میٹھی جیل(قسط 1)

21 اگست 2018

شاہزاد انور فاروقی

وفاقی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب کے ساتھ ہی حکومت سازی کا عمل مکمل ہو گیا ہے ۔ا ب نو منتخب حکومت کو اپنی ترجیحات اور حکمت عملی کی تیاری اور ان پر عمل درآمد کے لیے اختیار کئے گئے راستے اور طریقہ کار کا جائزہ لیے بغیر ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کو نامناسب سمجھتے ہوئے پہلے سو دن حکومتی فیصلوں اور سیاست پر نہ لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران امریکا یاترا اور وہاں مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حوالے سے تاثرات آپ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، آج اس سلسلہ کی پہلی قسط آپ کی خدمت میں ہے۔

کسی ایکشن ہالی ووڈفلم کی طرح ہوائی جہاز کے ارد گردبجلیاں چمک رہی تھیں،جیسے ہی جہاز تیز بارش کے دوران کالے بادلوں سے گزر کر نیچے جانے کی کوشش کرتا تو جہاز کو زور دار جھٹکے لگتے اور جہاز کے مسافروں کی زبانوں پر بے اختیار کلمہ طیبہ اور درود پاک جاری ہوجاتا، یہ تاریخ تھی دس اگست دوہزار پندرہ اوررات کے دو بج کر تیس منٹ ہوچکے تھے ۔یہ اتحاد ائیرویز کی فلائٹ ای وائی ۱۰۰تھی جس کے تمام مسافر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے بے نظیر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر جہاز کے اترنے کے منتظر تھے جہاز اپنے مقررہ وقت کے مطابق اسلام آبادائرپورٹ کے اوپر پہنچ چکا تھا لیکن طوفانی بارش اور بادلوں کے ٹکرانے سے پیدا ہونے والی گڑگڑاہٹ اور تیز بجلیاں جہاز کی لینڈنگ میں حائل ہوگئیں، جہاز کے کپتان نے ایک مرتبہ پھر چکر لگاکر لینڈنگ اپروچ پر آتے ہوئے اپنی بلندی کم کرنے کی کوشش کی لیکن بادلوں سے ٹکراتے ہی جہاز ایک مرتبہ پھر زوردار جھٹکوں کی زد میں آگیا ،جہاز کے اندر خواتین کی چیخیں اور عمر رسیدہ مسافروں کی زبان پر دعائیہ کلمات ایک ساتھ جاری ہوئے۔ ایسے میں پرواز کی خاتون میزبان کی پبلک اناونسمنٹ سسٹم پر آواز بلند ہوئی © بیلیو ،سجنو تے مترو اسیں اسلام آباد ائیر پورٹ دی حدود وچ پہنچ گئے آں پر موسم دی خرابی دے کارن یاتریاں نو نرودن اے کہ او اپنی اپنی سیٹ تے بیٹھے رہین تے پیٹی نا کھولن۔
اس پرواز کے ساتھ اتحادائیرلائن کا یہ مذاق پسند نہیں آیا کہ جس وقت لوگوں کی جان پر بنی ہوئی تھی اور لوگ کلمہ پڑھ رہے تھے ایسی پرواز کے لئے کسی سکھنی یا ہندو میزبان کا انتخاب کیا گیا جو تقریبا پچانوے فیصد سے زائد پاکستانی مسلمان مسافروں پر مشتمل تھی ۔ نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ پر بھی اتحاد ائیر ویز کے بھارتی اور متعصب بنگالی عملے نے تین پاکستانی مسافروں کے جاری شدہ بورڈنگ کارڈ انہیں بتائے بغیر دھوکہ دہی سے تبدیل کردئیے تھے، امارات اور عرب برادر ممالک کو جب بھی خطرات درپیش ہوئے انہوں نے مدد کے لئے پاکستان کو ہی پکارا اور پاکستان کے مفاد پرست حکمرانوں نے کبھی بھی اپنے ملک اور عوام کے لئے ان ممالک سے کوئی آبرومندانہ معاملہ نہیں کیا جس کے باعث ہمیں ہمیشہ ہی کرائے کے جنگجو یا دیسی زبان میں بھاڑے کے ٹٹو سے زیادہ نہیں سمجھا گیا۔ ویسے بھی جب اپنی قومی ائیرلائن کو ہم نے ہی اس قابل نہیں چھوڑا کہ دوسرے لوگ تو کیا خود پاکستانی بھی اس سے سفر کریں تو کیسی شکایت اور کس سے گلہ ۔ ماضی میں اس قومی ادارے کومن پسند افراد کوبھاری تنخواہوں پر نوکریوں سے نوازنے ،سیاسی تعلقات کے باعث غیر ممالک میں پوسٹنگ،غیر ضروری پرزہ جات کی خریداری میں کمیشن بنانے اور پھر انہیں بیکار قرار دے کر مقامی مارکیٹ میں سستے داموں اپنے ہی لوگوں کو بیچنے کے لئے ہی استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔مسلم لیگ(ن) کی میرٹ پسند حکومت نے بھی پی آئی اے کی صورتحال کو سدھارنے کے لئے اپنی جلاوطنی کے معاہدے میں ایک کردار ادا کرنے والی جس شخصیت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اس نے بھی دو چارمہینے پہلے اسلام آباد کے مہنگے ترین کاروباری علاقے بلیو ایریا میں ایک پورا پلازہ خرید لیا ہے ۔مجھے اس بات سے غرض نہیں کہ اس خریداری کے لئے اس کے پاس پیسے کہاں سے آئے بلکہ تکلیف یہ ہے کہ طے شدہ اصول ہے کہ حکومت اور اداروں کو چلانے کے لئے منتخب افراد دنیا بھر میں اپنے کاروبار نہیں کرتے یہ صرف ہماری قسمت ہے یا چوائس کہ ایسے نابغے ہمارے ہی حصے میں آتے ہیں۔فلائٹ اسلام آباد ائیرپورٹ کے اوپر چکر لگاتی رہی اور بادلوں کے درمیان چمکتی بجلی میں جہاز کے اندر اسلامی کلمات اور غیر اسلامی اناونسمنٹ کے مقابلے پر مسافروں کے تبصرے بھی جاری رہے۔آخر تین گھنٹے بعدجہاز کے کپتان نے فیول کی صورتحال کے پیش نظر کنٹرول ٹاور سے متبادل ائیر پورٹ پر جانے کی اجازت طلب کی جس پر اسے لاہور ائیرپورٹ جانے کی ہدائت کی گئی اور جہاز نے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد راولپنڈی کی فضاوں میں چکر لگانے کے بعد لاہور کا رخ کیا۔ پانچ دس منٹ کے بعد جہاز کے کپتان نے مسافروں کو مطلع کیا کہ لاہور ائیرپورٹ نے اس جہاز کے لئے لینڈنگ اور پارکنگ کی جگہ میسر نہ ہونے کی خبر دی ہے جس کے باعث اب یہ جہاز سیالکوٹ کی جانب موڑا جارہاہے۔صبح کی سپیدی نمودارہوچکی تھی اور جب جہاز لینڈکررہاتھا تو سیالکوٹ ائیرپورٹ کے اردگرد کے کھیتوںکے مناظردھندلے دھندلے سے دکھائی پڑرہے تھے کہ ایک ہلکے سے جھٹکے کے ساتھ جہاز کے پہیوں نے بالاخرپاکستانی سرزمین کو چھو لیا ۔اب یہ جہاز جو امریکہ ،برطانیہ اور یورپ سے آنے والے مسافروں کےلئے پاکستان کی کنیکٹ فلائٹ تھی کو ایک طویل انتظار کرنا تھا جس میں نہ صرف جہاز کی ری فیولنگ ہونا تھی بلکہ اسے اسلام آباد ائیرپورٹ کی جانب سے موسم سازگار ہونے کی اطلاع کا بھی منتظررہنا تھا۔ چند مسافر جو زمین پر پہنچنے کے بعد بے صبری سے سگریٹ پینے کے خواہشمند تھے ،اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے کہ وہ اب مزید انتظار نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن جہاز کے عملے نے انہیں مطلع کیا کہ وہ نیچے نہیں اتر سکتے کیونکہ یہاں پر انہیں امیگریشن کی سہولت نہیں مل سکتی اور وہ کسی مسافر کے پاکستانی سرزمین پربھی کھسک لینے کا خطر مول لینے کے لئے تیار نہ تھے۔ (جاری ہے)

مزیدخبریں