Ali Imran Junior, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
21 اپریل 2021 (11:24) 2021-04-21

دوستو،رمضان المبارک کا جس دن چاند نظر آیا، اس روز ایک سروے ہماری نظر سے گزرا، پتہ نہیں کن وجوہات کی بنا پر ہم اسے فوری طور پر آپ سے شیئر نہ کرسکے، ابھی دوبارہ یاد آئی تو آپ سے شیئر کررہے ہیں۔ الحمد للہ۔۔ جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے تو اس وقت تک آٹھواں روزہ ہوگا۔۔کراچی تو شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے لیکن لاہور سمیت کئی بڑے شہروں میں رمضان المبارک کے دوران بھی بارشیں ہوئی ہیں۔۔ جس سے روزے ٹھنڈے ہوگئے ۔۔ کراچی میں رمضان کا اپنا ہی مزہ ہے۔۔ گھر سے زیادہ اچھی اور بہترین افطار باہر سڑک پر آپ کو ملے گی۔۔ مغرب کے وقت اگر آپ سڑک پر سفر کررہے ہوں تو ہر اسٹاپ پر روزہ کھلوانے والے آپ کو زبردستی روک روک کر روزہ کھلوانے کی کوشش کریں گے۔۔ افطار کے ساتھ ساتھ ٹھنڈا ٹھار شربت پلائیں گے۔۔

تو ہم بات کررہے تھے، رمضان کے آغاز سے قبل ہونے والے ایک سروے کی۔۔ سروے میں بتایاگیا کہ 55فیصد پاکستانیوں نے افطاری میں فروٹ چاٹ کو سب سے زیادہ پسندیدہ قرار دیا،پکوڑے 52 فیصد، سموسمہ رول 24 فیصد کی پسند نظر آئے،افطاری میں پانی کے بعد 47فیصد نے لال شربت کو پیاس بجھانے کے لئے پسند کیا۔افطاری میں55فیصد پاکستانیوں نے فروٹ چاٹ کو سب سے زیادہ پسندیدہ کہا۔ پکوڑے 52 فیصد کے ساتھ پسندیدگی میں دوسرے نمبر پر نظر آئے۔ 24 فیصد نے سموسمہ رول، 17 فیصد نے چٹنی، 16 فیصد نے دہی بھلے یا دہی بڑے، 6 فیصد نے کیچپ،، 5 فیصدنے کھجور، 4 فیصد نے پاپڑ، 4 فیصد نے چنا چاٹ،4فیصد نے صرف چنے اور 2فیصدنے جلیبی کو افطاری میں پسندیدہ کہا۔ 2 فیصد نے افطاری میں کھانا کھانے کا بتایا۔سحری میں سالن سب سے پسندیدہ غذا، 67فیصد پاکستانیوں نے روزانہ قرآن کی تلاوت کا کہا، یہ بات پلس کنسلٹنٹ کے سروے میں سامنے آئی جس میں 2 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے اپنی آراء کا اظہار کیا۔پلس کنسلٹنٹ کے تازہ ترین سروے میں پاکستانیوں کی اکثریت یعنی 95 فیصد نے رمضان میں روزے رکھنے کے لئے تیار ہونے کا کہا۔ 95 فیصد میں سے 76 فیصد نے تمام روزے رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ سروے میں پاکستانیوں نے سحری اور افطاری سے متعلق اپنی پسندیدہ ڈش کا بھی اظہار کیا۔ پلس کنسلٹنٹ نے یہ سروے ملک بھر سے شماریاتی طور پر منتخب 2 ہزار سے زائد افراد سے کیا۔ یہ سروے 5 اپریل سے 10 اپریل 2021 کے درمیان کیا گیا (رمضان میں روزہ رکھنے کے سوال پر 95 فیصد نے روزے رکھنے کے لئے تیار ہونے کا کہا۔ 95 فیصد میں سے 76 فیصد نے مکمل روزے رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ 15 فیصد نے مختلف وجوہات کے باعث کبھی کبھار جبکہ 4 فیصد نے جمعہ کے روزے رکھنے کا ارادہ ہونے کا کہا۔ جن افراد نے روزے رکھنے کا بتایا اس میں سے 29 فیصد نے 7 سے 10سال کی عمر سے روزے رکھنے کا کہا۔ 32 فیصد نے 11 سے 13سا ل کی عمر سے، 15فیصد نے 14 سے 17 سال، جبکہ 4 فیصد نے 18 سے 23سال کی عمر سے روزیرکھنے کا کہا۔20 فیصد نے کہا کہ انہیں یاد نہیں کہ وہ کب سے روزے رکھ رہے ہیں۔سروے میں جن افراد کے گھر میں 8 سے 14 سال کی عمر کے بچے تھے اس میں سے 56 فیصد نے کہاکہ ان کے گھر میں 8 سے 14 سال کی عمر کے بچے بھی روزے رکھتے ہیں۔رمضان میں پاکستانیوں کی اکثریت یعنی 67 فیصد نے روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا بھی کہا۔ 11 فیصد نے صرف جمعہ کے دن، جبکہ 12 فیصد نے ہفتے میں دو سے تین دفعہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا کہا۔ جن افراد نے سروے میں قران کی تلاوت کرنے کا کہا۔ اس میں 64 فیصد نے رمضان میں قرآن مکمل پڑھنے کا کہا۔22 فیصدنے رمضان میں دو دفعہ قرآن مجید پڑھنے کا بتایا۔ جبکہ 13 فیصد نے ایک سے کم اور 1فیصد نے تین یا اس سے زائد مرتبہ قرآن پڑھنے کاکہا۔تراویح کے سوال پر 36 فیصد پاکستانیوں نے پورے رمضان تراویح پڑھنے کا بتایا۔ 13 فیصد نے 5 روزہ تراویح،جبکہ 10 فیصد نے 10 روزہ تراویح رمضان میں پڑھنے کا بتایا۔ 19 فیصد نے کبھی کبھار تراویح پڑھنے کا کہا۔ اس سوال پر کہ اس سال تراویح کس جگہ پڑھنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟سروے میں شامل 63 فیصد پاکستانیوں نے مسجد میں جاکر تراویح پڑھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ 14 فیصد نے کہا انہیں جتنا قرآن یاد ہے وہ اتنا خود پڑھیں گے، 11 فیصد نے حافظ قرآن کو گھر میں بلا کر تراویح پڑھنے کا کہا۔ جبکہ 3 فیصد نے پڑوسی کے گھر جاکر تراویح پڑھنے کا ارادہ بتایا۔ 9 فیصد نے اس بارے میں فی الحال کوئی فیصلہ نہ کرنے کا کہا۔افطاری اور سحری میں پاکستانیوں کا پسندیدہ کھانا؟سحری میں پاکستانیوں کے پسندیدہ کھانے کے سوال پر 72 فیصد نے سالن کے دسترخوان پر ہونے کوضروری کہا۔50 فیصد نے روٹی جبکہ 48 فیصد نے پراٹھوں کو سحری میں پسندیدہ کہا۔

گزشتہ روز مغر ب کی نماز کے بعد مسجد کے صحن میں باباجی کو پریشان سا دیکھا، وہ بے چینی سے ادھر سے ادھر ٹہل رہے تھے، ان کی آنکھیں کسی کو تلاش کررہی تھیں۔ہم قریب گئے، سلام کیا، باباجی نے ایسے نظرانداز کیا جیسے پنجاب حکومت نے ٹی ایل پی والوں کو نظر انداز کررکھا ہے۔۔ ہم نے بڑے ہی ہمدردرانہ انداز میں باباجی سے پوچھا۔۔ خیر تو ہے، کیا تلاش کررہے ہیں؟ وہ بڑے معصومانہ انداز میں کہنے لگے۔ یار ۔۔3 پکوڑے اور 1 سموسہ پلیٹ میں چھوڑ کر نماز پڑنے گیا تھا اب مل ہی نہیں رہے۔۔ویسے باباجی کا بھی جواب نہیں۔۔ اب بھلا ، رمضان المبارک میں عین افطار کے وقت کوئی اتنی قیمتی چیزیں کھلی چھوڑ کر جائے گا تو واپسی پر ملیں گی کیا؟؟ ہم نے باباجی کو دلاسہ دیا، چھوڑیں ، چلیں آپ کو بازار سے دلوادیتے ہیں۔۔ باباجی بھی اتنے سیانے نکلے خاموشی سے ہمارے ساتھ مسجد کے مرکزی دروازے کی جانب چل پڑے۔۔ یعنی ان کی خاموشی میں رضامندی شامل تھی۔۔ باباجی فرماتے ہیں۔۔ افطاری پر بلانے سے رزق اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔۔لیکن ہمیں حیرت ہے کہ آج تک باباجی نے ہم سے کبھی ایسی محبت جتائی نہیں۔۔ہمیں تو حیرت ڈھول والے پر بھی ہوتی ہے جو روزانہ کراچی میں ایسی قوم کو سحری جگانے کے لئے ڈھول بجاکر جگانے نکل پڑتے ہیں جو قوم سوتی ہی فجر کے بعد ہے۔۔باباجی کا ہی فرمان عالی شان ہے کہ ۔۔جہاں عزت نہ ہو وہاں کبھی نہیں جانا چاہئے۔۔ بندہ پوچھے کہ اب گھر بھی نہ جائیں تو کہاں جائیں۔۔؟؟

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔تاج محل اگر پاکستان میں ہوتا تو اس میں چندے کا ڈبا بھی ہوتا،ایک عدد گدی نشین بھی ہوتا اور ہرسال،شاہ جہاں کا عرس بھی ہوتا۔۔ سوچئے گا ضرور۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر