Hameed Ullah Bhatti, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
21 اپریل 2021 (11:27) 2021-04-21

وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ افغانستان سے انخلا کا مقصد چین پر توجہ دینا ہے یہ اصل میںکئی دہائیوں سے امریکی پالیسی ہے کہ محاذآرائی کے لیے کسی طاقتور ملک کا انتخاب کرتا ہے لیکن سزا ہمیشہ کسی کمزور ملک کو دیتا ہے روس سے سرد جنگ کے بعداب چین پر نظر اسی سوچ کا شاخسانہ ہے مگر سزاکے لیے ویت نام ،افغانستان ،عراق اور لیبیا کا انتخاب کیا محاذ کی تلاش دنیا میں بالاتر پوزیشن قائم رکھنے کے لیے کی جاتی ہے لیکن اِس پالیسی سے اسلحے کی دوڑ میں اضافہ ہوا ہے اور دنیا بارود کا ڈھیر بن گئی ہے لیکن تنازعات بڑھانا بھی اُس کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

 دوحہ معاہدے کی رو سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکم مئی 2021تک افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کا اعلان کیا تھا مگرقیادت کی تبدیلی کے ساتھ امریکی موقف بھی تبدیل ہوگیاہے اوراب فوجی انخلا کی تاریخ گیارہ ستمبر کر دی گئی ہے مئی یا ستمبر میں کچھ زیادہ فرق نہیں فرق یہ ہے امریکہ سیاسی استحکام کا بند وبست کیے بغیر جس کے پاس جتنا علاقہ ہے اسی پوزیشن میں افغانستان کو چھوڑنا چاہتا ہے جس سے افغان امن دوبارہ کھٹائی میں جا سکتا ہے نو گیارہ کی تاریخ کے انتخاب سے امریکی سوچ کا پتہ چلتا ہے تنازعات میں گھراچھوڑنا خطے کو بدامنی کے حوالے کرنے کے مترادف ہے اور امریکہ کی طرف سے معاہدے سے انحراف سے پیداہونے والی پریشان کُن صورتحال کے اثرات وچیلنج طویل عرصہ بدامنی کاباعث بن سکتے ہیں عین ممکن ہے کہ وعدوں سے انحراف کی بنا پر افغان مسلے کے فریقین میں اختلافات کی خلیج میں اضافہ ہو جائے کیونکہ دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی طالبان خوشدلی سے تسلیم نہیں کریں گے فوری خدشہ تو یہ ہے کہ 24 اپریل کو ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت سے انکار کرسکتے ہیں مزید براں انخلا کی تاریخ میں توسیع پر اگر رضامند نہیں ہوتے تو اِس کا امکان بڑھ جائے گا کہ وہ اتحادی افواج کے خلاف ازسر نو کارروائیوں کا آغاز کر دیں کیونکہ طالبان رہنما وعدوں کی عدم پاسداری پر ناخوش ہیں ۔

1979میںروس کے آنے سے افغانستان مسلسل بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے جس سے پاکستان بھی متاثر ہورہا ہے افغانوں نے کسی بھی حملہ آور کو خوشدلی سے قبول نہیں کیا بلکہ آزادی وخودمختاری کے لیے ان گنت قربانیاں دی ہیں لاکھوں لوگ جان سے گئے اور کئی ملین گھر بار چھوڑکر ہمسایہ ممالک میںپناہ لینے پر مجبور ہوئے مگر شکست تسلیم نہیں کی اب 

تو یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ امریکی حملہ قطعی بلاجواز تھا اور یہ چڑھائی عراق کو جوہری طاقت سے بازرکھنے جیسی جھوٹی اور بے بنیاد اطلاعات سے مماثل ہے مگر بات یہ ہے کہ کسی ملک میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ امریکہ سے جواب طلبی کی جسارت کر سکے نومنتخب امریکی قیادت کوتباہ حال معیشت کا احساس کرتے ہوئے غیر ضروری محاذ کھولنے سے گریز کرنا چاہیے لیکن صورتحال کا ادراک کرنے کے بجائے اُس نے چین سے مخاصمت بڑھانے کی راہ منتخب کی ہے جس سے امریکہ کے لیے تو خطرات نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن خطہ عدم استحکام سے دوچار ہو سکتا ہے۔

افغان سرزمین کے فرزندگان طالبان کوئی درآمدی قوت نہیں اسی لیے بیس برس میں اتحادی افواج بیخ کنی نہیں کر سکیں لیکن امریکہ کو یہ عیاں حقیقت سمجھنے میں طویل عرصہ لگا اب بھی صاف چھپتے نہیں سامنے آتے بھی نہیں کے مصداق سازشوں کے تانے بانے بُن کر خرابی کے بیج بوئے جارہے ہیںانخلا سے قبل بھارتی کردار کے لیے یقین دہانی کی تمنا اسی سلسلے کی کڑی ہے افغان حکومت میں شامل کچھ کوتاہ اندیش بھی امریکی خواہشات کی تکمیل کے لیے اپنے ملک کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنا چاہتے ہیں یہ لوگ اصل میں افغانستان سے مخلص نہیں بلکہ بھارتی راتب خوری کا قرض چکا رہے ہیں تبھی پاکستان جیسے ہمسایہ ملک پر بھارت کو ترجیح دیتے ہیں حالانکہ چینی کہاوت ہے کہ گھر میں لگی آگ دور کے پانی سے بجھائی نہیں جا سکتی ۔چارملین مہاجرین کو پناہ دینے ،ہزاروں جانیں قربان کرنے اور کھربوں کی املاک کی تباہی کے باوجود پاکستان ہمیشہ افغان مسئلہ کاحل افغانوں کی منشا کے مطابق تلاش کرنے کا داعی ہے لیکن حامد کرزئی سے لیکر اشرف غنی جیسی کٹھ پتلیاں اِس کا اعتراف کرنے سے ہمیشہ پہلو تہی کرتی ہیں اب اگر امریکہ دوحہ معاہدے سے انحراف کرتے ہوئے افغانستان کو ترک افواج کے حوالے کرکے نکلتا ہے تو یہ خطرناک منصوبہ ترکی اور پاکستان کی تباہ ہوتی معیشت لیے مزید نقصان دہ ہو گا۔

برائون یونیورسٹی کے واٹسن انسٹیٹیوٹ اور بوسٹن یونیورسٹی کے پارڈی سنٹر نے ،کاسٹ آف وار پراجیکٹ ،کے تحت ہونے افغان جنگ میںوالے نقصانات سے پردہ سرکایا ہے جس کے مطابق اِس جنگ میں 2001سے لیکر اب تک امریکہ بائیس کھرب ساٹھ لاکھ ڈالر جھونک چکا ہے اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کے باوجود کامیابی کے کوئی آثار نہیں طالبان کی طرح نصف صدی قبل ویت نامیوں نے بھی امریکہ کو اپنے وطن سے زلیل و رسواکرکے نکالاجس سے اُس نے اتنا سبق حاصل کیا ہے کہ روزبروز زوال پذیر معیشت جنگ جاری رکھنے کی متحمل نہیں اسی طرح مزید محاذ کی تمنا کسی طورسود مند نہیں کسی کوکردار دینے کی یقین دہانی لیتے ہوئے افغانوں کو جنگ کا یندھن بنا نا غلط حکمتِ عملی ہے بہتر یہی ہے کہ بہت ہو گیا اب ضد نہ کریں۔

دنیا کوانسانی حقوق کے درس دینے والے امریکہ نے لاکھوں زندگیوں کے چراغ گُل کر دیے ہیں امریکی اِداروں نے تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 2لاکھ 41ہزار ہے جن میں سے 71ہزار 344عام شہری،2442امریکی فوجی،78ہزار 314افغان سکیورٹی اہلکار اور 84ہزار191 وہ جنگجو ہیں جو اتحادی اور افغان افواج سے لڑائی کے دوران مارے گئے بو سٹن یو نیورسٹی کی پروفیسر کیتھرین لِٹز نے مالی و جانی نقصان کو اخراجات کا محض ایک حصہ قراردیتے ہوئے جنگ کے جلد خاتمے کو منطقی اور انسانی حل قراردیا ہے لیکن حالات شاہد ہیں کہ امریکہ علاقائی مفادات کی بنا پر جنگ کے خاتمے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے اور چین کے ساتھ تنازعات بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے کئی حصے مزید ہولناک ہیں رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ہلاک و زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد چھبیس ہزار سے زائد ہے 2005سے لیکر 2019کے دوران لڑائی سے دورکا بھی واسطہ نہ رکھنے والے پانچ بچے روزانہ ہلاک یا زخمی ہوتے رہے اسی بناپر افغانستان کو دنیا بھر میں بچوں کے حوالے سے سب سے خطرناک ترین ملک ہونے کا درجہ حاصل ہے سیو دی چلڈرن نامی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق 2017 اور 2019 میں تین صد کے قریب سکولوں پر حملوں کے دوران 410طالب علموں کو ہلاک یا زخمی کیاگیا ظلم تو یہ ہے کہ افغانوں کا نائن الیون کے حملوں سے براہ راست کوئی تعلق نہ تھا افغانستان میں مقیم اسامہ بن لادن کوحملوں کامنصوبہ ساز قراردیکر حوالگی پر بضد تورہالیکن حوالے کرنے کی شرائط یا طریقہ کار طے کرنے کے لیے بات چیت کی زحمت تک نہ کی اور حملوں کے ٹھیک ایک ماہ بعد فضائی حملوں کے ذریعے بم برسانے شروع کر دیے دوحہ معاہدے کے بعد امریکہ کو آبرومندانہ انخلا کا وقت مل رہا ہے تو امریکیوں کو ہٹ دھرمی یا ضد نہیں کرنی چاہیے اور نئے محاذ کی تلاش میں دنیا کے امن کو دائوپر لگانے سے گریز کرنا چاہیے اگر چین کا بطور نئے محاذ کا انتخاب کرنے کے بعد خطے میں چین کے حمایتی کسی کمزور ملک پر چڑھائی کی جاتی ہے تو روس کی طرح چین شاید ہی خاموش رہے۔


ای پیپر