Syed Sardar Ahmad Pirzada, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
21 اپریل 2021 (11:16) 2021-04-21

یونانی فلسفی سقراط کے شاگرد افلاطون کی کتاب ’’دی ریپبلک‘‘ انصاف، انصاف پر مبنی فلاحی ریاست اور منصف کے بنیادی فلسفے پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب تقریباً چارسو برس قبل مسیح میں تحریر کی گئی لیکن آج بھی ڈھائی ہزار برس بعد اپنے موضوع کے اعتبار سے ریاست کے فلسفے کی کتابوں میں ایک بنیادی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ دی ریپبلک میں سقراط ایک موقع پر اپنے ہم عصر دوست فلسفی پولی مارکسس کے ساتھ منصف اور اُس کے فیصلوں کے حوالے سے ڈائیلاگ کرتا ہے۔ آیئے انصاف اور منصف کی تشریح کے حوالے سے دو فلسفیوں کے سوال جواب کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔ ’’سقراط۔ یہ فرمائیے کہ منصف کی شرکت کس موقع پر زیادہ کارآمد اور مفید ثابت ہوگی؟ پولی مارکسس۔ روپیہ اور مال کے لین دین کے معاملے میں۔ سقراط۔ اچھا! ایسا ہے تو یہ بتائیے کہ غالباً روپے پیسے کے استعمال کے معاملے میں تو ایسے شخص کی شرکت بالکل مفید نہیں کیونکہ اگر ایک گھوڑے کی خریدو فروخت کا مسئلہ درپیش ہوتو ایسی صورت میں کس کا مشورہ زیادہ مفید ہوگا، ایک منصف شخص کا یا ایک ایسے آدمی کا جو گھوڑوں کے حوالے سے اچھی معلومات رکھتا ہو؟ پولی مارکسس۔ بیشک گھوڑوں کا ماہر ہی زیادہ مفید ہوگا۔ سقراط۔ اور اگر کوئی جہاز خریدنا ہوتو غالباً ایک ملاح یا جہازراں زیادہ مفید ہوگا۔ پولی مارکسس۔ بیشک۔ سقراط۔ تو روپے پیسے کا وہ کون سا معاملہ ہے جس میں ایک منصف شخص زیادہ مفید ثابت ہوگا؟ پولی مارکسس۔ جب آپ کو اپنا روپیہ یا مال حفاظت کے ساتھ رکھوانا ہو یعنی منصف امانت دار ہو۔ سقراط۔ یعنی بہ الفاظ دیگر جب روپیہ بیکار پڑا رہے اور کام میں نہ آئے۔ پولی مارکسس۔ جی ہاں۔ سقراط۔ اچھا تو یوں کہنا درست ہوگا کہ انصاف اُس وقت کارآمد ہوتا ہے جب نقدومال کو بیکار رکھنا ہو۔ 

پولی مارکسس۔ اور کیا، نتیجہ تو یہی نکلتا ہے۔ سقراط۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اگر آپ ایک آلہ باغبانی کو منصف یا امانت دار کے پاس حفاظت سے مگر بیکار رکھوانا چاہتے ہیں اُس وقت تو منصف کی ضرورت ہوگی ورنہ اگر استعمال کا خیال ہوتو ایسی حالت میں فن باغبانی کا ماہر مالی زیادہ مفید اور کارآمد ہوگا۔ پولی مارکسس۔ ظاہر ہے۔ سقراط۔ اسی طرح اگر آپ ایک تلوار یا ایک رُباب کو بیکار رکھنا چاہیں اُس وقت تو منصف مفید ہے ورنہ فنون سپہ گری کا ماہر یا فن موسیقی کا ماہر زیادہ مفید ہوگا۔ پولی مارکسس۔ بیشک۔ سقراط۔ گویا آپ کے نزدیک منصف اُس وقت مفید ہوتا ہے جب اشیاء بیکار ہوں اور اگر ان چیزوں کو استعمال میں لانا ہو اور کارآمد بنانا ہوتو منصف کارآمد نہیں رہتا اور بیکار ہو جاتا ہے۔ پولی مارکسس۔ اور کیا۔ سقراط۔ پھر منصف تو کچھ ایسی کارآمد اور مفید چیز نہ ہوئی ناں۔ اچھا چلئے ایک اور بات بتائیے۔ اگر کوئی شخص اپنے دشمن پر عمدگی سے وار کرسکتا ہے تو اُسے جوابی وار کی توقع بھی رکھنا ہو گی۔ پولی مارکسس۔ بلاشبہ۔ سقراط۔ اور جو شخص امراض سے محفوظ رہنے اور ان کا علاج کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں وہی امراض پھیلانے کی بھی پوری صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ پولی مارکسس۔ جی ہاں۔ سقراط۔ جو شخص چوری چھپے دشمن کے مکانات پر حملہ کرسکے اُسے اپنے مکان کی فکر بھی کرنا ہو گی۔ پولی مارکسس۔ جی ہاں۔ سقراط۔ یعنی کسی چیز کا عمدہ محافظ یا امانت دار اُس چیز کا شاطر اور چالاک چور بھی ہوسکتا ہے۔ پولی مارکسس۔ جی ہاں اور کیا؟ سقراط۔ یعنی جو شخص مال کا اچھا محافظ ہوسکتا ہے اُس میں اُس مال کو چرانے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔ پولی مارکسس۔ نتیجہ تو یہی نکلتا ہے۔ سقراط۔ تو اس تمام گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ منصف شخص انصاف کا چور بھی ہوسکتا ہے۔ غالباً آپ نے یہ سبق یونانی شاعر ہومر، جوکہ دنیا کا پہلا شاعر تھا جو تقریباً آٹھ سو برس قبل مسیح میں ہو گزرا ہے اور بصارت سے محروم تھا، سے سیکھا ہے کیونکہ شاعر ہومر اپنے چاہنے اور خوشامد کرنے والے کی خامی کو بھی تعریف کے انداز میں بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ چوری کرنے اور جھوٹ بولنے میں اپنے تمام ہم وطنوں سے بہتر اور بے مثل تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہومر کی طرح آپ کی رائے میں بھی انصاف ایک قسم کا چوری کرنے کا فن ہوسکتا ہے۔ یعنی آپ حضرات کے نزدیک انصاف کا مطلب ہرحالت میں دوستوں کو نفع اور دشمنوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ کیوں آپ کا یہی مطلب تو ہے؟ پولی مارکسس۔ نہیں میرا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا۔ نہ جانے گفتگو کے دوران میں کیا کہہ گیا‘‘۔ پاکستان کی عدالتی ہسٹری میں بھی کئی ایسے فیصلے مشہور ہوچکے ہیں جنہیں اُس وقت تو بہت سراہا گیا اور انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق کہا گیا لیکن وقت گزرنے کے بعد جب ہسٹری نے ثابت کیا کہ مذکورہ فیصلے صرف دوستوں کو فائدہ پہنچانے اور دشمنوں کو نقصان پہنچانے کے لیے تھے تو اُن فیصلوں کو عدالتی تاریخ کے لیے ایک شرمندگی گردانا گیا۔ بالکل ایسے ہی جیسے ساری بحث اور وقت گزر جانے کے بعد جب سقراط نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے آخر میں پولی مارکسس سے پوچھا کہ ’’انصاف سے آپ کی مراد یہ ہے کہ دوستوں کو نفع اور دشمنوں کو نقصان پہنچایا جائے‘‘ تو پولی مارکسس لاجواب ہوا اور گھبرا کر کہنے لگا ’’نہیں میرا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا، میں گفتگو میں نہ جانے کیا کہہ گیا‘‘۔ گزشتہ دنوں شہباز شریف کی ضمانت کے حوالے سے متنازع معاملہ عدالتی ہسٹری کا ایک نیا انوکھا واقعہ ہے۔ کیا کچھ عرصے بعد عدالتی ہسٹری میں یہ پھر لکھا جائے گا کہ نہیں ہمارا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا؟ اور کیا پھر سقراط کے اِس سوال کی بازگشت دوبارہ سنائی دے سکتی ہے کہ منصف شخص انصاف کا چور بھی ہوسکتا ہے؟


ای پیپر