Dr Azhar Waheed, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
21 اپریل 2021 (11:19) 2021-04-21

ناموسِ رسالتؐ اور ختم ِ نبوتؐ ایسے اہم اور حساس موضوعات ‘ معاملاتِ ایمان میں سے ہیں، اِن پر کوئی کلمہ گو سمجھوتہ کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ہمارے ایمان کی عمارت ہی آقائے دو جہاں رحمۃ اللعالمینﷺ سے غیر مشروط وابستگی اور محبت پر قائم ہے۔ آقائے دوجہاں‘ باعث ِ کون و مکاں کا فرمانِ عالیشان ہے‘ تم میں سے کسی شخص کا ایمان اُس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا‘ جب تک میں اُس کے نزدیک اُس کی جان ، مال اور اولاد‘ حتیٰ کہ ہر چیزسے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ اَز رُوئے قرآن‘ سورہ آلِ عمران‘ اللہ رب العالمین نے اپنی محبت ‘اپنے محبوبؐکی اطاعت سے مشروط کردی ہے۔ یہ طے ہے کہ ایک مسلمان کے ایمان کی بنیاد ہی حب ِ رسولؐ او ر اطاعتِ رسولؐ پر قائم ہے۔ایمان… معرفت ِ خداوندی کی ایک نوری کرن ہے‘ جودل سے کلمہ پڑھنے والے کے قلب میں نافذ کر دی جاتی ہے، اور یہ عطائے خداوندی ہے۔

دل کا حال دل میں رہنے والا بہتر جانتا ہے۔ مومن کا دل عرش اللہ ہے۔علیم بالذاتِ الصدور بس وہی ایک ذات ہے‘ جو وحدہ‘ لاشریک ہے۔ کسی انسان کے لیے رَوا نہیںکہ وہ دوسروں کے دِل کی ٹوہ لے ، اُس کی نیت پر شک کرے ، اور اپنے شک پر یقین کرتے ہوئے اُس کے بارے میں منافق ، مشرک ، کافر یا گستاخ ہونے کا فتویٰ صادر کرے۔ سیرت ِ طیبہ میں ایک واقعہ ملتا ہے ‘ ایک جنگ میں حضرت خالد بن ولیدؓ اپنے مقابل کی طرف بڑھے تووہ تلوار پھینک کر ایک درخت کی آڑ لے کرکھڑا ہو گیا اور کلمہ پڑھنے لگا۔ اُسے قتل کر دیا گیا۔ اِس واقعے کی خبر بارگاہِ رسالت مآب ؐ میں پہنچی، آپؐ نے پرسش کی تو سپہ سالار نے جواب دیا کہ وہ کافر اپنی جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھ رہا تھا۔ اِس پر رسولِ رحمتؐ نے جلال کے عالَم میں فرمایا‘کیا تُو نے اُس کا دِل چیر کر دیکھ لیا تھا؟کیا تُو نے اُس کا دِل چیر کر دیکھ لیا تھا؟کیا تُو نے اُس کا دِل چیر کر دیکھ لیا تھا؟ عربی میں تین بار ایک ہی بات دہرانے کامطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ بات بے حد شدت اور اہمیت کی حامل ہے۔ اَزاں بعد‘ آپؐ نے آسمان کی طرف چہرۂ مبارک کرتے ہوئے فرمایا ‘ یارب! گواہ رہنا‘ خالدؓ نے جو کیا ‘میں اِس سے بری الذمہ ہوں۔ سیرت کے ہرواقعے سے فکر و عمل کی راہیں متعین ہوتی ہے۔ اِس سے سبق یہ ملتا ہے کہ مقابل میں آنے والا کافر بھی اگر کلمہ پڑھ لے تو ہمیں اُس کے ایمان پر شک کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ آج حال یہ ہے کہ مسلمان‘ مسلمان ہی کے کلمے پر شک کر رہا ہے اور اُسے مزید’ مسلمان‘ بنانے کے لیے‘ یعنی اپنے جیسا بنانے کے لیے گروہ دَر گروہ تقسیم ہو چکا ہے۔ 

دین ِ اسلام اَزخود ایک جماعت ہے، یہ جمعیت المسلمین ہے، اِس جماعت میں شامل سب لوگ خدائے وحدہ‘ لاشریک پر ایمان لاتے ہیں،خدا کے فرستادہ انبیا و رُسل پر ایمان لاتے ہیں ، رحمت ِ عالم 

محمدعربی ﷺ کو خاتم النّبیین تسلیم کرتے ہیں، آپؐ ہی کی تعلیمات کو اپنے لیے راہِ نجات مانتے ہیںاور آپﷺ کی حرمت و ناموس پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے حاصل ِ ایمان تصور کرتے ہیں۔ دین ِ اسلام‘ دین ِ فطرت ہے، فطرت میں اختلاف عین فطری عمل ہے۔ ایک ہی مقصد کے حصول کے لیے دو مسلمان بھائیوں کی رائے ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتی ہے۔ اگر نیتوں میںاِخلاص ہو، اگر ذاتی مفاد اور مزاج راہ میں حائل نہ ہوتو یہ اختلاف باعث ِ رحمت ہو سکتا ہے۔ اختلاف ِ رائے سے ایک سے زیادہ اِمکانات سامنے آتے ہیں ، کام کرنے کے لیے ایک سے زیادہ آپشن مل جاتے ہیں ۔ اختلافِ رائے رحمت کے بجائے زحمت بن جاتا ہے‘ جب ہم دوسروں کی رائے کا احترام کھو دیتے ہیں۔اختلاف برائے اتفاق ہونا چاہیے۔ اختلاف اُس وقت افتراق اور پھر اختراق میں بدل جاتا ہے‘ جب ایک فرد یا گروہ اپنی رائے دوسروں پر مسلط کردے، خود کو ہر حال میں حق پر فائق و فائز اور دوسرے کو باطل تصور کرے… خود کو اللہ ،رسولﷺاور اُمت کے درمیان خود کو حائل کر دے ، جو اُس کی رائے سے اختلاف کرے‘ اُسے بزورِ طاقت گھائل کردے۔ دوسروں کو زخمی کرنے کی طاقت ‘صرف تیر و تفنگ میں نہیں ہوتی بلکہ یہ الفاظ اور لب و لہجے کی کاٹ میں بھی ہو سکتی ہے۔ مجھے یہ مان لینا چاہیے کہ جس طرح میں اپنے نبی ؐ کا اُمتی ہو ں، اپنے نبیؐ سے محبت کرتا ہوں ‘ مجھ سے اختلاف ِ رائے رکھنے والا بھی ویسا ہی اُمتی ہے… ممکن ہے‘ وہ مجھ سے زیادہ مقبول ِ بارگاہ ہو!! اُس بارگاہِ حسنِ دو عالمؐ میں اگر محبت کے دعوے کی دلیل حسن ِ عمل کی صورت میں طلب کر لی گئی‘ تو میرے دعوے او رنعرے میرے ہی خلاف گواہ بن کر کھڑے ہوجائیں گے!

آمدم برسرِ مطلب ! اِس عاجز فقیر کا سوال ہے‘اربابِ حل و عقد اور صاحبانِ علم و فضل کی خدمت میں… کیا دین میں دینی جماعتوں کی گنجائش موجود ہے؟ کیا ایک فردِ واحد یا کسی ایک جماعت کوپوری اُمت کے لیے حجت قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا کسی فرد یا مکتب ِ فکرسے اِختلاف کو دین سے انحراف تصور کیا جا سکتا ہے؟ کیا دینی جماعتیں سیاسی جماعتوں کا کردار کر سکتی ہیں؟ کیا کوئی سیاسی جماعت اپنے جھنڈے پر کلمہ لکھ سکتی ہے؟اِسلام زندہ باد کا نعرہ درج کر سکتی ہے؟ اِسلام ، کلمہ ، رب ، رسولﷺ سب کا سانجھا ہے، کوئی ایک جماعت اُسے اپنے نام سے کیسے پیٹنٹ کرا سکتی ہے؟ سیاست کے جواب میں سیاست اور کھیل کے جواب میں کھیل ہی بھلا لگتا ہے۔ دو ٹیمیں بیڈ منٹن کھیل رہی ہوں اور ایک ٹیم اپنے کھیل کا نام’ اِسلامی بیڈمنٹن‘ رکھ لے، اب مقابل ٹیم اپنے مقابل کے’’ اسلامی شٹل کاک‘‘ کواپنے لرزتے ہاتھوں سے کس طرح شاٹ لگائے؟ اُس پر توہین ِ اسلام کا مقدمہ درج ہو جائے گا۔ مرشدی واصف علی واصفؒ نے ایک واقعہ سنایا، واقعہ یوں ہے کہ درویشوں کی ایک محفل میں دولوگ کسی علمی معاملے پر بحث کر رہے تھے، ایک کے پاس دلائل ختم ہو گئے‘ وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا‘ دیکھو! اب میں اسے کیسے خاموش کراتا ہوں۔یہ کہہ کر اُس نے کان پر ہاتھ رکھے اور قرآن کی تلاوت شروع کر دی۔ ظاہر ہے‘ قرآن کی تلاوت کے سامنے سب کو خاموش ہونا پڑا۔ یہ فاؤل پلے ہے۔ ایک شخص اسٹیڈیم میں قرآن لے جائے اور میچ کے دوران میں تلاوت کرنے لگے تو یہ قرآن کی خدمت نہیں ‘ بلکہ قرآن کی توہین ہے۔ اُس نے قرآن کی تلاوت کے آداب کو ملحوظ نہیں رکھا۔ اُس نے ایسی جگہ منتخب کی جہاں ہنگامہ ہے ، شور و غوغا ہے۔ تلاوتِ قرآن کا مقصد شعور پیدا کرنا ہے… اور شعور‘ شور ختم ہونے کے بعد پیدا ہوتا ہے… اپنے اندر کا شور!! یہ طے ہے کہ متقی ہوئے بغیر قرآن سے بھی ہدایت نہیں ملتی۔ اپنے اندر کا شور ہی باہر شورش پیدا کرتا ہے۔جذبات کے گھوڑے پر سوار ہونے والے شہسوار نہیں کہلاتے۔ اسلام کو غیر مسلموں سے زیادہ شاید مسلمانوں سے خطرہ ہے۔ دین ِ فطرت کو غیر فطری سوچ رکھنے والوں سے زبردست خطرہ ہے۔ حضرت واصف علی واصفؒ دعا کیا کرتے ‘ یااللہ ! اسلام کو مسلمانوں سے بچا۔ اِس دَورِ پُرفتن میں آپؒ کا قول یاد آرہا ہے’’ مسلمان‘ مسلمان کے خلاف جہاد نہیں‘ فساد کرتا ہے‘‘۔ 

 کہتے ہیں ‘ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے، بچے کتنے ہی شریر ہوجائیں ‘ماں اپنے بچوں پر گولی نہیں چلاتی۔ دانشمند ی کاتقاضا ہے کہ شرارت اور بغاوت میں فرق کیا جائے۔ تشدد کے جواب میں تشدد کا طریقہ درست نہیں۔ کسی کا غلط کام ہمارے غلط اقدام کی توجیہہ نہیں بن سکتا۔ مرشدی حضرت واصف علی واصف کا قول ہے’’طاقت کا استعمال خوف پیدا کرتا ہے ، خوف نفرت پیدا کرتا ہے ، نفرت بغاوت پیدا کرتی ہے اور بغاوت طاقت کو کچل دیتی ہے‘‘

 1980ء میں شائع ہونے والی کتاب ’’دل دریا سمندر‘‘ کا انتساب آپؒ نے یوں لکھا’’ مقدس ایام کو متنازع بنانے والوں کے نام… بڑے افسوس کے ساتھ!‘‘ دَورِ حاضر میں لوگ اَیام کے ساتھ ساتھ مقدس نام اور کام کو بھی متنازع بنا رہے ہیں۔ ایک یہی تو نام رہ گیا تھا…صدافسوس ! لوگ اپنی سیاسی اور مسلکی وابستگیوں میں اُلجھ کراِس مقدس نام کو متنازع بنا رہے ہیں۔ مجھے ڈر ہے‘ ہم سے یہ مقدس نام کہیں چھین نہ لیا جائے! کہیں ایسا نہ ہو کہ مذہبی فسطایت اور ملوکیت سے نجات کا راستہ بے دین سیکولر معاشرے میں ڈھونڈ لیا جائے۔ یااللہ! ہمیں معاف کر دے ! تجھے رمضان کے اِن مقدس ایام ہی کا واسطہ !ہماری توبہ قبول کر لے ، ہم تیرے مجرم ہیں ، ہم تیرے محبوبؐ کے نام سے وفا نہیں کر سکے۔ کیا حزب اقتدار اور کیا حزب ِ اختلاف ، کیا دینی اور کیا سیاسی جماعتیں ‘ اِس مقدمے میں سب برابر کے مجرم ہیں، اور مہر بلب مصلحت کوش دانشور سب سے بڑے مجرم ! میرے مرشد کہتے ہیں’’ درویش مصلحت اندیش نہیں ہوتا!!‘‘


ای پیپر