نئے پاکستان کا پہلاسال کیسارہا؟؟
21 اگست 2019 2019-08-21

عمران خان نے الیکشن2018میں ن لیگ اور پی پی کے ’’باری سسٹم‘‘ کواپنی ان اور آؤٹ سیونگ سے کلین بولڈ کردیا۔ کئی سالوں پر محیط ان دونوں پارٹیوں (ن لیگ اور پی پی) کے اقتدارکی اننگز کا خاتمہ کرکے تحریک انصاف نے اپنا جھنڈا گاڑھ دیا۔عمران خان جو نئے پاکستان کا نعرہ لگائے ہوئے تھے انہوں نے آخر کار نئے پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔

تحریک انصاف کو حکومت میں آئے ایک سال ہوگیا ہے۔ 8 اگست 2018 بروز ہفتہ کو پی ٹی آئی کے قائد عمران خان نے بطور وزیراعظم اپنی اننگز کھیلنے کا حلف اٹھایا۔ عمران خان کی جارحانہ اننگز دیکھنے کا ہر کوئی متمنی تھا۔ پوری قوم کی پر امید نظریں ان پر مرکوز تھیں کیونکہ نئے پاکستان کا نعرہ پچھلے پانچ سال سے عمران خان لگا رہے تھے اور عوام نئے پاکستان اور پرانے پاکستان میں تبدیلی دیکھنے کے خواہاں تھے۔پانچ سالوں میں عمران خان اور ان کی جماعت نے جہاں ماضی کے حکمرانوں پر سخت تنقید کے بونسر مارے تو وہیں ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی جماعت کو اس حیثیت میں پیش کیا جو برسر اقتدار آتے ہی صرف 90 دن میں ملک کے حالات 'تبدیل' کر دے گی مگر 90دن چھوڑو اب تو سال گزر گیا مگر عوام ابھی بھی اس عمران خان کو تلاش کررہی ہے جس نے نئے پاکستان میں دودھ کی نہریں نکالنے کے سپنے دکھائے تھے۔

یہ حقیقت ہے کہ کامیابی اور ناکامی کا تعین کرنا آسان نہیں۔حکومت کی کارکردگی پرکھنے کے لیے کسی کے پاس کوئی آلہ نہیں جس سے معلوم ہوسکے کہ اس کی کیا کاکردگی ہے؟ ہم حکومتی نمائندوں یا اپوزیشن نمائندوں کے بیان بازی پر ان کی کارکردگی کارزلٹ نہیںسنا سکتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عوام کی آواز ہی فیصلے کی آواز ہوتی ہے ۔ اب حکومت کی کارکردگی پر ایک نظر ڈالیں کہ اس نے اپنے اقتدار کے پہلے سال میں کیا کیاگل کھلائے؟

حکومت اپنی یک سالہ کارکردگی میں درج ذیل پوائنٹ کا سہرا اپنے سر باندھے ہوئے ہے۔موجودہ حکومتی وزرا کے مطابق خارجہ تعلقات کی بہتری پہلے سے زیادہ اچھی ہے اوران حالات میں سعودی عرب، قطر اور چین کی جانب سے معاشی امداد حاصل کرنا بھی اعزاز سے کم نہیں۔موجودہ حکومت کو کرتارپور راہداری منصوبے پر بھی بڑا فخر ہے ۔ فاٹا کا انضمام، سادگی اور کفایت شعاری مہم کی مدد سے ہونے والے بچت کا بھی چرچا بہت کیا گیا ہے۔ کرپشن کے نام پر کریک ڈاؤن ، غریبوں کے لیے صحت انصاف کارڈ کا اجرا، غربت کے خاتمے کے پروگرام اور ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے شجر کاری مہم پربھی کافی خوش و خرم ہیں۔حکومت کا 12 ماہ میں اہم کامیابی پاکستان کے لیے ویزا حاصل کرنے کے نظام میں آسانی لانا بھی شامل ہے۔فواد چوہدری کے مطابق سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ چین، ملائیشیا، ترکی، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کے شہریوں کو(ویزا آن ارائیول)یعنی پاکستان پہنچنے پر ان کو فوراً ویزا دیا جا سکتا ہے۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا کہ ان کے نزدیک اس حکومت کی بڑی کامیابی مدرسہ تعلیم کی نظام میں اصلاحات کے بارے میں پیشرفت ہے۔ اسی طرح ہر وزیر اپنے اپنے محکمہ کی کارکردگی پر بڑی بڑی کامیابی کے دعوے کررہے ہیں۔ شیخ رشید کے مطابق ریلوے کا خسارے میں ہونے کے باوجود نئی ٹرین چلانا بڑے فخر کی بات ہے۔ پی ٹی آئی نے اقتدار میں آ کر پاکستان میں ٹیکس چوری کے کلچر کو ختم کرنے کے حوالے سے کام کیا ہے جو ان کے مطابق قابل تعریف ہے۔

اگرحکومتی ارکان کی باتوں پر جائیں تونئے پاکستان میں پرانے پاکستان سے بہت زیادہ تبدیلی آچکی ہے۔ معاشی بحران کے باوجود حکومت نے ایک سال بہت اچھا گزارا ہے اور ان کے مخالفین پر جائیں تو ان کہنا کچھ اور ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ملک کا نقصان قیام پاکستان سے آج تک اتنا نہیں ہوا جتنا تحریک انصاف کی حکومت نے ایک سال میں کردیا ہے۔

کچھ تجزیہ نگاروں نے بھی حکومتی ایک سال کی کارکردگی کو کافی تنقید کا نشانہ بنا یا ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف مڈل کلاس یعنی متوسط طبقے کی مقبول جماعت تھی اور انھی کی حمایت کی مدد سے اقتدار میں آئی مگر وہ معاشی صورتحال کے پیش نظر ان کے لیے کوئی سہولت نہ دے سکی۔

اگر یہ کہا جائے کہ حکومت ’متوسط طبقے کی امیدوں پر پورے نہیں اتری تو یہ غلط نہ ہوگا‘ ۔ایک ایسی پارٹی جو اقتدار میں آنے کے لیے پانچ سال سے تیاری کر رہی تھی انھوں نے کوئی تیاری ہی نہیں کی تھی۔ حکومت کی نیت پر کوئی شک نہیں مگر ان کی اب تک کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ شاید منصوبہ بندی کا فقدان ہے کیونکہ پی ٹی آئی حکومت آنے کے بعد سے ڈالر کی قیمت میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور روپے کے قدر تاریخ کی سب سے کم سطح پر پہنچ گئی ہے ۔حکومت نے حالیہ مہینوں میں تقریباً نو ارب ڈالر کے قرضے لیے ہیں جس سے کہا جا سکتا کہ معاشی بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔

حکومت کی یہ ایک بڑی خامی یہ بھی ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر بھی گذشتہ سال کے انتخاب سے پہلے کا بیانیہ چلا رہی ہے اور پورا سال وہ ن لیگ کو ہر کام کا ذمہ دار بنا کر اس پر آواز اٹھاتی رہی ہے۔اب آگے دیکھنا ہے کہ پانچ سال وہ ن لیگ پر تنقیدکرکے گزاتی یا کوئی اپنے پیش کیے منشور کے پروجیکٹ پربھی عمل کرتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو حکومت نے عام آدمی بہت مہنگائی کے دلدل میں پھنسا دیا ہے۔ ٹیکس کے نام پرعام آدمی بھی کافی متاثر ہوا ہے۔آئی ایم ایف کی شرائط کی بنا پر بجلی اور گیس میں اضافے نے غریب آدمی کا کھا نا پینا مشکل کردیا ہے۔ ہسپتال میں جہاں غریب آدمی پانچ روپے کی پرچی پر اپنا علاج کروالیتا تھا اب سنا جارہا ہے کہ وہ پرچی بھی پچاس روپے کی کردی گئی ہے اسکے علاوہ ٹیسٹوںپر فیس رکھی جارہی ہے۔ محکمہ تعلیم نے کئی سالوں سے جاری پیف کے پارٹنرز کو بھی ذلیل و رسوا کرنا شروع کردیا ہے جبکہ پیف کو فنڈنگ باہر سے ہوتی ہے مگر اس کے فنڈ بھی پتہ نہیں کس کو دیے جارہے ہیں۔ داخلے ان کے بند ، پیمنٹ کئی ماہ سے ان کی نہیں دی جارہی ۔جھوٹی تسلیوں سے پارٹنرز کا دل بھلایا جارہا ہے جبکہ پنجاب بھر میں کئی لاکھ بچہ ان سکولز میں زیر تعلیم ہے جس کاثبوت حال ہی میں ہونے والے میٹرک کے نتائج ہیںجس میں کئی پیف سکولوں نے بورڈ ٹاپ کیے ۔ ہر ماہ پٹرول میں اضافے سے بھی روزمرہ کے معمولات میں اتارچڑھاؤ آتاہے جس سے غریب بندہ متاثر ہوتا ہے۔ حکومت کے پہلے سال میں ایک کارنامہ یہ بھی یاد رکھا جائے گا کہ انڈیا نے وہ کام کردیا جو قیام پاکستان سے لیکر 2018تک کسی نے نہیں کیا۔ کشمیر پر پہلی بار بھارت کی قبضہ کرنے کی ہمت اس حکومت کے دور میں ہوئی۔

حقیقت یہ ہے کہ حکومت کا پہلا سال غریب عوام کے لیے زیادہ خوشحال نہیں ہے آنے والے وقت کی پیشنگوئی کرنا ابھی مناسب نہیں کہ حالات کیا ہوتے ہیں اور عوام کو ریلیف ملتا ہے کہ نہیں ؟ ہم تو دعا ہی کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کے حالات بدلے ، عوام کو سکون ملے اور کشمیر پر ہونا والے ظلم پر امت مسلمہ اکٹھی ہوکر اس کو بھارت کے چنگل سے آزاد کرائے۔ آمین


ای پیپر