Dr Zahid Munir Amir, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
21 اپریل 2021 (11:31) 2021-04-21

 سورج کا طلوع مشرق سے ہوتا ہے لیکن اس کی فطرت مشرق و مغرب کی قیدسے آزاد ہے۔اقبالؒ بھی ایک ایسے معاشرے کے قیام کے خواہاں ہیں جو انسانیت کی بناپراستوارہو۔وہ ایک عالم گیر انسانی معاشرے کے قیام کی بات کرتے ہیں جس کی  بنا بقائے باہم اور بنی نوع کی محبت پر استوار ہو۔ایک عالمگیر انسانی معاشرہ وطنیت کے محدود تصور سے بلند تر ہوتا ہے۔وہ تاریخ میں عالمی معاشرے کے قیام کے لیے ماضی میں کی گئی کوششوں پر تنقیدی نگاہ ڈالتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یونانیوں اور رومیوں نے دنیا کوایک وحدت بنانے کی کوشش کی تھی لیکن یہ کوشش دوسروں کوفتح کرکے ان پر اپنی حکومت قائم کرنے کی صورت میں تھی جس کا نتیجہ دنیا کو معلوم ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ وطنیت کا رائج تصور اقوم جہاں میں رقابت کے جذبے کو ترقی دینے والا ہے جس سے ایک قوم دوسری پرغالب آنے کی فکر میں غلطاں رہتی ہے نتیجۃًانسانیت صداقت کے جوہر سے محروم ہوتی ہے کمزوروں کی شامت آتی ہے خلق خدا تقسیم ہوتی ہے ان خرابیوںکو چھپانے کے لیے حب وطن کے تصور کا سہارا لیا جاسکتا ہے لیکن اقبال کے نزدیک حب وطن کی یہ صورت بھی پسندیدہ نہیں ان کے خیال میں وطنیت کا یہ جدید تصور ماضی کی بت پرستی سے مختلف نہیں ہے انھوںنے اپنی ڈائری Stray Reflections میں ایک جگہ لکھا ہے :

What is patriotism but a subtle form of idolatry; a deification of material object.The patriotic songs of various nations will bear me out in my calling patriotism a deification of a material object. Stray ReflectionsP26

اقبال کے یہ خیالات ان کے اشعار میں بھی جابجا بکھرے پڑے ہیں :

 پاک ہے گرد وطن سے  سر داماں  تیرا

تو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیرا

اقبال نے یہ بھی واضح کیاہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق انسان ایک وحدت ہے جسے روح اور مادے کی دوئی میں تقسیم نہیں کرنا چاہیے انھوںنے کہا ہے میرے عقیدے کی رو سے خدا اور کائنات روح اور مادہ کلیسا اور ریاست ایک کل کے مختلف اجزا ہیں انسان کسی ناپاک دنیاکا باشندہ نہیں ہے جسے کسی ایسی دنیاکی خاطر ترک کردے جو کہیں اور واقع ہے۔دنیا کے برے ہونے کے تصور نے انسانوں کوزندگی کی جدوجہد سے دور کیا تھااور ترک دنیا اور رہبانیت کے تصورات نے جنم لیا تھا یہ اسلام تھا جس نے انسان سے کہا کہ دنیا بنفسہ اچھی یا بری نہیں بلکہ انسان کا عمل اسے اچھا یا برا بناتا ہے گویا یہ دنیاانسان کو میدان عمل فراہم کرتی ہے۔اور اس تصور سے اعلیٰ اخلاقی قدریں جنم لیتی ہیں بصورتِ دیگر کسی اخلاقی نطام کی ضرورت ہے نہ دنیا کو سنوارنے کی ۔

اعلیٰ اخلاقی اقدار کی اسا س پر استوار ہونے والا معاشرہ ہی زندگی کو حسین بناسکتاہے ۔اسی نطام میں کمزوروں کو ان کے حقوق مل سکتے ہیں وہ طبقے جو عددی اعتبار سے کم ہیں انھیں بھی وہی حقوق حاصل ہونے چاہییں جو برتر قوموں کو حاصل ہیں…ایک زندہ و متحرک مفکر کی حیثیت سے عالمی مسائل پر گہری بصیرت افروز نگاہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اقبال اپنے خطے کے مسائل سے بھی بے تعلق نہیں رہے تھے بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے اپنے ملک ہندوستان کی صدی پر پھیلی ہوئی غلامی نے انھیں استعماری طاقتوں کے رویوں اور غلام قوموں کی درماندگیوں کو زیادہ سمجھنے کا موقع فراہم کیا تھا۔بیسویں صدی میں غلام ہندوستان کا مسئلہ یہ تھا کہ انیسویں صدی میں مسلم اقتدار کے زوال کے بعد یہاں برطانوی حکومت حکمران ہو چکی تھی اور ہندوستان ایک کثیرقو می خطہ ہونے کے باعث مختلف قوموں اور مذاہب کی آماجگاہ تھایہاں کی دو بڑی قومیں مسلمان اور ہندو تھے …مسلمانوں نے صدیوں تک ہندوستان پر حکمرانی کی تھی لیکن اپنی کشادہ قلبی کے باعث اپنی تعداد بڑھانے کے لیے کبھی اپنی ہم وطن قوموں کو تبدیلی مذہب پر مجبور نہیں کیا تھاچنانچہ صدیوں تک ہندوستان پر حکمرانی کرنے کے باوجود وہ ہندوستان میں عددی اعتبار سے اقلیت میں تھے برصغیر پر برطانوی اقتدار مکمل ہوجانے کے بعدمسلمانان ہند نے اپنی کھوئی ہوئی آزادی کے حصول کی کوشش کی ۔اس سفر میں ان کی اوّلین ترجیح اپنے ہم وطنوں کے ساتھ مل کر ہندوستان سے انگریزوں کا انخلا تھااور اوّل اوّل تمام مسلمان  قیادت یہی عزم لے کر میدان میں اتری تھی ۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان پر یہ واضح ہوتا گیا کہ ان کے ہم وطن نہ صرف یہ کہ ان کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں بلکہ انگریزوں کے ہندوستان سے رخصت ہوجانے کے بعد انھیں اپنا غلام بنانے کا عزم بھی رکھتے ہیں چنانچہ رفتہ رفتہ مسلم قیادت نے ایک الگ وطن کے قیام کو اپنا نصب العین قرار دیا جس میں مسلمان اپنے مذہب اور تہذیب کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں۔

اقبال نے اس نظریے کی صورت گری کی اور انھوںنے مسلم لیگ کے اکیسویں سالانہ اجلاس ۲۹/دسمبر ۱۹۳۰ء  منعقدہ الہ آبادمیں مسلمانانِ بر صغیر کے لیے ایک الگ ریاست کامطالبہ پیش کیاانھوںنے واضح کیا کہ ہر گروہ کویہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی تہذیبی روایات کے مطابق آزادی کے ساتھ ترقی کرے۔  یہ اصول کہ ہر گروہ اپنے عقیدے کے مطابق آزادانہ ترقی کرنے کا حق رکھتا ہے تنگ نظرانہ فرقہ پرستی کے جذبے پر مبنی نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں قوموں کی خود مختاری کے بغیر بین الاقوامی ریاست کا قیام مشکل ہے اس لیے ہر قوم کو 

مکمل تمدنی آزادی کی ضرورت ہے جس کے بغیر ایک ہم آہنگ قوم کی تشکیل مشکل ہے ،یہی تمدن ہے ۔ فرقہ پرستی کی بھی کئی صورتیں ہیں جو فرقہ دوسروں کی طر ف بدخواہی کے جذبات رکھتا ہووہ نیچ اور ذلیل ہے ۔میں دوسری قوموں کے رسوم قوانین ،معاشرتی اور مذہبی اداروں کا بے حد احترام کرتاہوں، یہی نہیں بلکہ قرآن پاک کی تعلیمات کے مطابق ضرورت پڑے تو ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت بھی میرا فرض ہے۔

 انھوںنے کہا کہ ہندوستان چھوٹا ایشیا ہے اور اس کے مسائل کا حل ایشیا کے مسائل کے حل کی کلید ہے اور یہ کہ مسلمان ایک الگ ریاست کامطالبہ حکومت ِہند پر دبائو ڈالنے کے لیے نہیں بلکہ آزادانہ ترقی کے لیے کررہے ہیں جو اس قسم کی وحدانی حکومت میں ممکن نہیں جس کا تصور قوم پرست ہندو سیاستدانوں کے ذہن میں ہے اور جس کا مقصد پورے ہندوستان پر مستقل فرقہ وارانہ غلبہ ہے۔ ان کے نزدیک ہر گروہ اپنے عقیدے کے مطابق آزادانہ ترقی کا حق رکھتا ہے ، ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنااور اسے اپنے طریقے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دینا ہی امن کا راستہ ہے۔ اقبال  کے نزدیک بنی نوع انسان کو ایک بین الاقوامی ریاست کے قیام کی ضرورت ہے لیکن یہ بین الاقوامی ریاست قوموںمیں خود مختاری کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ایسا امن جس میں ہندوستان کی مختلف قوموں کو اپنے ماضی سے رشتہ منقطع کیے بغیرجدید اصولوں پر آزادانہ ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔اقبال نے ہندوستانی مسلمانوں کے چند در چند مسائل کا تجزیہ پیش کیا ان میں ان کا معاشی مسئلہ بھی شامل تھا جس میں وہ غیر معمولی افلاس اور استحصال کا شکار تھے انھوںنے واضح طور پر کہا کہ گزشتہ دوسوسال سے مسلمانوں کی معاشی حالت مسلسل گرتی جارہی ہے اس کا سبب اقبال کے خیال میں ان کی غلامی ہی تھی اور وہ اس سوال پر غور کررہے تھے کہ مسلمانوں کو اس افلاس سے کیونکر نجات دلائی جاسکتی ہے اپنے طویل غور و خوض کے بعد وہ جس نتیجے پر پہنچے وہ یہ تھا کہ:خوش قسمتی سے اسلامی قانون کے نفاذمیں اس مسئلہ کا حل موجود ہے اور فقہ اسلامی کا مطالعہ مقتضیات حاضرہ کے پیش ِنظر دوسرے مسائل کا حل بھی پیش کرسکتا ہے انھوںنے کہا کہ شریعتِ اسلامیہ کے طویل و عمیق مطالعے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اسلامی قانون کو معقول طریقے پر نافذکیا جائے تو ہر شخص کو کم از کم معمولی معاش کی طرف سے اطمینان ہوسکتا ہے…سالہا سال سے میرا یہ عقیدہ رہا ہے او رمیں اب بھی اسے ہی مسلمانوں کے افلاس اور ہندوستان کے امن کا بہترین حل سمجھتا ہوں …‘‘ اس کے ساتھ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر اس طریقے کو اختیار نہ کیا گیا تو ملک خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا کیونکہ روٹی کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں کہ کوئی قوم اس پر زیادہ دیر تک صبر کرسکے ۔

لیکن اقبال کے نزدیک ایک الگ ریاست صرف روٹی کے مسئلے کے حل کے لیے ضروری نہیں تھی بلکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان میں حل طلب مسئلہ صرف معاشی مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی اکثریت کی نگاہ میں ہندوستان میں تہذیب اسلامی کا مستقبل اگر معاشی مسئلہ سے زیادہ اہم نہیں تو اس سے کسی طرح کم اہمیت کا حامل بھی نہیں ہے۔اس کے ساتھ اقبال یہ بھی سمجھتے تھے کہ غلامی نے روح مشرق کو کچل ڈالا ہے اقبال کے خیال میں ہندوستان کی سیاسی غلامی پورے ایشیا کے لیے لامتناہی مصائب کا سرچشمہ تھی جس نے نہ صرف روحِ مشرق کو کچلا بلکہ افراد قوم کو اظہار ذات کی اس مسرت سے بھی محروم کردیا جس نے کبھی ایک شاندار تمدن کو جنم دیا تھااس لیے وہ ا پنے مخاطب کو ایشیا کی جانب سے ان پر عاید ہونے والے فرض کو یاد دلاتے ہیںاور کہتے ہیں کہ ایشیا کی جانب سے عاید ہونے والے فرض کو ہم پوری طرح اس وقت تک ادا نہیں کر سکتے  جب تک ہم خود کو منظم نہ کرلیں اورہندوستان میں سات کروڑ مسلمانوں کی موجودگی ایک قیمتی سرمایہ ہے، یہ سرمایہ ایشیا کے مستقبل کو پر امن بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔کیونکہ امن باہمی اشتراک سے ممکن ہوتا ہے نہ کہ دوسروں کے وجود کا انکار کرنے سے ؟وہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان جو ایک تاریخی عمل کی وجہ سے صدیوں تک مصائب کا شکار رہا ہے اس کے مسائل کے حل کے لیے بھی وہاں بسنے والی قوموں کو ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا ہوگایہی امن کا راستہ ہے ۔اس لیے جماعتیں ایک دوسرے کی نفی کے رویے کو اپنانے کی بجائے باہمی اشتراک کی راہ اپنائیں اس کے ساتھ ساتھ ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام سے وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہندوستان میں قوت کا توازن پیدا ہوگا جو بالآخر قیامِ امن پر منتج ہوسکتا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ ہندوستان میں ایک الگ مسلم ریاست اسلام کے تصور ریاست کو ظہور میں لانے کا بھی ایک ذریعہ بن سکتی ہے اورہندوستان میں ایک ایسی ریاست خود اسلام کو اس بات کا موقع فراہم کرے گی کہ وہ خود کو ان اثرات سے آزاد کرسکے جو جو عربی شہنشاہیت (Arabic Imperialism)نے اس پر ڈال دیے تھے اور اپنے قوانین اپنی تعلیم اور اپنی ثقافت کو حرکت میں لاکران کی اصل روح اور عصر جدیدکی روح سے رابطہ قائم کرسکے۔ 

ان شواہد کی بنا پر اقبال کو ایک الگ مسلم ریاست کے قیام کا اتنا یقین تھا کہ انھوںنے بڑے اعتماد سیکہا کہ ’’مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ کم از کم ہندوستان کے شمال مغرب میں ایک مربوط مسلم ریاست خواہ یہ ریاست سلطنت برطانیہ کے اندر حکومتِ خود اختیاری حاصل کرے یا اس کے باہر ہندوستان کے شمال مغربی مسلمانوں کا آخر مقدر ہے۔ہندوستان کے سیاسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے برطانوی حکومت کی جانب سے متعدد تجاویز دی گئیں سائمن کمیشن کی رپورٹ بھی ان میں سے ایک تھی اقبال کا بنیادی نکتہ جنوبی ایشیامیں مسلمانوں کے جداگانہ سیاسی وجود کو تسلیم کروانے کا تھا اور انھوں نے مسلمانوںسے خطاب کرتے ہوئے انھیںیہ نصیحت کی تھی کہ وہ کسی ایسی تجویز کو تسلیم نہ کریں جو ان کے جداگانہ سیاسی وجود کو تسلیم نہ کرتی ہو۔   

جنوبی ایشیاکے مسلمانوں نے بالآخر ۱۴/اگست ۱۹۴۷ء کو اس منزل کو پالیالیکن آج کے عالمی تناظر میں  فکرِاقبال کی اساس پر بننے والی اس مملکت کے جواز پر سوال اٹھائے جارہے ہیں ان سوالات کا سبب وہ عصری صورت حال ہے جس کا آج پاکستان کو سامنا ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اہل ِپاکستان کا مقدمہ انصاف کی نگاہ سے دیکھااورسنا جائے ۔پاکستان کا قیام جن اسباب سے عمل میں آیا ان کا ذکر سابقہ سطور میں کیا گیا یہ ایک قوم کی شناخت کا سوال تھا قوموں کی شناخت کا سفر صدیوں میں طے ہوتا ہے یہ صدیوں کا سفرہے اور اس کے لیے صدیوں کی قربانیاں  درکار ہوتی ہیں ۔ابھی پاکستان کے قیام پر ایک صدی کا عرصہ بھی نہیں بیتا ا س لیے اس تجربے کی کامیابی یاناکامی کا فیصلہ سنانے کے لیے یہ مناسب وقت نہیں ہے اہل پاکستان اپنی بقا کے سوال کا سامنا کررہے ہیں۔انھوںنے نامساعد حالات اور کم مدت میں کچھ ایسے رجال کار پیدا کیے ہیں جن پر کوئی قوم فخر کرسکتی ہے وہ تخلیقی صلاحیت رکھنے والے لوگ ہیں ۔وہ ایک ایسے عالمی معاشرے کے قیام پر یقین رکھتے ہیں جو بقائے باہم کی بنا پر استوار ہو اور جس میں اسلام کے تصور اخوت کی شان پائی جاتی ہویہی وجہ ہے کہدنیا میں جہاں کہیں بھی ظلم ہوتا ہے اہل پاکستان کے دل مظلوموں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔پاکستان میں تخلیق ہونے والے ادب کو اس ضمن میں ثبوت کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے ۔جس میں ہیروشیما سے ناگاساکی تک ،ویت نام سے اریٹیریا تک ،فلسطین سے  بوسنیا اور چیچنیا تک اور افغانستان سے  عراق تک کے انسانوں کے دکھ کو زبان دی گئی ہے۔پاکستان محض ایک جغرافیائی خطے کانام نہیں بلکہ یہ ایک نظریے کا نام ہے یہ نظریہ کیا ہے اسے بھی اقبال ہی کے الفاط میں بیان کرنا مناسب ہوگا :  

The essential difference between the Muslim Community and other Communities of the world consists in our peculiar conception of nationality. It is not the unity of language or country or the identity of economic interest that constitutes the basic principle of our nationality. It is because we all believe in a certain view of the universe, and participate in the same historical tradition that we are members of the society founded by the Prophet of Islam) Islam abhors all material limitations, and bases its nationality on a purely abstract idea, objectified in a potentially expansive group of concrete personalities. It is not dependent for its life-principle on the character and genuins of a particular people, in its essence it is non-temporal, non-spatial.

اور یہی ہمارے اس مضمون کا خلاصہ بھی ہے۔


ای پیپر