معیشت کی آنکھ سے دیکھیں
21 اگست 2019 2019-08-21

دنیا گلوبل ویلیج کی شکل اختیار کر چکی ہے یہ جملہ ہم اپنے بچپن سے سنتے آ رہے ہیں لیکن اس کا اصل مفہوم نہ کبھی سمجھنے کی کوشش کی اور نہ ہی اس کی ضرورت محسوس ہوئی ۔عالمی طاقتیں آج گلوبل ویلیج کو معیشت کی آنکھ سے دیکھ رہی ہے مگر بدقسمتی سے ہم آج بھی احمقوں کی جنت میں رہتے ہوئے او آئی سی ، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی طاقتوں سے اخلاقیات اور ہمدردی کی بنیاد پر ثالثی کی امید لگائے بیٹھے ہیں ۔ مسئلہ کشمیر اور پاک بھارت تعلقات کو دنیا کی نظر سے دیکھیں توڈیڑھ ارب کی آبادی والے ملک کے مقابلے میں 22 کروڑ عوام کے ملک کو اہمیت دینا کونسی دانشمندی ہے ؟ پھر چاہے مسلم امہ ہو یا امریکہ اور چائنہ جیسی اقتصادی طاقتیں اپنی تجارت،اپنی سرمایہ کاری ، اپنے ملک کی ہیومن پاور اوراپنا فائدہ کون داؤ پر لگاتا ہے ؟عام زندگی کی مثال ہی اٹھائیں تو کون کسی ضرورت مند کی مدد کرنے کے لئے چند قدم بھی چلنا چاہتا ہے ؟ مدد صرف اس وقت کی جاتی ہے جب موقع بھی ہو، اسباب بھی ہو اور نقصان بھی کوئی نہ ہو رہا ہو۔اس لیے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کا اجلاس بلانا ہر گز کوئی کامیابی نہیں ۔یہ اجلاس ایک سفارتی کامیابی اس وقت ہو سکتی تھی جب ممبران ممالک کی نظر میں دونوں فریقین برابری کی حیثیت رکھتے ۔ہمارا ہمالیہ کے پہاڑوں سے بلند دوستی والا ملک چین سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے ۔کشمیر کے علاقے لداخ پر چین اپنے زیر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جسکی ریاستی حیثیت ختم کرنے کااقدام چین کو ایک آنکھ نہیں بہایامگر اس کے باوجود چین بھارت کی کھل کر مخالفت کرنے سے گریزاں ہے۔پاکستان کی حمایت اوربھارت کی کھل کر مخالفت نہ کرنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ چین دنیا کو پاکستان کی طرح دوستی یا ہمدردی کی نہیں بلکہ معیشت کی آنکھ سے دیکھتا ہے ۔چین اور بھارت کی تجارت100ارب ڈالر سے زائد ہے ایسے میں ایک غریب دوست کے لئے کون بیوقوف خود کو معاشی

نقصان پہنچانا چاہے گا ؟سلامتی کونسل کے دوسرے مستقل رکن روس نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد دونوں ممالک کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ۔کیا روس کے ساتھ ہمارے تعلقات کبھی بھی ٹھیک رہے ہیں ؟ نہیں روس کے ساتھ تعلقات ہمیشہ امریکہ کی وجہ سے خراب رکھے گئے ہیں لیکن اس سب کے باوجو د روس پاکستان کا دشمن نہیں ہے بلکہ وہ بھی پاکستان اور بھارت کو معیشت کی آنکھ سے دیکھتا ہے ۔روس اوربھارت تجارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ سفارتی بندھن میں بھی بندھے ہوئے ہیں ۔ اور یہی نہیں روس بھارت کو سب سے زیادہ اسلحہ فروخت کرنے والا ملک بھی ہے۔سلامتی کونسل کے دیگرمستقل رکن فرانس اور برطانیہ کی دلچسپی بھی چند کروڑ کی آبادی کے بجائے ڈیڑھ ارب کی منڈی تک رسائی میں ہے ۔امریکہ کی بات کی جائے تو امریکہ اس وقت پاکستان کی جانب سے افغان امن کے لئے کردار ادا کرنے کی امید لگائے بیٹھا ہے لیکن اس کو بھی بھارت کے ساتھ پاکستا ن کے تعلقات یا کشمیر کی کوئی فکر نہیں ۔مسلم امہ کے مرکزی ملک سعودی عرب کی بات کریں تو بھارت کے ساتھ صرف تیل کے معاہدے ہی اسے خاموش رکھنے کے لئے کافی ہیںجبکہ سعودی ارب میں ہمارے سفیرسعودی ولی عہد محمد بن سلمان اگلے دو برس میں بھارت میں 100ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر چکے ہیں ۔ ایسے میںچاہے 72سال بعد سہی لیکن اب ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ متحدہ عرب امارات ہو یا ترکی کسی بھی اسلامی ملک

سے صرف اس لئے حمایت حاصل نہیں کی جا سکتی کہ وہ ہمارے مذہب کے پیروکار ہیں ۔سلامتی کونسل کے غیر منتخب ارکان کی بات کی جائے تو انھوں نے بھی سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس کے بعد کوئی بیان نہیں دیا بلکہ غیر جانبدار رہنے کو ترجیح دی ہے ۔مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد یہ تو واضح ہوا کہ مسئلہ کشمیر پر کوئی بھی ملک کھل کر یا پوری طرح پاکستان کی حمایت کے لئے تیار نہیں ۔اور یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ تمام رکن ممالک کے معاشی و سفارتی معاملات دیکھیں جائیں تو انکے فیصلے اپنے اپنے وسیع تر مفاد میں بلکل درست ہیں ۔اب سوال یہ ہے کہ حقیقت جو پہلے بھی عیاں تھی اب کھل کر سامنے آ ہی گئی ہے تو ہم کیا کریں ؟اس میں کوئی شک نہیں کہ جذبہ ، جدوجہد مسلسل اور سچی لگن کشمیریوں کو ایک دن آزادی کی نعمت سے ضرور نوازے گی اور پاکستان کی جانب سے کشمیر کی اخلاقی و سفاری حمایت ہر سطح پر جار ی رہے گی لیکن کیا یہ کافی ہے ؟مسئلہ کشمیر بھارت کا نہیں پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور اپنے اندرونی مسائل کر حل کرنے کے لئے پاکستان کو اندر سے مظبوط ہونا ہو گا اور دنیا میں مظبوطی کا معیار معاشی مضبوطی ہے جس میں ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں ۔اہم یہ نہیں کہ ہماری آبادی بھارت کی نسبت کم ہے اور یہ بھی قابل غو ر نہیں کے ہم رقبے میں کتنے بڑے یا کتنے چھوٹے ہیں ۔ اہمیت صرف اس نقطے کی ہے کہ ہم دنیا میں معاشی لحاظ سے کہاں کھڑے ہیں ۔وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنبھانے سے قبل جہاں اور بہت سے وعدے کئے تھے وہاں ہی پاکستان کو خود مختار بنانے کا دعویٰ بھی کیا تھا ۔مگر حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر یا کسی اور وجہ سے حکومت کو پہلے ہی سال آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ماضی میں کرپشن ، غلط فیصلے ، ویژن کی کمی ، آمریت اور دیگر مسائل نے ملک کو پیچھے ضرور رکھا لیکن اس وقت موقع بھی موجود ہے اور وسائل بھی پیدا کیا جا سکتے ہیں ۔لہذا احمقوں کی جنت سے باہر نکل کر ہمیں درست سمت کا تعین اور سرمایہ کاروں کے لئے آسانیاں پیدا کر کے ملکی حالات بہتر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔اس طرح اگر 5سال میں نہیں تو اگلے50 سالوں میں تو ہم اپنی معیشت کو بہتر کر ہی سکتے ہیں ۔ مختصر یہ کہ اب ہمیں بھی دنیا و معیشت کی آنکھ سے دیکھنے کی ضرور ت ہے ۔بقول اقبال۔۔۔

جاوداں ، پیہم دواں ، ہر دم جواں ہے زندگی

اپنی دنیا آپ پید ا کراگر زندوں میں ہے


ای پیپر