جنگ اور سپہ سالار جاری رہیں گے
21 اگست 2019 2019-08-21

باقی دنیا میں خبر کی اہمیت اس کے مندرجات پر ہوتی ہے۔ مگر پاکستان میں خبر کو کرنسی نوٹ کا درجہ حاصل ہے اور نوٹ وہی چلتا ہے جو سکہ رائج الوقت ہو ہمارے ہاں خبر کتنی ہی گھمبیر ہو کچھ دن کے بعد اپنی اہمیت کھو بیٹھتی ہے کیونکہ ہماری اخباری کرنسی بڑی تیزی سے تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ حالیہ سینیٹ کی عدم اعتماد تحریک میں جب معجزانہ طور پر چیئر مین سینیٹ اکثریت نہ ہونے کے با وجود اپنی کرسی بچانے میں کامیاب ہو گئے تو یہ بہت بڑی خبر تھی جس کی صحافتی تحقیقات ہونا چاہیے تھی کہ اپوزیشن کے ہر لنچ اور ڈنر میں 64 سینیٹر شریک ہوتے رہے ووٹنگ سے 15 منٹ پہلے قرار داد کی حمایت میں کھڑا ہونے کو کہا گیا تو 64 ہی کھڑے ہوئے۔ مگر جب خفیہ ووٹنگ کا رزلٹ آیا تو اپوزیشن کے 49 ووٹ بر آمد ہوئے ’’ بات ہوتی یہاں تک تو سہ جاتے ہم ‘‘ ہوا یہ کہ شکست خوردہ شہباز شریف نے پارٹی کے اندر میر جعفر کرداروں کا پتہ لگانے کے لیے جب ارکان سینیٹ کا اجلاس طلب کیا تو وہاں پھر 64 سینیٹرز موجود تھے لیکن اس اتنی بڑی واردات کا سراغ اس لیے نہ مل سکا کیونکہ پورے کا پورا میڈیا جہاد کشمیر میں مصروف ہو گیا وجہ یہ تھی کہ کشمیر پر مودی کے غیر آئینی اقدام کے ساتھ ہی ایک بار پھر اخباری کرنسی تبدیل ہو چکی تھی لہٰذا سینیٹ کے بارے میں سوچنے کی کسی کو نہ فرصت تھی اور نہ ضرورت۔ 5 اگست کو جموں و کشمیر بحران پید ہونے سے لگاتار دو ہفتے تک اخبارات اور چینل کشمیر سے بھرے پڑے تھے حالانکہ سب کو پتہ تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ قریب ہے اور اس بارے میں توسیع دینے یا نہ دینے کے فیصلے کا مرحلہ یہی ہے مگر اس پر تبصرے کا وقت نہیں تھا کیونکہ کرنسی کشمیر والی چل رہی تھی اب جیسے ہی ان کی ایکسٹنشن کی خبر آئی ہے کشمیر ایک بار پس منظر میں چلا گیا اور ساری کی ساری صحافتی اشرافیہ کا موضوع جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایکسٹنشن بن چکا ہے ۔ یہ کچھ دن چلے گا جب تک کہ کوئی نیا موضوع نیوز مارکیٹ میں لانچ نہیں ہو جاتا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملازمت میں تین سال کی توسیع کو ہمیں پاکستان کے قومی تناظر میں دیکھنا ہو گا اسے محض سیاسی فیصلہ قرار دینا حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ پاکستان میں سول ملٹری تو ازن اور عدم توازن کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جس میں سیاسی قیادت اور فوجی قیادت دونوں کے ایک پیج پر ہونے سے ملک میں سیاسی و جمہوری و معاشی استحکام حاصل ہو تا رہا اور اس کے عدم توازن پر ملک میں کیسے کیسے آئینی و قانونی و عدالتی بحران پیدا ہوتے رہے۔ ویسے بھی یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ جنرل کیانی کو سابق صدر آصف زرداری نے 3 سال کی توسیع دی تھی جس کے بعد پیپلز پارٹی کی اقتدار کی پرواز میمو گیٹ جیسے رسواء کن جھٹکوں کے با وجود اپنی آئینی مدت پوری کر گئی جبکہ اس کے بر عکس نواز شریف 1999 ء میں دو تہائی اکثریت کے با وجود سول ملٹری عدم آہنگی کی وجہ سے کیلے کے چھلکے سے پھسل کر اقتدار سے سبکدوش ہونے پر مجبور ہوئے۔

جنرل کیانی اور جنرل باجوہ کی مدت میں توسیع میں ایک قدرِ مشترک موجود ہے۔ جب زرداری صاحب نے فیصلہ کیا تھا تو پارٹی سے رائے لینے یا مشاورت کو قطعی طور پر ضروری نہیں سمجھا گیا اس دفعہ بھی یہی ہوا ہے یہ خالصتاً وزیر اعظم کا ذاتی فیصلہ ہے جس میں پارٹی مشاورت کی مقدار صفر ہے ہمارے ہاں سیاسی پارٹی کے قائد کا پارٹی میں وہی مقام ہوتا ہے جو فوج میں آرمی چیف کا لہٰذا مشاورت قطعی طور پر خارج از امکان ہوتی ہے۔ یہاں ہمیں صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کو شک کا فائدہ لے کر بری کرنا پڑے گا کہ انہیں فیصلوں کا علم کیوں نہیں ہوتا۔ اگر پارٹی میں مشاورت کے لیے کوئی اجلاس یا کارنر میٹنگ کا وجود ہوتا تو صحافی کہیں نہ کہیں سے خبر نکال لیتے ایسا چونکہ سسٹم ہی نہیں ہے اس لیے خبر کاروں کے لیے ستاروں کا حال معلوم کرنا ممکن نہیں رہتا۔

پاکستان کے ساتھ محبت کا تقاضا ہے کہ موجودہ حالات میں کیے گئے اس فیصلے کی تائید کی جائے اس سے کم از کم سیاسی و عسکری قیادت اگلے تین سال تک ہم قدم اور ہم رکاب رہے گی اور مسائل پیدا نہیں ہوں گے حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور ملک میں جاری معاشی و سیاسی پالیسیوں میں تواتر اور استحکام ہو گا۔ یہاں پر یہ کہنا بلاجواز نہیں کہ اگر نواز شریف اپنے دور مین جنرل راحیل شریف کو ایکسٹنشن پر راضی کر لیتے تو وہ بھی اپنی مدت پوری کر لیتے ۔ پاکستان کی داستان علامہ اقبال کے فلسفہ ‘‘ نہایت سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم ‘‘ والی بات نہیں ہے بلکہ یہ بہت زیادہ پیج و تاب سے پُر ہے ۔ بلکہ میری ذاتی رائے تو یہ ہے کہ پاکستان کے آئین میں کوئی ایسا اہتمام ہو جانا چاہیے کہ آرمی چیف اور وزیر اعظم کے مدتِ ملازمت بیک وقت شروع ہو اس سے پاکستان کا وسیع تر قومی مفاد کم سے کم متاثر ہو گا۔ آئین کی بات چلی ہے تو 18 ویں ترمیم کا ذکر کرنا مناسب ہو گا۔ جس طرح 18 ویں ترمیم کے ذریعے چیف جسٹس کی تعیناتی کا معاملہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل کر دیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا سینیئر ترین جج ہی چیف جسٹس بن سکتا ہے۔ اُس وقت اگر 18 ویں ترمیم آئینی ترمیم میں آرمی چیف کی تعیناتی کو بھی سنیارٹی سے منسلک کر دیا جاتا تو ہر وزیر اعظم کو ہر تین سال بعد اس پر فیصلہ کرنے کی نوبت نہ آتی۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اس وقت اس مسئلے کو زرداری صاحب نے دانستہ حل نہیں کیا۔ ایک تو وہ جنرل کیانی کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے دوسرا فوج کے اندر سے بھی ناراضگی کا خطرہ تھا اور کچھ دیگر مجبوریاں بھی تھیں۔ آنے والے وقت میں اگر ہماری سیاسی قیادت کے اندر اتنا دم خم پیدا ہو جائے تو آئینی ترمیم کے ذریعے یہ قانون سازی ممکن ہے کہ سینیئر ترین جنرل ہی چیف بنے گا اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے فوج مضبوط ہو گی اور جرنیلوں کو آرمی چیف بننے کے لیے وزیر اعظم کی پسندیدگی کے لیے لابنگ نہیں کرنا پڑے گی۔ اس سے فوج کے اندر پیشہ واریت یا Professionalism کو تقویت ملے گی۔ایک Myth یہ چل رہی ہے کہ جنگ کے دوران کمانڈر نہیں بدلا جا سکتا عمران خان پہلے اس کے مخالف ہوا کرتے تھے مگر اب انہوں نے اس سے رجوع کر لیا ہے ۔ اس موقع پر مجھے امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹر یاس بہت یاد آ رہا ہے ۔ وہ 2011 ء میں افغانستان میں امریکی افراج کا کمانڈر تھا اس سے پہلے وہ CIA کا ڈائریکٹر بھی رہ چکا تھا وہ امریکی فوج کا طاقتور ترین جنرل تھا ۔ جس کا چیف آف سٹاف بننا یقینی تھا مگر اس وقت اس کا ایک شرمناک سکینڈل منظرعام پر آیا جب وہ اپنی سوانح نگار پالا براڈویل کے عشق میں گرفتار ہوا اور شادی شدہ ہونے کے با وجود اس نے بائیو گرافی کے بہانے پالا کو افغانستان بلایا اور اس کو اپنے ساتھ رکھا یہ ایک سکیورٹی رسک تھا جس پر اسے کورٹ مارشل کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا مگر فیصلے سے پہلے اس نے استعفیٰ دے کر اپنی عزت اور پنشن دونوں بچالیں اس وقت بھی امریکہ میں یہ سوال اٹھا تھا کہ جنگ میں کمانڈر نہیں بدلنا چاہیے مگر باراک اوبامہ نے اس پر سمجھوتہ نہیں کیا امریکہ میں شخصیت پرستی کی بجائے اداروں کی بالا دستی اولین ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے جنرل باجوہ کے اقدامات پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے جس میں افغان سرحد پر باڑ لگانا، دہشت گردی کے خلاف جنگ ، انڈیا کے ساتھ جھڑپ میں طیارہ گرانا اور پائیلٹ پکڑنا، فوج کی تنخواہ میں سالانہ اضافے کا خاتمہ، عسکری سفارتکاری شامل ہیں۔ عمران خان کے لیے جنرل باجوہ کو امریکی Pentagon میں 21 توپوں کی سلامی کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔


ای پیپر