Source : Yahoo

وزیرخارجہ کا بھارت کواپنی پالیسی پرنظرثانی کامشورہ
21 اگست 2018 (20:22) 2018-08-21

ملتان: وزیرخارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی نے بھارت کواپنی پالیسی پر نظرثانی کا مشورہ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا بڑا طبقہ سمجھتا ہے کہ بھارتی پالیسی تبدیل ہونی چاہیے،سرحد کی خلاف ورزی کسی کے مفاد میں نہیں،کشمیراور پانی کامسئلہ ہم نے نہیں تو کس نے حل کرنا ہے؟

انہوں نے آج ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت عمران خان کے وڑن کولیکر آگے چلے گی۔انہوں نے کہا کہ سدھو نے جن جذبات کا اظہار کیا اسے سمجھنا چاہیے۔ حالات بدلنے کیلئے جرات چاہیے ہوتی ہے۔ سدھو نے جرات کا مظاہرہ کیا۔ ہر معاشرے میں تنگ نظر لوگ ہوتے ہیں۔ جو خوف میں مبتلا ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ مثبت میں بھی منفی پہلو تلاش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنا کردار ادا کررہا ہے۔

بھارت کی بھی ذمہ داری ہے۔ کشمیر کا مسئلہ کس کو دیکھنا ہے،کس کی ذمے داری ہے؟ پورے برصغیر میں پانی کا بحران جنم لے رہا ہے۔پانی کے مسئلے پرمل بیٹھ کر حل تلاش نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سرحد کی خلاف ورزی کسی کے مفاد میں نہیں۔ ایل او سی پرسیز فائر برقرار رہنا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ جارحانہ گفتگو کرنے والے بتائیں مذاکرات کیلئے کوئی اور راستہ ہے؟ ہمیں پسماندگی اور غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔

امن و استحکام خطے کے مفاد میں ہے۔ لیڈر راستہ تلاش کرتا ہے،ہمیں مسائل کا حل نکالنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو اپنی جارحانہ پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ بھارتی جارحانہ پالیسی سے نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ بھارت کا بڑا طبقہ سمجھتا ہے کہ بھارت کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کی لمبی تاریخ ہے۔ امریکا اور پاکستان ایک دوسرے کے بہت قریب رہے ہیں۔ پاک امریکا تعلقات میں اتار چڑھاو رہا ہے۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکا کیساتھ اعتماد کی خلیج دور کرنا دونوں کے مفاد میں ہے۔ امریکا کوجن چیلنجز کا سامنا ہے اس کیلئے پاکستان اہم ملک ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں جو کچھ ہوا وہ قابل مذمت ہے۔ افغانستان میں ہونے والے واقعے کی تفصیلات جمع کررہے ہیں۔


ای پیپر