انصاف کی آرزو
21 اپریل 2020 (20:06) 2020-04-21

ظالم کو انجام تک پہنچتااور مظلوم کو انصاف ملتا ہم اپنی زندگی میں دیکھ سکیں گے یا نہیں؟ اہم عہدوں پر براجمان نا اہل،راشی اورکام چور وں نے انصاف کے حوالے سے خوش فہمیاں دورکرنے اور مایوسی پھیلانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ۔ اللہ کے گھر میں دیر ہوسکتی ہے اندھیر نہیں ۔ کسی روز بے آواز لاٹھی حرکت میں آئے گی اور تاج اُچھالے جائیں گے خاک نشین مٹی کا رزق بن رہے ہیں مگر انصاف کی ہلکی سی رمق تک نظر نہیں آرہی مگر بقولِ شاعر مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی کا نظارہ کب ہوگا؟ نگاہیں منتظر ہیں۔

خطہ یونان کہلانے والے گجرات کے شمال مغرب میں کنجاہ نام کا قدیم قصبہ ہے جہاں آج بھی جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا قانون رائج ہے ایک طرف اکیسویں صدی میں گلوبل ویلج کہلانے والی دنیاکی زندگی بہت آرام دہ ہے مگر کنجاہ میں زندگی بددستوربوجھ ہے یہاں سرمایہ داروں کا کسی کی عزت سے کھیلنا،روندنا اور پھر موت کے گھاٹ اُتاردینا معمول ہے کئی حکومتیں آئیں گئیں مگر یہاں کے روزوشب میں تبدیلی نہیں آئی۔

کنجاہ کی فجر اکبر 22 مارچ کو گھر سے دن دیہاڑے اُٹھا لی جاتی ہے جسے رسیوں میں جکڑ کرنشے میں دھت یاسرعرفات صراف،مٹھوجھور سمیت کئی افراد جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیتے ہیں مقتولہ کی چیخیں سبھی سُنتے ہیں مگر مظلوم خاندان کو انصاف دلانے کے لیے کوئی گواہی دینے نہیں آتا انصاف کی آرزو لیکر لڑکی کا والد ایف آئی آر کے اندراج کے لیے مارامارپھرتا ہے کیونکہ ملزمان بااثر اور دولت وطاقت رکھتے ہیںاِس لیے مظلوم بیٹی کے قتل پرانصاف نہیںہوتا ایک کاغذ پر ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوتی باپ فریاد لیکر ڈی پی او توصیف حیدرکے حضور پیش ہوتا ہے لیکن وہاں بھی شنوائی نہیں ہوتی بلکہ بڑی بے اعتنائی سے درخواست ایس پی انویسٹی گیشن کو بھیج کر معاملہ رفع دفع کرنے کی تلقین کردی جاتی ہے مظلوم باپ باربار انصاف کی اپیل کرتا ہے لیکن پتھر وں پر بھی بھلا اثر ہوتا ہے؟ تھک ہار کر وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تاکہ انصاف نہیں بھی ملتا تو مقدمہ ہی درج ہو جائے ۔

قاتل ٹولہ ڈراتا اور پورے مظلوم خاندان کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے جو پولیس کے علم میں لائی جاتی ہیں اور جو مرگئی وہ تو مرگئی بقیہ مظلوم خاندان کو تحفظ دینے کی اپیلیں کی جاتی ہیں لیکن لاحاصل ۔آخر کار مظلوم لڑکی کا باپ جان بچانے کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن غلام مصطفی گیلانی کے صائب مشورے کو قبول کر تے ہوئے مقتولہ کے قاتلوں سے صُلح کرنے اور قتل کی کوئی کاروائی نہ کرانے کی تحریر لکھ دیتا ہے اور ساتھ یہ بھی یقین دہانی کراتا ہے کہ اگر اُسے اور اُس کے خاندان کو کچھ نہ کہا

جائے تو وہ کبھی بھی کہیں پرچہ کرانے کی کوشش نہیں کرے گا ایس پی یہی تحریر فوری عدالت کو بھجواکر اندراجِ مقدمہ کی کاروائی ختم کرادیتے ہیں۔

چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ گجرات یو نیورسٹی کی ایک لیکچرار اپنے عزیز کے قتل کا انصاف لینے مذکورہ ایس پی کے پاس جاتی ہے تو لیکچرار سے اکیلے ملنے کی صورت میںہی تفتیش میرٹ پر کرنے اور انصاف دلانے کا وعدہ کرتے ہیں۔ خیرمظلوم خاندان کو راضی نامہ لکھنے کے باوجود مشکلات ومصائب سے چھٹکارہ نہیں ملتا آخر کار چند سرپھرے صحافیوں کوظلم کی بھنک پڑتی ہے وہ مظلوم خاندان کو دلاسہ دیکر اندراجِ مقدمہ کی درخواست دینے پر قائل کر لیتے ہیں اندراجِ مقدمہ کے لیے اخبارات اور سوشل میڈیا کا استعمال کیا جاتا ہے ڈی ایس پی حافظ سعید کو پتہ چلتا ہے تو وہ مظلوم خاندان کے گھر جا کر دادرسی کی یقین دہانی کے ساتھ اپنی موجودگی میں ایف آئی آر کا ندراج کراتے ہیں 22 مارچ کے واقعہ کی 15 اپریل کو ایف آئی آر درج ہوتی ہے حالانکہ مظلوم گھرانہ تھانہ کی عمارت سے دومنٹ سے بھی کم مسافت پر ہے لیکن ملزموں کی طاقت کا اندازہ کریں وقوعے کی ایف آئی آرجو ایس ایچ اور درج کرتا ہے اُسے تھانہ سے گھر جاتے ہی تبادلے کے احکامات سمیت معطلی کا پروانہ مل جاتا ہے ظاہرہے جتنی بڑی گُستاخی تھی اُس کے مطابق سزا بھی تو ملنی تھی پھر ایک ایس ایچ او لگایا جاتا ہے جو قدرے ایماندار بھی ہے اور خوفِ خدا رکھنے والا بھی ،وہ قاتل کو بے گناہ لکھنے کے نتائج نہیں دیتا اور تبادلہ قبول کر لیتا ہے یوں بات نہیں بنتی تو ایک ہفتے میں ہی دوسراتھانہ انچارج لگا کر ملزموں کو بے گناہ لکھنے اور بچی کے قتل کو خودکشی ثابت کرنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے پولیس کسی کی گرفتاری عمل میںلانے کی بجائے قاتلوں کو اِتنا وقت دیتی ہے کہ عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کر الیں جونہی ملزم 2مئی تک ضمانت کرالیتے ہیں تو پولیس کو بھی ہوش آجاتا ہے اور وہ ضمانت کے متعلق مقتولہ کے والدکو آگاہ کرنے پہنچ جاتی ہے ۔

کنجاہ کی بدقسمتی یہاں تک ہی نہیں اِس قصبے کے قُرب وجوار کے رہائشی بھی اکثر ظلم وجبر کا نشانہ بنتے رہتے ہیں ایشرہ کا ایک بھائی سائیکل پر اپنی بہن کو سکول سے گھر لارہا ہوتا ہے راستے میں اوباش ٹولہ خباثت کے لیے بھائی سے بہن کو چھینتا ہے اوربھائی کی موجودگی میں بہن کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر پھینک دیتا ہے حیران کُن امر یہ ہے کہ ریاستِ مدینہ کی دعویدار تحریکِ انصاف کے اقتدار میں ایسے واقعات ہو رہے ہیں لیکن ڈی پی او یا ڈی سی کی توجہ ایسے واقعات کی طرف مبذول کرائیں تو وہ روزمرہ کا معمول قرار دے کر بات ختم کر دیتے ہیں کوئی پھر بات دُہرائے تو دیگر مصروفیات کا بہانہ بنا کر ڈانٹ دیتے ہیں مگر کسی کو انصاف دلانے میں کردار ادا نہیں کرتے۔

بات اب ،قاتل کی دلیل منصف نے مان لی.مقتول خود گراتھا خنجر کی دھار پر،تک آگئی ہے پولیس نے ملزموں سے سازباز کرکے ایک اور معمولی مقدمے میں قاتلوں کی گرفتاری تو ڈال دی ہے ساتھ ہی قاتل و مقتول میں تصفیہ کرانے کے لیے کوشاں ہے لواحقین کو تیس سے پچاس لاکھ لینے اور معذرت قبول کرنے کا آپشن دیا گیا ہے جس مقتول کی درخواست پر ڈی پی اوکو بھی کاروائی کی توفیق نہیں ہوتی اور ڈی سی نے توسرے سے ملنا ہی گوارہ نہ کیا جو میونسپل کارپوریشن کے اخراجات کے بل پر دستخط کرنے میں مہینوں لگا دیتے ہیں اب سارے کاہل ،سُست اور بدعنوان با اختیارلوگ ایک مظلوم خاندان کوبیٹی کا قتل بھول کر راضی نامہ کرنے اور بدلے میں سکہ رائج الوقت قبول کرنے پر رضامند کرنے میں ایسے مصروف ہیں جیسے اُنھیں دنیا کااور کوئی کام ہی نہیں۔ بظاہر دن دیہاڑے ہونے والے اِس قتل کی رپورٹ وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلٰی نے بھی طلب کر لی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریکِ انصاف والے کچھ انصاف بھی کرتے ہیں یا غریب اور مظلوم خاندان کے خون پرحسبِ روایت سکہ رائج الوقت حاوی رہتا ہے۔


ای پیپر