ہم قومی دشمن اور قومی بددیانت ہیں
21 اگست 2019 2019-08-21

رتجگے ہمیشہ سے دامن گیر رہے ہیں ۔ مشکل سے آنکھ لگی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی حالانکہ وقت خاصا دشوار تھا۔ کہیں سے فون آنے کی آس و امید بھی نہ تھی۔ نہ چاہتے ہوئے ہاتھ فون کی طرف دراز کر دیا۔ دیکھا تو غیر مانوس نمبرتھا۔ فون سنا تو ستائیس سال پرانا ہم جماعت بول رہا تھا۔ میرے نزدیک ہم جماعتوں کا رشتہ اتنا دیر پا اور مضبوط ہوتا ہے کہ اس پر کوئی موسم بھی اثر پذیر نہیں ہوتا۔ میں حیران تھا میں اپنے اس ہم جماعت کو 27 سال پہلے سے یاد ہوں جبکہ اتنے برسوں میں نہ کوئی ملاقات ہوئی اور نہ ہی خط کتابت اور دید کی کوئی سبیل تھی۔

فون پر چند باتیں کرنے کے بعد طے ہوا کہ ملاقات کر لی جائے اور رو برو ہو کر یادوں کو تازہ کیا جائے۔ چند دنوں کی مصروفیات کو پایۂ تکمیل تک پہنچا کر پہلی فرصت میں ہم اکٹھے ہوئے۔ اتنے عرصے کی مصروفیات کو جب زیر بحث لایا گیا تو پتا چلا کہ موصوف 20 سال سے کینیڈا میں ہیں اور باقاعدہ طور پر وہاں کی شہریت اختیار کر چکے ہیں ۔ موصوف نے سول انجینئرنگ کرنے کے بعد پہلا پڑاؤ ہی کینیڈا میں ڈالا اور ہمارے ملک کو صرف آنے جانے تک ہی محدود کر دیا۔ مجھے ان کے اس فیصلے پر انتہائی تشویش ہوئی۔ کہنے لگا کام تو کرنا پڑتا ہے اور بہت حد تک کرنا پڑتا ہے مگر حکومت اپنی عوام کی ذمہ دار ہے۔ تعلیم اور صحت کی سہولتیں اتنی بہترین ہیں کہ ہمیں اس معاملے میں کوئی فکر نہیں ہے۔ ہم بیمار ہوں ہسپتال کی گاڑی آتی ہے مریض کو لے جاتی ہے۔ جب مریض ٹھیک ہو جاتاہے تووہ آپ کے سپرد کر جائیں گے۔ لواحقین کو کوئی پریشانی نہیں۔ آپ اپنی مرضی سے سر درد کے لیے بھی کوئی ’’دوا دارو‘‘ نہیں کر سکتے۔ وہ بھی ریاست کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ شدید سردی میں آپ کے دفتر اور آپ کے گھر کا درجہ حرارت برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ قوانین کی پابندی ہے۔ بے ہنگم اور بے جا ٹریفک کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ انسانیت کا معیار اور عزت ہے۔ آپ کی انا کو ٹھیس نہیں پہنچتی ۔ آپ کے مال و جان اور عزت و عصمت کی حفاظت کی جاتی ہے۔ غیبت ، چغلی، بہتان کا رواج نہیں ہے۔ کسی پر انگلی اٹھانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ بولے جا رہا تھا اور میں ہر بات پر انگشت بدنداں ہو رہا تھا۔ مجھے اپنے ملک کے قوانین، حکومتیں، جمہوریت، سیاست اور سیاستدانوں پر کئی سوالات جنم لے رہے تھے۔ مجھے یہاں کا طبقاتی اور سماجی نظام یاد آ رہا تھا۔ مجھے عمران خان کے عوام سے کیے گئے وعدے یاد آ رہے تھے۔ مجھے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ بھی یاد آ گیا تھا۔مجھے لاہور کو پیرس بنانے کا وعدہ بھی یاد تھا۔ مجھے کراچی کو پھر سے روشنیوں کا شہر بنانا بھی یاد آ رہاتھا۔ مجھے یہ الفاظ بھی یاد آ رہے تھے کہ میں اس ملک میں کسی کو غریب نہیں رہنے دوں گی۔ مجھے ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ مکانوں کا وعدہ بھی یاد آنے لگا تھا۔ مجھے عمران خان کا یہ نعرہ بھی یاد آ گیا کہ جب بجلی، گیس اور پٹرول مہنگا ہونے لگے تو سمجھ لو حکمران چور ہے۔ مجھے عمران خان کا کنٹینر پر عوام کی غربت اور عوام کی کسمپرسی کا رونا یاد آ رہا تھا۔ مجھے عمران خان کی ریاست مدینہ والی بات بھی رہ رہ کر یاد آ رہی تھی۔ وہ میری خامشی توڑتے ہوئے بولے کیا آپ اور آپ کے عوام ٹیکس دیتے ہیں ؟ موصوف کی اس بات نے مجھے ایسے چونکا دیا جیسے میرے سر میں کسی پاگل دیوانے یا مجنوں نے دھڑام سے ’’وٹا‘‘ مارا ہو۔ میں نے یہی سوال اس سے پوچھ لیا کہ آپ اور آپ کی عوام ٹیکس دیتی ہے۔ وہ فوراً بولے ہماری عوام سو فیصد ٹیکس دیتی ہے اور سارے کے سارے لوگ انتہائی ذمہ داری اور انتہائی ایمانداری سے ٹیکس دیتے ہیں ۔ میں نے ٹیکس دہندگان کی اتنی بڑی شرح کی وجہ پوچھی تو بولے جب ہماری حکومت ہمیں پوری سہولتوں سے مزین کرتی ہے تو ہمارا بھی اولین فرض ہے کہ ہم ٹیکس دیں۔ میں نے کہا کہ ہم ملازمین اور غریب عوام ٹیکس دیتے ہیں ۔ پوچھنے لگے کیا مطلب؟ میں نے کہا ملازمین کا انکم ٹیکس ان کی تنخواہ سے کاٹ لیا جاتا ہے۔ باقی عوام بلکہ غریب عوام چائے، دال، دودھ، ڈبل روٹی، گھی، ماچس، فون، بجلی سے لے کر کفن پر ٹیکس دیتی ہے مگر بیماری کی دوائی اپنی جیب سے خریدتی ہے۔ سکولوں کی فیس خود یتی ہے، کتابیں خود لیتی ہے، ڈاکٹروں کی فیس خود دیتی ہے۔ ہمارے تاجر ٹیکس نہیں دیتے۔ ہمارے ہاں صنعت کار ٹیکس نہیں دیتے۔ ہمارے ہاں سرمایہ کار ٹیکس نہیں دیتے۔ ہمارے ہاں ملٹی نیشنل کمپنیاں ٹیکس نہیں دیتیں… ہمارے ہاں کاروباری حضرات ٹیکس نہیں دیتے بلکہ یہ سبھی ٹیکس چور ہیں ۔ میرے ہم جماعت پھر بولے ٹیکس کون دیتا ہے؟ میں نے کہا! حضور میں نے کہا تو ہے کہ غریب عوام ٹیکس دیتی ہے اور بغیر کسی سہولت کے ٹیکس دیتی ہے۔ میری یہ بات سن کر میرے دوست یک بارگی خاموش ہو گئے۔ کافی عرصہ تک ہم دونوں کے درمیان خاموشی کی دیوار تنی رہی۔ ہم دونوں میں سے کسی کے پاس اتنی سکت نہ تھی کہ اس خاموشی کو توڑ سکیں۔ اس دوران وہ کئی دفعہ پانی کے گلاس گھونٹ گھونٹ کر کے اپنے معدے میں اتار گیا۔ کچھ عرصہ بعد وہ اٹھا اور بوالا کہ آپ، آپ کی عوام ، آپ کے سرمایہ کار، آپ کے صنعتکار ، آپ کے تاجر، آپ کے وزیران و مشیران، آپ کے سیاستدان اور آپ کی گورنمنٹ قومی اور ملکی دشمن ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ سب سے بڑی قومی بددیانتی بھی ہے۔ اس نے گاڑی کی چابی لی، گاڑی چلائی منہ سے کچھ بولے بغیر ہاتھ ہلایا اور چل دیا۔ میں اس کے جانے کے بعد سوچتا رہا کہ واقعی ہم قومی دشمن اور قومی بددیانت ہیں ۔ ہم کردار کے غازی نہیں ہیں ۔ ہم صرف گفتار کے غازی ہیںہم علم لہرانا جانتے ہیں ۔ ہم علم کی قدر و قیمت سے نا آشنا اور نا شناس ہیں ۔


ای پیپر