کشمیر پاکستان کی شہ رگ کیوں ؟
21 اگست 2019 2019-08-21

کیا کشمیر پر گریٹ گیم کھیلی جارہی ہے ؟ کیا یہ سب کچھ پہلے سے طے تھا جواب مرحلہ وار سامنے آرہا ہے ؟ یہ سوال مسلسل ذہنوں میں گردش کررہے ہیں۔کیا یہ محض اتفاق ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کو اچانک مظلوم کشمیریوں کی یاد آئی ۔ اتنا انتظار بھی نہ کیا کہ پاکستان کا وزیراعظم کسی موقع پر کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی بات کرتاتو وہ پھر اپنی ثالثی کی پیشکش کرتے ۔ ٹرمپ نے اچانک خود ہی بات شروع کی کہ نریندر مودی چاہتے ہیں ، امریکا کشمیر پرثالث کا کردار ادا کرے ۔ پاکستان میں اس پیشکش پر شادیانے بجنے لگتے ہیں اور بھارت میں طوفان بدتمیزی ۔ کپتان یہ کہتے ہوئے امریکا سے لوٹتے ہیں ۔ یوں لگ رہا ہے ، ایک بار پھر ورلڈ کپ جیت کر آرہاہوں ۔ بھارت میں اپوزیشن کی تنقید کا کابینہ جواب دینے میں مصروف ہوتی ہے ، نریندر مودی خاموش رہتے ہیں ، ایسے میں اچانک مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوجی تعینات ہونے لگتے ہیں اور ایک صبح بھارتی وزیرداخلہ کشمیر کی تقسیم اور خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل راجیا سبھا میں پیش کردیتے ہیں ۔ ابھی ووٹنگ بھی شروع نہیں ہوتی ، ایوان صدر سے حکمنامے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر سے الگ ریاست کا درجہ چھین لیا جاتا ہے ۔

مقبوضہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت میں صورتحال یکسر بدل جاتی ہے ۔ امریکی ثالثی کی پیشکش پرشک وشبہات شروع ہوجاتے ہیں ۔ امریکی ترجمان کو پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال پر وضاحت کرنا پڑتی ہے کہ بھارت نے ان کے علم میں لائے بغیر مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کی ۔ امریکا اپنی صفائی ضرور دیتا ہے لیکن ثالثی کی پیشکش ٹھکرانے اور بھارتی ترجمان کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کو نریندر مودی سے جھوٹ منسوب کرنے کے الزام کے باوجود ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھاتا جس سے بھارت ناراض ہو ۔ برطانیہ جس کی غلط تقسیم نے برصغیر کو بہتر سال سے جنگی کیفیت سے دوچار کررکھا ہے ۔ وہ بھی بھارتی اقدام پر غیر معمولی ردعمل نہیں دکھاتا۔ سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک بھی خاموش رہتے ہیں ۔ اس صورتحال میں بین الاقوامی میڈیا کارویہ عالمی منظر نامے سے یکسر مختلف نظر آتا ہے ۔امریکا اور یورپ کے وہ میڈیا ہاؤسز جو ماضی میں بھارت سے متعلق کچھ بھی لکھنے سے پہلے سو بار سوچتے تھے ۔ وہ کشمیریوں کے درد میں گھلے نظر آتے ہیں ۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے تو اپنی رپورٹ پر بھارت کے سامنے اسٹینڈ بھی لے لیا ۔ صرف اتنا ہی نہیں سلامتی کونسل میں بھی پچاس سال بعد کشمیر کی آواز سنی گئی ۔ اچھا یا برا ، ذکر تو ہوا ۔

اسے سازشی تھیوری کہیں یا کچھ اور ۔ وائٹ ہاؤس سے اچانک ثالثی کی پیشکش اورپھر اچانک بھارتی فیصلے کے سامنے آنے کے بعد مسلسل سوال اٹھ رہے ہیں ۔ امریکا کی بے خبری پربھی سوال اٹھ رہے ہیں ۔ بین الاقوامی میڈیا کی ہمدردی کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ۔ یہ کہا جاسکتا ہے جیسے عمران خان کی حلف برداری کی تقریب میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے بھارتی مہمان نوجوت سنگھ سدھو کو کرتارپور راہداری کھولنے کی بات کرکے سکھ کمیونٹی کو حیران اور مودی سرکار کو پریشا ن کردیا تھا۔ اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے انخلا کے لیے پاکستان کو ثالثی کی پیشکش کرکے خوش کرنے کی کوشش کی ۔ اس کے باوجود یہ سوال بھی بنتا ہے کہ اگر یہ بات سنجیدگی سے کہی گئی تھی تو پھر بھارتی ایکشن پر امریکا کا ملا جلا ردعمل ہضم نہیں ہورہا۔

سازشی تھیوریاں مسلسل گردش میں ہیں کہ پرویز مشرف دور میں سامنے لائے جانے والے فارمولے پر عمل کیا جارہا ہے ۔ کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرو ۔ لداخ بھارت کو دے دو ۔ وادی کو خود مختار بنادو ۔ باقی کشمیر کو پاکستان بنادو ۔ اس تھیوری کو بنیاد بنا کر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ایل او سی پر بھارت جارحیت کرے گا ۔ محدود علاقے میں جنگ شروع ہوجائے گی جس پر عالمی ادارے اپنی ثالثی کی پیشکش کے ساتھ میدان میں اتریں گے اور ایل او سی کو مستقل سرحد بنا کر مسئلہ کشمیر حل کردیں گے ۔ ایسی ثالثی سے بھارت خوش ہوجائے گا اور کمزور معیشت کا مارا پاکستان ناراض ہوکر بھی بھلا کیا کرلے گا۔

اس گریٹ گیم میں کتنی سچائی ہے ، وقت بتاہی دے گا ۔فی الحال امریکا نے چین کے مقابلے کے لیے خطے میں جس بھارت کواتارا ہے ، اس کے لیے کشمیر کو ہضم کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ پاکستانی حکومت نے ایسی کسی گریٹ گیم کو قبول کیا تو عوام اس کا دھڑن تختہ کردیں گے ۔عسکری قیادت کو بھی علم ہے ، کشمیر نہیں توقوم کے لیے پھر کچھ اور ضروری نہیں ۔ کشمیری بھی ایسی کسی تقسیم کو قبول کرتے نظرنہیں آرہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی آواز آخرکتنی دیر تک دبائی جاسکتی ہے ۔ خاص طور پر جب عاقبت نااندیش بی جے پی رہنما کشمیری خواتین کی عزتوں پر غلیظ نظریں گاڑے ہوئے ہیں اور کھلے عام اپنی گندی ذہنیت کا اظہار بھی کررہے ہیں ۔ بھارتی عزائم پر آزاد کشمیر بھی چپ نہیں رہے گا۔ سب سے اہم دنیا بھر میں پھیلے کشمیریوں کی آواز ہے ۔اس لیے پاکستان کی جانب سے موثر حکمت عملی سامنے نہ آئی تو مقبوضہ کشمیر کو برصغیر کا فلسطین بنانا نئی عسکریت پسندی کو جنم دے گا ۔حکومت پاکستان تنہاہوجائے گی ۔ تب پاکستانی قوم بھی کسی مہم جوئی کی حمایت کیلئے حکومت کی طرف نہیں دیکھے گی ۔ یہ سوال بالکل بھی اہم نہیں رہے گا کہ پاکستان کی معیشت کتنی کمزور ہے ، وہ جنگ کا متحمل ہوسکتا ہے یا نہیں ۔ سوال یہ اہم ہوگا ۔ کشمیر بنا پاکستان بھی نہیں ۔

پاکستان میں اکا دکا اٹھنے والی آوازیں جو یہ کہہ رہی ہیں ۔ پہلے پاکستان ۔ ان کو اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ پوری پاکستانی قوم بھی کشمیر کو بھول جائے تب بھی کشمیری جدوجہد کا ساتھ دینا پاکستان کی مجبوری ہے کیونکہ پاکستان کے پانی کے تمام ذرائع اسی مقبوضہ کشمیر سے ہوکر آتے ہیں اور اگر عالمی دباؤ کا شکار ہوکر مودی کے جنگی جنون کو آج لگام نہ ڈالی گئی تومت بولیں یہی مودی بارہا کہہ چکا ہے ۔ وہ پانیوں پر قبضہ کرکے پاکستان کو پیاس سے بلکتے صحرا میں بدل دے گا۔ یعنی کشمیر کیلئے پاکستان اتنا ضروری نہیں جتنا پاکستان کیلئے کشمیر ناگزیر ہے ۔ ہندو تنگ نظری کو جاننے والے قائد اعظم نے اسی لیے تو کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔

آخر میں دل لگتی کہوں تو پاکستان کی کمزوریاں اپنی جگہ لیکن مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے جشن منانے والے ہندو راج کے خواہش مند نہیں جانتے ۔ نریندر مودی کے پکھنڈ نے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا شمشان گھاٹ بنا دیا ہے جس میں اکھنڈ بھارت کی چتا جلائی جائے گی ۔ اس وقت بھارت میں سب اچھا نہیں ، اس کی معیشت بھی ڈانواں ڈول ہورہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر سے وعدہ خلافی دیکھ کر خصوصی درجہ رکھنے والی باقی ریاستیں خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی ہیں ۔ بھارتی مسلمان، عیسائی اور سکھ بھی سوچنے پر مجبور ہیں کہ انتہا پسند ہندو راج کا نفاذ روکنے کے لیے اب انہیں حتمی فیصلہ کرنا پڑے گا۔بھارت میں چھائی اس غیر یقینی صورتحال کو پاکستان اپنے حق میں کیسے استعمال کرتا ہے؟ یہ پاکستان کے عالمی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت ، ریاستی اداروں کی اہلیت اور وسائل کی دستیابی پر منحصر ہے۔


ای پیپر