توسیع اور کشمیربنے گا پاکستان
21 اگست 2019 2019-08-21

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ کو تین برس کی توسیع کیا ملی بھارت سمیت پاکستانی ”بھارت نواز ٹولے“ میں بھی ہاہا کار مچ گئی ہے۔ بعض حضرات فیس بک ٹویٹرپر وزیراعظم پاکستان عمران خان کی پرانی اُن ویڈیوز کو بھی دھڑا دھڑپوسٹ کررہے ہیں جن میں انٹرویو کے دوران انہوں نے کسی بھی ادارے کے سربراہ کے لیے مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت کی تھی۔

عمران خان کا اس وقت کا مو¿قف آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کل تھا۔ اداروں کی مضبوطی کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ سربراہ ادارہ کو توسیع نہ دی جائے۔ شاید عمران خان آج بھی یہی بات کریں۔ لیکن موجودہ نازک صورت حال میں جب فوج سرحدوں پر ہے، اور کشمیر کا یشو برننگ ایشو بن کر ساری دنیا کا منہ چڑھا رہا ہے۔ افغانستان سے مذاکرات کا سلسلہ انجام کو پہنچنے والا ہے ایسے ہی اچانک فوج کا سربراہ بدل دینے سے بہت سے مسائل کھڑے ہوسکتے تھے۔

عام اور سادہ سی بات ہے کہ کسی ادارے کے سربراہ کی ریٹائرمنٹ قریب آتے ہی اس کی پالیسیوں پر عمل کی رفتار سُست پڑ جاتی ہے، بلکہ آنے والے سربراہ کا اگر اعلان ہو جائے تو لوگ کام کرنے کے بجائے نئے آنے والے باس سے راہ ورسم بڑھانے میں لگ جاتے ہیں ادارے کی کارکردگی متاثر ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ ریٹائرہونے والا سربراہ کارکردگی پر باز پُرس کرے تو اس پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی اور یہ رعب اس لیے بھی ختم ہو جاتا ہے کہ سربراہ توچند ماہ کے بعد رخصت ہونے والا ہے، کیا بگاڑ سکتا ہے کسی کا۔ اگرچہ فوج کا اپنا نظام ہے پھر بھی نئے سربراہ کے آنے سے اس کی اپنی صوابدید بھی ہوتی ہے اپنی ٹیم بھی ترتیب دی جاتی ہے ہر شخص کا کام کرنے کا طریقہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، اور پھر جب ملک انتہائی نازک صورت حال سے دوچار ہو سرحدوں پر صرف تناﺅ نہ ہو بلکہ کشمیر جسے پاکستان اپنی شہ رگ قرار دیتا ہے اس کی حیثیت ختم کردی گئی ہو، کشمیریوں کو جیل جیسی زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ، ان پر ظلم وستم ڈھائے جارہے ہوں تو، پاکستانی فوج نے بھی اپنی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے کشمیری مو¿قف کی کھل کر حمایت کا فریضہ ادا کرنا ہوتا ہے ایسے میں یہ ”اگاڑ بچھاڑ“ یا تبدیلی کوئی مثبت نہیں ہونی تھی۔ وزیراعظم نے بھی علاقائی امن کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ بالکل درست کیا ہے تاکہ بھارت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر پر یہ حقیقت عیاں ہو جائے کہ پاکستانی فوج اور سول حکومت ایک صفحے پر ہیں۔ جنرل باجوہ ایک عملی سپاہی بھی ہیں پیشہ ورانہ معاملات میں خاص طورپر کشمیر اور شمال سرحدی علاقہ جات کی سکیورٹی پر مضبوط گرفت رکھنے والے سالار ہیں۔ چیف بننے سے قبل بھی یہ سارا علاقہ انہی کے کنٹرول میں رہا۔ قوم نے انہیں ہمیشہ اگلے مورچوں پر دیکھا۔ سو ”باجوہ ڈاکٹرائن“ پر عملی مظاہرے کے اہم ایام میں انہیں رخصت کرنا کوئی نیک شگون نہ ہوتا۔ ہاں اگر حالات معمول کے مطابق ہوتے تو شاید عمران خان چیف کے حوالے سے یہ فیصلہ نہ کرتے۔ بھارت جیسا مکار دشمن کشمیری مسلمانوں پر ستم ڈھارہا ہے اور کئی روز سے کشمیریوں کا جینا دوبھر کیے ہوئے ہے۔ کشمیر کا مواصلاتی رابطہ دنیا سے کٹا ہوا ہے ، نہتے کشمیریوں کو شہید کیا جارہا ہے۔ اب تو سارا مقبوضہ کشمیر جیل بن چکا ہے، علاوہ ازیں بھارت لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آزاد کشمیر اور ملحقہ سرحدی علاقوں پر حملے کررہا ہے جس سے ہمارے فوجی جوان اور عام شہری شہید ہورہے ہیں۔ ایسے میں وزیراعظم اور جنرل باجوہ نے ہرحال میں ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارت جنگ چھیڑنے کے مکمل موڈ میں ہے اب اس نے لداخ ڈیم کا پانی کھول دیا ہے جس سے پاکستان میں سیلاب کی صورت حال جنم لے چکی ہے۔ کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں اور انتظامیہ نے فوج طلب کرلی ہے۔ گویا کئی محاذوں پر فوج اپنی ذمہ داریاں نبھارہی ہے۔ ایسے میں فوج کے سربراہ کی تبدیلی سے مسائل پیدا ہوسکتے تھے۔ اس اعلان کے بعد دشمن کے ساتھ دشمن کے آلہ کاروں کو بھی ٹھنڈ پڑ گئی ہے کہ کوئی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی اور قوم فوج کے شانہ بشانہ ہے اور حکومت بھی ہرقسم کے خطرے سے نبرزآزما ہونے کو تیار ہے۔ سنجیدہ سیاسی حلقوں میں وزیراعظم کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھتا ہے اور اس کے لیے کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے ۔ ہمیں حکومت کو طعنے دینے کے بجائے اس نازک صورت حال میں فوج اور حکومت کا ساتھ دینا چاہیے، آخر میں اپنے نئے گیت کے چند اشعار کشمیر کے لیے :

تم کھول کے سن لوکان

او شیطان

کشمیر بنے گا پاکستان

کشمیر ہے پاکستان

یہ جانتا سارا جگ ہے

کشمیر اپنی شہ رگ ہے

ہم اس کے بنا بے جان

تم کھول کے سن لو کان

کشمیر ہے پاکستان


ای پیپر