آئی آر ڈی اسلام آباد !
21 اگست 2019 2019-08-21

آئی آر ڈی اسلا م آباد کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر،ڈاکٹر حسن الامین کی طرف سے مدرسہ ڈسکورس کے شرکاء کو کتابوں کا ایک ایک سیٹ پیش کیا گیا تھا ، ڈاکٹر صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے فکری غذا کا سامان بہم پہنچانے کا اہتمام کیا ، ہم جیسوں کے لیے کہ جن کی کل کائنات کتابوں تک محدود ہے اس سے اچھا تحفہ اور کیا ہو سکتا ہے ۔ نئے اور فکری موضوعات پر چھپی کتب دیکھ کر اطمینان قلب ہوا کہ ہمارے ہاں ع ش ق کے علاوہ بھی کچھ چھپ رہا ہے ، اگرچہ نئی نسل ابھی ان تین حروف کے سحر سے نہیں نکل سکی مگرکچھ سر پھرے ایسے ضرور ہیں جوایسے فکری موضوعات پر کتب خریدنے اور پڑھنے کا تکلف کرتے ہیں ۔ ڈراما سیریلز ، فلم انڈسٹری اور سوشل میڈیا کی رنگا رنگی میں کتابوں کی پرخار وادی میں کوئی قدم کیوں رکھے کہ کتب بینی ایک قسم کی ذہنی مشق ہے جس کے لیے اپنے تمام قویٰ کو مستعمل کرنا پڑتا ہے ،جبکہ ڈراما سیریلز اور سوشل میڈیا سے مستفید ہونے کے لیے کسی تکلف کی ضرورت نہیں، بس لامحدود وقت چاہئے جو آپ یکسو ہو کر خشوع و خضوع کے ساتھ ضائع کر سکیں ۔

آئی آر ڈی کیا ہے ، اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کا مخفف ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے ملحق ایک ذیلی ادارہ اور تھنک ٹینک، جس کا بنیادی مقصد پاکستان اور عالم اسلام کو درپیش فکری و تہذیبی مسائل پر غور و فکر اورعلمی و فکری مسائل پر مکالمے اور افہما م و تفہیم کی روایت کو پروان چڑھانا ہے۔معاصر دنیا میں مسلم معاشروں کو درپیش جدید مسائل، انسانی حقوق ، قانون کی حکمرانی ، تکثیریت، ثقافتی تنوع ، جدیدیت ، جمہوریت اور مغرب و اسلام کے درمیان ڈائیلاگ اس ادارے کے اہم وظائف ہیں ۔ گزشتہ کچھ عرصے سے آئی آرڈی نے مختلف موضوعات پر سیمینارز اور کانفرنسز کا بھی اہتمام کیا ہے۔’’متبادل بیانیہ ‘‘ کے نام سے متنوع موضوعات جن میں معتدل اسلام کے فروغ، تشدد پسندی کے خاتمے ،بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی اور دینی مدارس کی بہتری جیسے موضوعات پرکتب کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا گیاہے ،میری نظر میں پاکستان بھر میں ایسے اداروں کی تعداد کہ جنہوں نے اپنے عصر کے زندہ اور فکری مسائل کو موضوع بحث بنایاہو، انتہائی مبالغے کے باوجود چار پانچ سے آگے نہیں بڑھتی ۔

دنیا کے بہترین کاموں میں سے ایک اہم کام کتب شائع کرنا بھی ہے ، لیکن اشاعت کے لیے کسی اچھی کتاب کا انتخاب اس سے بھی اہم ہے ۔آپ ایک ہزار اچھی کتب لکھ نہیں سکتے لیکن ایک ہزار اچھی کتب شائع ضرورکر سکتے ہیں ۔موجودہ عصر میںسنجیدہ اور اچھی کتب کی اشاعت نسل نو کی فکری و تہذیبی تربیت اور ان کے ذہنی ارتقاء کے لیے ضروری ہے ، لازم ہے کہ اس عہد کے راسخ العلم اور سلیم الفکر اہل علم سے زندہ موضوعات پر لکھوایا جائے اور انہیں ان کی محنت و ریاضت اور نسل انسانی کو اپنے تجربات اور حاصل زندگی سے روشناس کرانے کامعقول مشاہرہ دیا جائے۔ کتاب ایک ہم نشین اور بہترین دوست ہے ، یہ دوستی اچھی بھی ثابت ہو سکتی ہے اور بری بھی، یہ منحصر ہے کہ آپ اپنے لیے کس کتاب کا انتخاب کرتے ہیں ، جس طرح کوئی دوست آپ کی زندگی پر اچھا یا برا اثر ضرور چھوڑتا ہے ،اسی طرح ہر کتاب شعوری یا غیر شعوری طور پر آپ کے ذہن پر ضرور اثر انداز ہوتی ہے ۔

اچھی کتاب کی اشاعت کا دائرہ کار صرف موضوع کے انتخاب تک محدود نہیں بلکہ معیاری کتاب کی اشاعت پورا ایک پیکج ہے، موضوع کے انتخاب سے لے کر جلد بندی تک درمیان میں بیسیوں مراحل عبور کرنے پڑتے ہیں، کمپوزنگ اورپروف ریڈنگ ابتدائی اور اہم مراحل ہیں ، اغلاط کی درستگی اور رموز اوقاف کا خیال بھی لازم ہے، کاغذ کی کوالٹی اور معیار کے بغیر آپ اچھی کتاب کا حظ نہیں اٹھا سکتے، کتاب کا ٹائٹل اچھا نہیں تو خواہ کتاب میں مٹی کو سونا بنانے کے راز لکھے ہوں کوئی اسے درخور اعتناء نہیں جانے گا ، ایک اچھی کتاب کی اشاعت کے لیے لازم ہے کہ موضوع کے انتخاب سے کتاب کے مارکیٹ میں آنے تک تمام مراحل کو بحسن و خوبی سرانجام دیا جائے ۔ ہمارے ہاں ایک کہاوت بہت مشہورہے اور میرا زعم ہے کہ یہ بے جا بھی نہیں کہ جہاں جوتے بڑے بڑے شو کیسوں میں سجا کر رکھے جاتے ہوں اورکتابیں فٹ پاتھ پر بے بسی کی تصویر بنی نظر آتی ہوں، اس قوم کی ذہنی سطح اور فکری افلاس پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے ۔

آئی آر ڈی کی کتب دیکھ کر میں بیک وقت دو کیفیتوں میں مبتلا ء ہوا ،کتب کے موضوعات اور مندرجات قابل تحسین اور باعث اطمینان تھے لیکن بعض تکنیکی امور کی خامیوں نے دل مکدر کر دیا ۔اتنے اہم اور سنجیدہ ادارے کی طرف سے ،علمی وفکری موضوعات پر شائع ہونے والی کتب میں پروف کی جا بجا غلطیاں سخت کوفت کا باعث ہوئیں ۔بالکل ابتدائی صفحات حتی کہ فرنٹ اور بیک پیچ پر بھی پروف کی غلطیاں موجود ہیں ، حالانکہ ان صفحات کو خاص توجہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ مجھے ندامت ہے اور حیرت بھی کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدرڈاکٹر احمد بن یوسف جو اس ادارے کے سربراہ بھی ہیں ، میں ٹھیک سے ان کا نام نہیں جان سکا کہ ان کے نام کا آخری حصہ ’’الدرویش ‘‘ ہے یا ’’الدریویش‘‘۔یہ تعجب اور تشنگی اس لیے ہے کہ ایک ہی کتاب میں ان کا نام کہیں الدرویش لکھا ہے اور کہیں الدریویش ، یہ صرف ایک کتاب میں نہیں بلکہ سب کتب میں یہی روش اپنائی گئی ہے ۔

رموز اوقاف کے ضمن میں توکسی تکلف کا اہتمام کیا ہی نہیں گیا ، کون سی علامت کہاں استعمال ہوگی اور اس علامت کے استعمال سے تفہیم عبارت میں کیا پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں ، اس اصول کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ایک وقیع ادارے کی طرف سے اتنی سطحی چیزوں کا ظہور کم از کم میرے لیے حیرت کو مستلزم ہے۔ کچھ کتب ایسی ہیں جنہیں عربی یا انگریزی سے اردو کے قالب میں ڈھالا گیا ہے ، یہ ترجمہ اس قدر پیچیدہ اور ناقابل فہم ہے کہ قاری کو مترجم کی بدذوقی کا یقین ہو جاتا ہے ۔ اتنے طویل جملے وہ بھی بے محاورہ ، اس پر مستزاد رموز اوقاف کا غلط استعمال ،مجھے یقین ہے کہ خود مترجمین بھی یہ کتب پڑھیں تو انہیں سمجھ نہ آئے کہ اصل مصنف کیا کہنا چاہتا ہے ۔میرا گمان ہے کہ بعض کتب کو کسی پشتو بولنے والے مترجم نے ترجمے کے قالب میں ڈھالا ہے کہ اس ترجمے کی ساخت اور اس میں کا کی کے کا غلط استعمال اس پر شاہد ہے ۔کسی جگہ کانفرنس کے شرکاء کے خطابات کو تحریر کیا گیا ہے ، اس میں بھی تحریر کے اصول وضوابط کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے ۔ تراجم نگاری کا فن متعلقہ زبانوں میں مہارت سمیت بہت سی دیگر خصوصیات کا مقتضی ہے اس لیے لازم تھا کہ اس فن کے ماہرین سے استفادہ کیا جاتا اور ان کی خدمات مستعار لی جاتیں ۔ آئی آر ڈی ایک سنجیدہ اور وقیع قومی ادارہ ہے ، اس جیسے ادارے سے ایسی سطحیات کا ظہور ادارے کی ساکھ کے لیے کسی طور خوش آئیند نہیں ۔ لازم ہے کہ منتظمین ادارے کی سنجیدگی اور وقار کو برقرا ر رکھتے ہوئے کتب کی اشاعت اور تراجم نگاری کا اہتمام کریں۔


ای پیپر