آن لائن تعلیم کے لئے بنیادی ڈھانچوں کو مستحکم کرنا ہو گا
21 اگست 2020 (00:55) 2020-08-21

کورونا وائرس نے جس طرح زندگی کے ہر گوشے کو متاثر کیا ہے اسی طرح تعلیمی میدان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رہا ہے بلکہ یہاں تک کہ تعلیمی شعبہ کرونا وائرس کی وباء کے دور میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ سرکاری دفاتر کے بیشتر کام کسی نہ کسی طرح ہوتے ہی رہے ہیں، بازار بھی شرائط و ضوابط کے ساتھ کھلتے رہے ہیں، ذرائع نقل و حمل بھی ایس او پیز کے تحت رواں دواں رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جن لوگوں کے روزگار اور ذریعہ آمدنی پر اس کا اثر پڑا ہے وہ بھی کسی نہ کسی طریقے سے اپنی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ بس ایک تعلیمی ادارے ہیں جو مارچ سے مکمل طور پر بند ہیں۔ چنانچہ درس و تدریس کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ طلباء کو تعلیمی نقصان سے بچانے کے لئے سکول، کالجز، یونیورسٹیز میں آن لائن تعلیم کا آغاز کیا گیا۔ جس کے لئے مختلف سوشل میڈیا ایپلیکیشنز کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے جب سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ضروری ہو گیا اگر سکول، کالج، یونیورسٹیاں کھول دی جاتیں تو پھر سماجی فاصلے کا تصور مفقود ہو جاتا۔ ایسے میں یہی واحد طریقہ ہے کہ طلباء کا سال ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔ نصاب کی تکمیل کے ساتھ ساتھ طلباء کے تئیں ذاتی دلچسپی میں اضافہ ہوا، تعلیم کا تسلسل جاری رہا، طلباء نئی تیکنیک سے متعارف ہوئے، نتیجتاً آزدانہ ریسرچ کے ذریعے ایک نئی راہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اس طرح ایک نئی طرح پڑ گئی ہے جس کا آنے والے دنوں میں بہت فائدہ ہو سکتا ہے، مستقبل میں آن لائن تعلیم کے دیگر منصوبوں کا اجراء آسان ہو گا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ مستقبل میں آن لائن تعلیم بہت اہمیت اختیار کرنے والی ہے اور تعلیم کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہو گی۔ پاکستان میں کرونا پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے لیکن دنیا کے بہت سے ممالک میں ابھی کرونا کا خاتمہ نہیں ہوا ہے بلکہ کئی ممالک میں یہ بڑھ رہا ہے یا دوبارہ سے سر اٹھا رہا ہے۔ لہٰذا کورونا وائرس کی وجہ سے کچھ حد تک لاک ڈاؤن ابھی ختم ہونے والا نہیں ہے اور جس کا طرح کا ماحول تھا ویسا آنے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔ خاص طور پر بیرونی ممالک جا کر تعلیم حاصل کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے جو شائد 

کورونا کے خاتمے کے بعد بھی یونہی رہے اور بیرونی تعلیمی ادارے دوسرے ملکوں کے طلباء کو کافی عرصہ تک نئے ایڈمشن دینے سے اجتناب کریں۔ اس لئے ان حالات میں آن لائن تعلیم کافی حد تک معاون ہو سکتی ہے۔

دنیا میں وہ ممالک جو بہتر شرح خواندگی کے حامل ہیں، وسائل موجود ہیں اور مواصلاتی نظام کی حالت بہتر ہے وہاں آن لائن تعلیم کی فراہمی سود مند ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ اساتذاہ اور طلباء جدید ٹیکنالوجی سے بڑی حد تک متعارف ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے آن لائن تعلیم میں کئی دشواریاں نظر آ  رہی ہیں۔ہمارا تعلیمی شعبہ اس قدر خود کفیل نہیں ہے کہ بنیادی تعلیم حاصل کرنے والے لاکھوں طلباء آن لائن تعلیم سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکیں، کیونکہ نہ تو ہمارا نصاب اس طرح کا ہے کہ ہم اسے آن لائن تعلیم سے مربوط کر سکیں اور نہ ہی نیٹ ورک اور جدید مواصلاتی نظام کی وافر سہولت ہر جگہ میسر ہے۔ کہیں سمارٹ فون کا فقدان ہے تو کہیں فون ری چارج کرنے کے لئے بجلی میسر نہیں۔ سب سے پہلے تو ہر طالب علم کے پاس انٹر نیٹ کنکشن ہونا چاہئے۔ انٹر نیٹ کا شہروں میں یہ حال ہے کہ کنیکشن پروائیڈر کو بار بار فون کر کے یاد دہانی کرانا پڑتی ہے کہ کنیکشن منقطع ہو گیا ہے ، انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی کے علاوہ ایک بڑا مسئلہ مسلسل برقی رو سپلائی کا ہے۔ لوڈ شیڈنگ اور دوسری وجوہات کی بناء پر شہری علاقوں میں بجلی کا بار بار منقطع ہو جانا ایک عام بیماری ہے۔ آن لائن کلاسز کے دوران برقی رو کی مسلسل فراہمی کی کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی ہے۔ شہری علاقوں کو اگر صرفِ نظر کر بھی لیں تو دیہاتوں میں حالت تو اور بھی ابتر ہے۔ جہاں طلباء بار بار بجلی کے چلے جانے سے مضطرب رہتے ہیں۔ اگر کسی طرح سالانہ کورس کو مکمل کر بھی لیا جائے تو امتحانات اور نتائج ایک مسئلہ ہے۔ ٹیچرز حضرات بھی جدید ٹیکنالوجی سے پوری طرح مانوس نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں آن لائن تعلیم سے پہلے اس کی بنیاد کو پختہ کیا جانا بہت ضروری ہے اور نظامِ تعلیم کو ای لرننگ مزاج سے ہم آہنگ کرنا وقت کا تقاضا ہے۔

اس بات سے تو کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا ہے کہ تعلیم انسانی اخلاق کو تعمیر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ انسانی زندگی میں انقلاب لا کر انسان کو تاریکی سے نکال کر روشن مستقبل فراہم کرتی ہے۔ تعلیم حاصل کر کے نوجوان نسل نہ صرف برسرِ روزگار ہو کر اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے بلکہ ملک و قوم کا نام بھی روشن کرتی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں تعلیمی معیار بڑا پست ہے جو ہمارے نوجوانوں کو اہلیت فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ ہماری آبادی کا 65 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، ہر سال لاکھوں کی تعداد میں طلباء و طالبات تعلیمی اداروں سے فارغ ہو کر نوکریوں کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں۔ بد قسمتی سے ماضی کی حکومتوں کی غلط اور غیر دانشمندانہ فیصلوں کے باعث بے روزگار افراد کی فوج اور نوجوانوں کی تشویش میں اضافہ ہوتا گیا۔ اپنے معیارِ تعلیم کو بہتر کرنے میں آن لائن طریقہ تدریس بہت سود مند ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ ہم آن لائن طریقۂ تعلیم کو متعارف کروا کر مستقبل میں دنیا  بھر کی دوسری یونیورسٹیوں میں ہونے والے تحقیق سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ  مغربی ممالک میں بہت سی ایسی یونیورسٹیاں ہیں جہاں پہلے سے ہی یہ تعلیمی سسٹم اپنایا جا رہا ہے، لیکن ہمارے ہاں کسی بھی یونیورسٹی کے پاس آن لائن تعلیم فراہم کرنے یا پھر امتحانات لینے کا بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ اب جب کہ حکومت کی طرف سے نئے طریقۂ تعلیم پر زور دیا جا رہا ہے اور کلاس روم درس و تدریس کی جگہ آن لائن تعلیم کا انتظام کرنا اور پھر امتحان کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ضروری قرار دیا جا رہا ہے تو ایسے وقت میں سب سے پہلے یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جدید ترین کمپیوٹر اور دیگر آلات کی فراہمی کے ساتھ آن لائن سسٹم کے بنیادی ڈھانچوں کو مستحکم کرنا ہو گا۔ یہاں اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ ملک کی سرکاری یونیورسٹیوں اور کالجوں میں بہت سے طلباء دیہی علاقوں کے متوسط اور کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان سب کے پاس جدید ترین سمارٹ موبائل سیٹ نہیں ہوں گے کہ وہ آن لائن یا دیگر سوشل میڈیا کے طریقۂ کار کو اپنا سکیں۔ اس کے لئے حکومت کو ایک بڑے فلاحی بجٹ کا اہتمام کرنا ہو گا ساتھ ہی ساتھ بینکوں کے ذریعے بھی کم شرح سود پر تعلیمی قرض کو عام کرنا ہو گا۔


ای پیپر