کشمیر ۔۔ اب کیا ہو گا؟
21 اگست 2019 2019-08-21

کیابھارت کے زیر تسلط کشمیر میں جوکچھ ہونا تھاوہ ہو چکا یعنی بھارت کے انتہا پسند وزیراعظم نریندر مودی نے وہ عام انتخابات میں ملنے والی عدد ی اکثریت کی بنیادپر وہ شقیں ختم کر دیں جوکشمیرکو بھارتی آئین میں ایک متنازعہ علاقہ ظاہر کرتی تھیں۔ مُودی نے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ بنانے کی کوشش کی ہے اور اگر کوئی علاقہ محض آئینی ترامیم سے اٹوٹ انگ بن سکتا ہے تو نریندر مودی کامیاب رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس تنازعے میں بھارت کے علاوہ تین اہم سٹیک ہولڈرز ہیں جن میں سب سے اہم کشمیری عوام ہیں اور اسی طرح پاکستان کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا جبکہ چوتھی فریق عالمی برادری ہے، اقوام متحدہ ہے۔ بھارت کی کوشش ہے کہ وہ آئینی ترامیم کے بعد فوری طور پر مقبوضہ کشمیر میں اپنے شہریوں کی آباد کاری شروع کرے ، اطلاعات ہیں کہ ہندووں کی آبادیاں بنانے کی منصوبہ بندی ہو چکی جن کے اپنے سکول، ہسپتا ل اور بازار ہوں گے اور سکیورٹی پوائنٹ آف ویو سے سب سے پہلے ان پانچ لاکھ فوجیوں کو مقبوضہ کشمیر میںا ٓبادکاری کی سہولت فراہم کی جائے گی جو وہاں تعینات ہیں۔

بھارت سمجھ رہا ہے کہ کشمیریوں کو اسی طرح کچلا جا سکتا ہے جس طرح گولڈن ٹمپل پر حملہ کر کے، سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کا خون کر کے خالصتان کی تحریک کو کچل دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ چار کشمیریوں پر ایک فوجی کو اسلحہ دے کر کھڑا کر دیا گیا ہے مگر کیا بھارت جانتا ہے کہ اس نے وہ قیادت بھی کھو دی ہے جو کشمیر پر اس کے قبضے کو سیاسی سہارا فراہم کرتی تھی، میں فاروق عبداللہ، عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسی کٹھ پتلیوں کی بات کر رہا ہوں جو اس وقت سراپا احتجاج ہیں، پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو ترجیح دینے کی اپنی غلطی تسلیم کر رہے ہیں، دلیل دے رہے ہیں کہ اگر بھارت سب کچھ کشمیریوں کے حق اور مفاد میں کر رہا ہے تو پھر فوجی، بندوقیں، توپیں اور کرفیو کیوں ہے۔ نریندر مودی نے کشمیریوں اور ہندوستانیوں کے درمیان خلیج کو وسیع کر دیا ہے، موجودپُل کو آئینی ترمیم کے بم مار کر تباہ کر دیا ہے۔ کشمیر عملی طور پر فلسطین بننے جا رہا ہے جہاں وہاں کے رہنے والوں اور اس تنازعے کے بنیادی فریق کو اقلیت بنانے کی سازش پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔

اگر ہم عمران خان اور انہیں لانے والوں کی اندرونی سیاست میں حکمت عملی سے اختلاف بھی کرتے ہیں تو بھی ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک مشکل صورتحال کا شکار ہے۔ پاکستانی قوم اندرونی طور پر متحد نہیں ہے اور عاقبت نااندیش حکمران اس خلیج کو انتقامی کارروائیوں میں اضافہ کرتے ہوئے وسیع کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ہم سب کی مجبوری ہے کہ ہم مثبت رپورٹنگ کریں مگر کیا یہ مثبت رپورٹنگ فائدہ دیتی ہے، اکہتر کا نتیجہ بتاتا ہے کہ یہ بے فائدہ ہے، فائدہ صرف سچ کا ہے۔ یہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی کامیابی ہے کہ وہ سی پیک کی وجہ سے ناراض چین کے تعاون سے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں لے جانے میں کامیاب ہو گئے کیونکہ لداخ پر چین کے اپنے بھی مفادات ہیں اور وہ بھارتی اقدام کو اپنی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف اقدام سمجھتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہماری سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ ہم اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا ایک اجلاس کروانے میں کامیاب ہو گئے، سوا گھنٹے سے کچھ زائد کے اس اجلاس سے دو قسم کے نتیجے برآمد ہوئے۔ ہماری حکمت عملی درست رہی ہے کہ ہم نے کسی نئی قرارداد کی کامیابی اور ناکامی کا خطرہ مول لینے کے بجائے پرانی قراردادوں پر عملدرآمد کا اصولی موقف اختیار کیا ۔ چین کے مستقل مندوب کی بریفنگ کی وجہ سے ہمیں سیاسی اور اخلاقی سہارا ملا اور جو رسمی بیان سامنے آیا اس میں بھارت کے اس موقف کو مسترد کر دیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، اسے تسلیم شدہ عالمی تنازع کہا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ فریقین اس میں یک طرفہ تبدیلی نہیں کر سکتے۔یہ سب اچھی باتیں تھیں اور پاکستان کے موقف کے عین مطابق ہیں۔

اب باتوں سے آگے بڑھتے ہیں کہ عملی طور پر کیا ہوا۔ کشمیریوں اور پاکستانیوں کا موقف ہے کہ بھارت اپنے آئین میں موجود شق تین سو ستر کو بحال کرے تاکہ بھارتی آئین میں کشمیر ایک متنازعہ علاقے کے طور پر موجود رہے اور پینتیس اے کو بھی بحال کر ے تاکہ بھارتی شہری وہاں جائیدادیں نہ خرید سکیں، کاروبار نہ کر سکیں اور سرکاری ملازمتوں کا حصہ نہ بن سکیں۔ یہاں اقوام متحدہ کی وہ سکیورٹی کونسل موجود ہے جس کی غیر مستقل رکنیت کے لئے ابھی جون کے مہینے میں پاکستان نے بھارت کے حق میں ووٹ دیا ہے اور بھارت اگلے دوبرسوں کے لئے اس کا ممبر بننے جا رہا ہے۔ سلامتی کونسل کہتی ہے کہ فریقین تحمل سے کام لیں یعنی یہ وہی صورتحال ہے کہ جب گاو¿ں کے چودھری نے قتل کروا دئیے جو مولوی صاحب سے امن، تحمل ارو درگزر کی فضیلت پر خطبہ دلوا دیا، گھر میں ڈکیتی ہو گئی اور تھانے دار نے کہا کہ ڈکیتی بری شے ہے، یہ نہیں ہونی چاہئے مگر ڈکیتی کا مال واپس کیسے برآمد ہو ، ڈکیت کو سزا کیا دی جائے، اس پر تھانے دار خاموش ہے۔سلامتی کونسل کا اجلاس ایسی ہی کامیابی ہے جیسی کسی شخص کے باپ کے مرنے پر قناتیں لگنے، دیگیں کھڑکنے اور رشتے داروں کے اکٹھے ہوکر اظہار افسوس کو جشن کہہ لیا جائے،کسی کی ماں کے مرنے پر وزیراعظم کے اظہار افسوس کو کامیابی سمجھ لیا جائے۔مجھے واثق یقین ہے کہ بھارت شرپسندی سے باز نہیں آئے گا۔ آج کے دور میں اصل طاقت معاشی طاقت ہے اور پاکستان، تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے ایک برس کے بعد اپنے بدترین معاشی دور سے گزر رہا ہے۔ پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ سے صرف ایک برس میں ایک تہائی سرمایہ ختم ہو چکا، پاکستان کی سٹاک مارکیٹ نے ریورس گئیر لگا رکھا ہے، روپیہ مسلسل ڈی ویلیو ہو رہا ہے، مجموعی قومی پیداوار اور اس میں اضافے کا چارٹ نیچے گر رہا ہے اور ہمارے وزیر خارجہ کہہ چکے ہیں کہ جنگ خو د کشی ہو گی مگر بھارت ایسا نہیں سوچ رہا، وہ ایٹمی ہتھیار پہلے نہ استعمال کرنے کی پالیسی پر نظرثانی کی دھمکی دے رہا ہے اور اب اگر جنگ ہوتی ہے تو محض ٹوئیٹر پر ٹرینڈز کی نہیں ہو گی۔

کیا میںا پنے ملک و قوم کے ساتھ نہیں ہوں، یہ سوال آپ مت پوچھئے بلکہ میں خود اپنے آپ سے پوچھتا ہوں اور میرے پاس جواب یہ ہے کہ میرے پاس تو اتنے وسائل بھی نہیں کہ اس ملک سے بھاگ جاو¿ں۔ میر ا تو جینا مرنا اسی کے ساتھ ہے مگر کیا یہ ضروری ہے کہ ہم بدترین انداز میں مرنے کے لئے ہی یہاں رہیں، ہم عزت اور سہولت کے ساتھ جینے کی منصوبہ بندی کیوں نہیں کرتے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے صرف معیشت کو ہی تباہ نہیں کیا بلکہ دفاع اور خارجہ پالیسی کا بھی بھٹہ بٹھا دیا ہے اور یہ نقصان صرف حکمرانوں کا نہیں بلکہ ہر پاکستانی کا ہے۔ میں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ جیسے ہی کرفیو ختم ہو گا کشمیر میں بھارت سے ایک نہ ختم ہونے والی نفرت بھری تحریک کا آغاز ہوجائے گا۔نریندر مودی نے پاکستان کو کمزور سمجھتے ہوئے جو آگ لگائی ہے وہ پاک و ہند کے ڈیڑھ ارب شہریوں کو جلا ڈالے گی۔ میں خود کو اس بس میں محسوس کر رہا ہوں جو سامنے آتے ہوئے ٹرالر سے ٹکرانے جا رہی ہے، دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ کوئی حادثہ نہ ہو ۔


ای پیپر