Source : File Photo

مشکلات میں گھیرے ”سدھو “کی مدد کیلئے شاہدآفریدی میدان میں آگئے
21 اگست 2018 (20:40) 2018-08-21

اسلام آباد:شاہد خان آفریدی بھی نوجوت سنگھ سدھو کی حمایت میں میدان میں آ گئے۔شاہد خان آفریدی کا کہنا تھا کہ سابق بھارتی کرکٹرسدھوکووزیراعظم کی تقریب حلف برداری میں دیکھ کراچھالگا۔ امیدہے کہ نوجوت سنگھ سدھوکے اس عمل کودل سے تسلیم کیا جائیگا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کے سابق کرکٹر ،کانگریسی سیاستدان اور پنجاب کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو،وزیر اعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں بطور خاص شرکت کے لیے پاکستان آئے۔اس موقع پر پاکستانی قوم نے نوجوت سنگھ سدھو کو اتنا پیار دیا کہ وہ پاکستان کے گرویدہ ہو کر بھارت واپس لوٹے۔اس موقع پر بھارت کے انتہا پسند طبقے نے شور و واویلا سے آسمان سر پر اٹھا لیا ،یہاں تک کہ نوجوت سنگھ سدھو کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کے لیے عدالت میں درخواست بھی درج کروائی جا چکی ہے،کچھ انتہا پسند تنظیموں نے انکے سر کی قیمت بھی مقرر کر رکھی ہے۔

تاہم اس موقع پر نوجوت سنگھ سدھو کا بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوجوت سنگھ سدھو کا کہنا تھا کہ پاکستان کوئی نو مینز لینڈ نہیں، وہاں بھی لوگ رہتے ہیں ، مجھ پر تنقید کرنے والے بتائیں کہ بی جے پی کے وزیر اعظم نریندر مودی کیا نواز شریف سے صرف جپھی ڈالنے گئے تھے؟، اٹل بہاری واجپائی بھی امن کا پیغام لے کر ہی پاکستان گئے تھے،میں بھارت کا سفیر بن کر گیا تھا اور بھارت ہی میں مجھ پر تنقید ہورہی ہے،ویزا ملنے پر وزیر خارجہ سشما سوراج نے خود فون کرکے کہا کہ آپ کوپاکستان جانے کی اجازت مل گئی ہے۔نوجوت سنگھ سدھو کا مزید کہنا تھا کہ خون خرابے سے دونوں ممالک کو کیا فائدہ ہوگا ،بہتر تعلقات میں فائد ہ ہے،دونوں ملکوں میں امن ہو تو سرحد پر فوج رکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

اس حوالے سے تاحال پاکستانی شخصیات کی جانب سے شکریہ کےپیغامات بھجوائے جارہے ہیں،ایک جانب وزیراعظم عمران خان نے انکا شکریہ ادا کیا تو دوسری جانب شاہد خان آفریدی بھی سدھو کی حمایت میں سامنے آگئے۔اپنے ٹوئیٹ میں شاہد خان آفریدی نے سدھو کے اس قدم کی تعریف کی۔شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ سابق بھارتی کرکٹرسدھوکووزیراعظم کی تقریب حلف برداری میں دیکھ کراچھالگا۔ امیدہے کہ نوجوت سنگھ سدھوکےاس عمل کودل سے تسلیم کیا جائیگا۔صرف امن سے ہی دونوں ممالک ترقی کی راہ پرگامزن ہوسکتے ہیں۔انکا مزید کہنا تھا کہ اسی طرح کے اقدامات سے ہی دونوں ممالک میں کشیدگی کم ہوگی۔دونوں ممالک کواسی طرح برداشت کا پیغام پھیلانا ہوگا۔


ای پیپر