میں کرنے پر مجبور ہے۔ ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اس میں سیاسی رہنمائوں کے لیے جدید طرز کی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ ٹیکنالوجی کی بدولت حکومت کا پہلے سو ایام کا ایجنڈا بھی ہر دلچسپی رکھنے والے کے سامنے سکرین پر موجود ہے۔ انتخابی منشور کا ایک ایک لفظ جلی حروف میں سامنے ہے۔ صرف سو ایام تک محدود نہیں، بلکہ حکومت کے پورے دو برس کے دورانیے میں ہر تقریر، بیان، وعدہ، دعویٰ، ہر شہری کی دسترس میں ہے۔ حوالہ جات کی ان سہولیات کے ہوتے ہوئے عوام حکومت اور اپوزیشن کے ہر کہے، سنے کی جب چاہیں تصدیق کرسکتے ہیں۔ اب کارکردگی جانچنے یا اس بارے کنفیوژن پیدا کرنے اور شور و غوغا برپا کرکے اصل بات سے توجہ ہٹانے کا وقت گزر چکا۔ اب ہر بات ٹیکنالوجی کی بدولت محفوظ ہورہی ہے بلکہ ہر لمحے آدمی کے لیے دستیاب ہے۔ اب دو سال کی کارکردگی بارے کسی جانب سے غلط تاثر پیدا کرنا، دھوکہ دینا، غلط بات باور کرانا آسان نہیں بلکہ قریب قریب ناممکن ہوچکا ہے۔ حکمران خبردار رہیں! مگر حیران کن بات یہ ہے کہ وزیراطلاعات نے دو سالہ کارکردگی کے باب میں وہ جواب دیا ہے جس کا پوچھا ہی نہیں گیا۔ انہوںنے بتایا ہے کہ حکومت نے اپنی حکمت عملی سے دو سالہ دور میں عوام کے 2344 ارب روپے بچائے ہیں۔ وزیر اطلاعات بتاتے ہیں کہ ریکوڈک میں 1100، کارکے میں 240، گیس انفراسٹرکثر ڈیویلپمنٹ سیس میں 400 اور آئی پی پیز سے 604 ارب روپے بچائے گئے۔ یہ رقم کیسے بچائی گئی؟ اس کی تفصیل وزیر موصوف نے بھی فراہم نہیں کی۔ چنانچہ یہ اعداد و شمار اس وقت تک زبانی دعویٰ ہی قرار پائیں گے جب تک کہ حکومت اس حوالے سے تفصیل پیش نہیں کردیتی کہ تین برس کے ترقیاتی بجٹ کے مساوی اس رقم کی بچت سے حکومت کی آخر کیا مراد ہے؟ کفایت شعاری اور اخراجات میں احتیاط، نہایت مستحسن ہے، حکومت کی قانونی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ قومی خزانے کے اخراجات میں ہر ممکن احتیاط کرے، مگر بچت کا قابل تحسین عمل عوامی اہمیت کے منصوبوں پر اخراجات کا نعم البدل نہیں۔ آپ بچت کو اہم منصوبوں میں تعطل کا جواز قرار نہیں دے سکتے۔ دو سال کے اس دورانیے میں اشیائے خوراک کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا، عام آدمی کے لیے وہ بہت بڑی تشویش کا موجب ہے۔ صرف قیمتوں میں بے اعتدالی ہی مسئلہ نہیں بلکہ اشیائے خورد و نوش کی مارکیٹ کی بے یقینی صورتحال بھی پریشانی کا سبب بن رہی ہے اور دیکھا جائے تو یہی قیمتوں میں بے اعتدالی کی بڑی وجہ بھی ہے۔ حکومت کے ان دو برسوں میں آٹے کی قیمتوں میں اندازاً 50 فیصد اضافہ ہوچکاہے۔ اسی طرح دیگر لوازمات کے نرخوں میں بھی غیرمعتدل شرح سے اضافہ ہوا ہے، مگر اس دوران آمدنی کے وسائل میں کمی آئی ہے اور یہی سب سے بڑی مشکل کاسبب ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں اور کم ہوتی شرحِ آمدنی نے لوگوں کو دہرے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پھر جب صا حبا نِ اقتدا ر عوا م کے سوا لو ں کا جوا ب دینے کے لیئے سا منے آ نے سے گر یز ا ں ہو تے ہیںتو عو ا م ، جن میں بے اعتما د ی حد در جہ تک بڑھ چکی ہے ، ایک دوسرے سے سوال پو چھتے نظر آ تے ہیں کہ اب ہو گا کیا؟ ایسے میں سا غر صد یقی کا یہ شعر یا د آ جا تا ہے:

جس عہد میں لٹ جا ئے فقیر وں کی کما ئی

اس عہد کے سلطا ں سے کو ئی بھو ل ہو ئی ہے


ای پیپر