”پولیس کی ویڈیو بنا لیجئے ۔۔“
21 اگست 2020 2020-08-21

یہ اصول میری اور ایس پی ڈولفن اینڈ موبائلزراشد ہدائت کی اس ملاقات میںطے ہوا جس میں محمود بوٹی بائی پاس ناکے پر تعینات طارق نامی اہلکار اور اس کے انچارج صغیر بھی موجود تھے اور ان سے سوال ہوا تھا کہ اگر آپ ایک ٹیکس گزا ر شہری کی گاڑی کی تلاشی لے رہے ہیں تو وہ کون سا ضابطہ ہے جس کے تحت آپ اسے اپنی ہی گاڑی کی ویڈیوبنانے سے زبردستی روک سکتے ہیں جبکہ صرف سیف سٹی کے کیمرے ہی نہیں بلکہ آپ خود ’سنیپ چیکنگ‘ کے دوران گاڑیوں میں موجود خواتین تک کی ویڈیوز اور تصویریں بناتے اور ڈیوٹی کے ثبوت کے طور پر شئیر کرتے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ بات وہاں سے شروع ہونی چاہئے جہاں سے آغاز ہوا۔ میں نے جی ٹی روڈ کالاشاہ کاکو سے اپنی گاڑی ایسٹرن بائی پاس کی طرف موڑی اور محمود بوٹی پر رنگ روڈ والے ٹول پلازہ پر پہنچ گیا جس سے نکلتے ہی سامنے پولیس کا ناکہ ہے۔ پولیس اہلکار نے مجھے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا میں نے روک دی، اس نے کہا شناختی کارڈچیک کروائیں میں نے کروا دیا،اس نے کہا کہ نیچے اُتر آئیںباڈی سرچ ہو گی تو میں نیچے اترا اور تلاشی دے دی۔ اس نے سائیڈ پر ہوجائیں گاڑی کی بھی تلاشی ہو گی تو مجھے اس کے انداز پر شک ہوا، میں نے پوچھا کہ کیا کوئی خصوصی اطلاع ہے تو اس نے بدتمیزی سے جواب دیا کہ پیچھے ہٹ کر کھڑا ہوجاوں۔ میں پیچھے ہٹا اور دور کھڑے ہو کر اپنی ہی گاڑی کی تلاشی کی اپنے فون سے ویڈیو بنانی شروع کر دی۔ طارق نامی پولیس اہلکار نے پیچھے مڑ کے دیکھا، تلاشی چھوڑکر میری طرف لپکا، سیدھا فون پر ہاتھ مار کے چھینا اور مجھے گریبان سے پکڑ لیا۔ دوسرے پولیس اہلکار بھی وہاں جمع ہو گئے اور سامنے رینجرز کا اہلکار بھی بندوق لیے کھڑا تھا مگر وہ خاموش تماشائی بنا رہا۔

میرے دوست حیرت کا اظہار کرتے ہیںاور کہتے ہیں کہ تمہیں اپنا تعارف کروانا چاہئے تھا، پریس کارڈ دکھاتے تو نہ باڈی سرچ ہوتی اور نہ ہی گاڑی کی تلاشی اوریہی بات صغیر نامی سب انسپکٹر نے ایس پی کے سامنے کی۔ میر ا موقف یہ ہے کہ مجھے قانون کی پاسداری کرنی چاہئے کہ پولیس کے جوان ہماری حفاظت کے لئے ناکوں پر کھڑے ہوتے ہیں، وہ یہاں پر دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کو روکتے ہیں اگر ہم عام شہری نہ ہونے کے دعوے دار بن کر ایس او پیز فالو نہیں کریں گے تو خود ہی ہماری بطور شہری حفاظت ممکن نہیں رہے گی اور یہی وجہ ہے کہ عشروں سے صحافتی کارکن ہونے کے باوجود میری گاڑی پر پریس کی کوئی پلیٹ نہیں لگی ہوئی اور میں عمومی طور پر ناکوں پر اپنا تعارف کروانے کی بجائے پروسیجر ہی مکمل کرواتا ہوں، بہرحال، طارق نامی اہلکار کا اصرار تھا کہ وہ فون قبضے میں رکھے گا، اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کرے گا اور مجھے مزا چکھائے گا۔ یہ وہ موقع تھا کہ پولیس کے بدمست اہلکار سے اپنی عزت بچانے کے لئے تعارف کروایا جائے،تعارف کے بعد وہاں چوکی انچارج بھی آگیا اورمیرا فون واپس کر دیا گیا۔

میں نے دو روز بعد اتفاقا یڈیو دوبارہ دیکھی تواس کیپشن کے ساتھ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی کہ’ جب مجھے عام شہری بننے کا شوق ہوا، عام شہری کی تو شیر جوان بہت بری کرتے ہیں‘ اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکے مجموعی ویوز لاکھوں میںکمنٹس اور شئیرز ہزاروں میں پہنچ گئے۔ پولیس کے سوشل میڈیا سیل کو بھی ٹویپس نے ٹیگ کر دیاجس پر ایک ٹوئیٹ ہوا کہ ایس پی لیول کے افسر اس کی انکوائری کریں گے۔ ہمارے رپورٹر شاہد رضوی نے فون کر کے کہا کہ پولیس والے آپ کا فون نمبر مانگ رہے ہیں کیا دے دیاجائے، میں نے ان سے کہا کہ مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ مجھے جناب راشد ہدایت کی کال موصول ہوئی اور بتایا کہ ان کو انکوائری مارک کی گئی ہے،مجھے ان سے ملنا چاہئے ، میرا کہنا یہ تھا کہ میں اس اہلکار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں چاہتاکہ یہ میری ذات سے مسئلہ ہوا ہے جس میں نہ صحافت انوالو ہے نہ کوئی صحافتی ادارہ تاہم ان کا جواب بہترین تھا کہ کون غلط ہے اور کون درست، اس سے ہٹ کر ہم اس کے واقعے کے ذریعے اپنے ایس او پیز چیک کر سکتے ہیں، مجھے اس بات نے اپیل کیا۔

اب اس ملاقات کی طرف آجاتے ہیں جہاں وہ اہلکار موجود تھے، میرا یہی کہنا تھا کہ میری طرف سے کوئی عدم تعاون یا بدتمیزی بتا دی جائے، سیف سٹی کے کیمروں میں میری باڈی لینگویج تک محفوظ ہو گی، وہ دیکھ لی جائے۔ یہ سوال ایس پی ڈولفن اینڈ موبائلز کا تھا کہ جب سیف سٹی کیمرے ہی نہیں بلکہ ہم خود عوام کی ویڈیوز بناتے ہیں کہ ہم انہیں چیک کر رہے ہیں تو ایک صحافی نہیں بلکہ ایک ٹیکس گزار شہری نے ایسی ویڈیو بنا لی تو یہ کون سے ضابطے کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ویڈیو بنتی دیکھ کر اہلکار لپکا تو کیمرہ چھینا تو اس کی بجائے اگر وہ تلاشی مکمل کرتا اور کچھ غلط برآمد نہ ہونے پر کہتا کہ سر آپ کی گاڑی کی چیکنگ کر لی گئی، یہ ہماری ڈیوٹی تھی، آپ کے تعاون کا شکریہ، اب آپ اپنا سفر جاری رکھ سکتے ہیں تو ان الفاظ کے ساتھ ویڈیو پولیس کے لئے شاباش، فخر اور اعزاز کی بات بن جاتی۔ اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب پولیس چوکی کے انچارج نے بتایا کہ اس نے میرا فون واپس کرتے ہوئے میری گاڑی میںہی بیٹھ کر میری ویڈیو ریکارڈنگ کی اوربغیر بتائے گی جو اس نے ایس پی کے سامنے پیش کی۔ مجھے عجیب لگاکہ میں اپنی ہی گاڑی کی ویڈیو سب کے سامنے بناوں تو میں غلط ہوںا ور پولیس والے میری گاڑی میں بیٹھ کر میری ہی گفتگو چھپ کر ریکارڈ کریں تو وہ درست ہے۔ انکوائری آفیسر کو یہ نکتہ سمجھ آ گیا اور انہوں نے پولیس اہلکار کو کہا کہ وہ فوری طور یہ ویڈیو ڈیلیٹ کرے جو بغیر اجازت چھپ کر بنائی گئی ہے۔

یہ درست ہے کہ ہم سب اپنی بغیر اجازت ویڈیو بنتے ہوئے دیکھ کر غصے میں آ سکتے ہیں لیکن اگر ہم کوئی غلط کام نہیں کر رہے بلکہ قانون کے مطابق اپنا فرض ادا کر رہے ہیں تو شرم ، جھکنا اور غصہ کیسا۔میری نظر میں یہ اہم واقعہ ہے کہ جہاں پولیس میں ایسے بہت سارے اہلکار موجود ہیں جوناکوں پر امن و امان برقراررکھنے اور مجرموں کوگرفتار کرنے کے لئے جان پر کھیل جاتے ہیں وہاں ایسی کالی بھیڑیں بھی ہیں جو آپ کی کار سے اسلحہ اور منشیات ہی نہیں بلکہ چوری کے ہاتھی اور اونٹ بھی برآمد کر سکتی ہیں۔ یہ بات طے ہوئی کہ شہریوں کی طرف سے پولیس کی ڈیوٹی کرتے ہوئے ویڈیو بنانا کوئی خلاف ضابطہ بات نہیںہے اور نہ ہی جرم ہے۔ میں نہیں جانتا کہ جو انکوائری جناب راشد ہدایت کومارک کی گئی اس کی آفیشیل رپورٹ کیا ہے اور نہ ہی مجھے اس بارے جاننے میںکوئی دلچسپی ہے مگر میں اتنا ضرور بتانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کو ناکے پر روکا گیا ہے اور آپ کی گاڑی کی تلاشی لی جا رہی ہے تو اس کی ریکارڈنگ نہ صرف خلاف ضابطہ نہیں بلکہ آپ کے تحفظ کی ایک ضمانت بھی ہے۔ یہی ریکارڈنگ پولیس والوں کے قانون کے مطابق عمل اور ایک مہذب روئیے کے ذریعے پنجاب اور لاہورپولیس کی گڈول بنانے اور شاباشی دینے کا ذریعہ بھی بن سکتاہے۔انکوائری کے نام پراس ملاقات میں ایس پی ڈ ولفن اینڈ موبائلز راشد ہدایت، میرا بطور ایک ٹیکس گزار شہری اور ناکے کے اہلکار طارق اور اس کے انچارج صغیر کا اتفاق تھا۔


ای پیپر