سرخیاں ان کی…؟
21 اپریل 2020 (20:06) 2020-04-21

٭ تین انڈے اور کرونا…؟

… درحقیقت! دنیا جب درندوں سے ہی نہیں، انسانوں سے بھی ڈرنے لگے اور جوں جوں بنی نوع انسان کی کشتی ڈوبنے لگے مگر ضمیر جاگنے لگے؟ تو خیال آتا ہے؟ ظلم و وحشت، کشت و خون کی تمام حدیں پار کرتی نام نہاد انسانیت کی اس ڈوبتی کشتی کو کسی تنکے کا سہارا بھی ملے گا کہ نہیں؟ فی الحال اور حسب حال، آپ میری عزیز دوست سوزی کی کہانی ملاحظہ فرمائیں اور اپنے اپنے نتائج اخذ کریں!

سوزی بے حد حسین تھی، وفا شعار ہی نہیں، نرم گفتار بھی تھی، چھٹی کے دن اس نے پورے گھر کو صاف کرنے کی ٹھان لی، شادی کے پچھلے کئی سالوں میں نہ صرف گھر کے کونے کھدروں بلکہ بستر خاص ’’مسہری‘‘ کے نیچے بھی کافی کاٹھ کباڑ جمع ہو چکا تھا۔ جب سب نکال باہر کیا تو اسے ایک چوبی ڈبہ دکھائی دیا جس پر دھول مٹی نہ تھی۔ وہ اس ڈبے کو دیکھتے ہی ایسے ہی حیران ہوئی جیسے اس کے ملکوتی حسن کو دیکھ کر دیکھنے والے حیران ہوتے۔ پھر اس نے ڈبہ کھولا…؟ تو اس میں تین عدد انڈے اور دس ہزار ڈالر موجود تھے۔ شام کو شوہر کی دفتری امور سے واپسی پر اس نے اس ڈبے کا ذکر کیا اور کچھ مدلل گفتگوبھی کی۔ شوہر نے معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جب بھی اپنی بیوی سوزی سے بے وفائی کا مرتکب ہوتا تو ڈبے میں ایک انڈہ ڈال دیتا ہے۔ معصوم سوزی! نے دل میں سوچا کہ چلو کوئی بات نہیں! بیس برس میں شوہر کا صرف تین بار بہکنا قابل معافی ہے۔ا س نے اگلا سوال ڈالرز کے بارے میں کیا… ’’بکس چھوٹا ہے‘‘۔ شوہر نے ایمانداری سے بتایا: ’’انڈے زیادہ ہو جاتے ہیں تو میں انہیں بیچ کر رقم اسی ڈبے میں ڈال دیتا ہوں… بہرحال کچھ ایسا ہی سلوک نہ صرف دنیا کے شوہروں نے اپنی اپنی بیویوں بلکہ ان گنت خداؤں نے اپنی اپنی محکوم اور مقروض دنیا کے ساتھ روا رکھا ہے۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ جونہی دنیا کی حکمرانی حقیقی حکمرانی کی بجائے، مغرور ، متکبر، سزا و جزا کے منکر، ظالم اور بگڑے ذہنوں کے ہاتھوں میں آئی تو انہوں نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ یہاں تک کہ پچھلی صدی میں پھوٹنے والی وبائیں جو خفیہ اشارے تھے مثال کے طور پر 2013ء میں مغربی افریقہ میں ایبولا بخار دو سال تک رہا جس میں 50 فیصد مریض ہلاک ہو جاتے ہیں۔ پھر مارچ 2009ء میں امریکہ اور میکسیکو میں پہلی مرتبہ سوائن فلو آیا اور 18 ہزار افراد نگل گیا۔ جدید ترقی و تہذیب کی مہلک ترین وبا ایڈز ہے جو لاکھوں افراد کو موت بانٹ رہی ہے۔ پھر ہانگ کانگ فلو کے باعث ایک ملین افراد ہلاک ہوئے ۔پھر ایشین فلو اور پھر دنیا کی آبادی کا بڑا حصہ یعنی 50 ملین افراد اسپینش فلو نے نگل لیے مگر انسانیت ہاتھ ملتی رہ گئی۔ حالانکہ یہ انسانی تاریخ کی مہلک ترین وبا تھی۔ کاش اس پر انسانیت خاموش نہ رہتی اور حرکت میں آتی … یاانسانی ہلاکتوں کے سامان کے لیے مہلک ترین نیو کلیئر ہتھیاروں اور میزائلوں کی بجائے مہلک وباؤں کے خلاف جنگ لڑتی اور انسانی صحت کو فوقیت دیتی… تو آج یوں ایک معمولی کرونا وائرس جس کا ابھی ایک روپ سامنے آیا ہے کئی روپ باقی ہیں سے اس قدر نہ خوفزدہ ہوتی اور جس طرح میں نے 2002ء میں عالمی فورم پر اپنے طبی مقالے میں کینسر کے ماہرین سے کہا تھا کہ آج نہیں تو کل کینسر کے علاج کے لیے ’’کیموتھراپی‘‘ کا فرسودہ طریقہ بدلنا ہو گا اور جس قدر جلد ممکن ہو اس پر تحقیق کرتے ہوئے اسے بدلا جائے کیونکہ اس سے انسان کا Immane System

قوت مدافعت تباہ ہوتا ہے اور انسانی جسم نہ صرف کینسر بلکہ دیگر بیماریوں کے لیے بھی ’’تر نوالا‘‘ ثابت ہوتا ہے۔ ویسے بھی وقت کے ساتھ ساتھ اینٹی بائیوٹکس کی موجودگی میں بیکٹیریا (جراثیم) ایک دن اتنے مضبوط ہو جائیں گے کہ ’’کیمو تھراپی‘‘ بھی ناکام ہو جائے گی اور بالآخر یہ طریقہ ترک کرنا پڑے گا؟ جبکہ لیو کیمیا کے علاج میں "Anti biotics"بے حد ضروری ہیں خدا کا شکر کہ میری رائے آج تسلیم کی جا رہی ہے۔ اسی طرح قاتل کرونا ہے۔ جس نے ہنٹر پکڑ کر نہ صرف خدا پے توکل کو بڑھا دیا ہے بلکہ دنیا کے ان گنت خداؤں کو بھی آگاہ کر دیا ہے کہ خدا ایک ہے اور وحدہ لاشریک ہے۔ ورنہ جھوٹے خدا اپنی ساری دولت، اپنی ساری جدید ٹیکنالوجی، اپنے سارے سپر سانک میزائل اور اپنے سارے ایٹم بم لے کر بھی ایک کرونا وائرس کا مقابلہ نہیں کر پا رہے ہیں اور نہ صرف ظالم اور طاقتور بلکہ میرے جیسے بھی جنہوں نے کبھی ایک روپیہ زکوٰۃ نہ دی تھی اب ہاتھوں میں وزنی آٹے کے تھیلے لیے غریبوں کو ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ اسے بھی چھوڑیں! ماشاء اللہ IMF اور عالمی بینک بھی غریب ممالک کو مدد فراہم کرنے میں مصروف عمل ہیں حالانکہ یہ انہی غریب ممالک کا خون چوس چوس کر ’’موٹی موٹی جونکیں‘ بنے ہیں۔ بہرحال، اب بھی وقت ہے کہ کرونا وائرس جس کے متعلق میرا خیال ہے کہ یہ جانوروں سے ہی انسانوں میں منتقل ہوا ہے لہٰذا انسان انسانوں سے جانوروں جیسا سلوک ہرگز نہ کریں۔ قرون وسطیٰ کی تاریخ کو نہ دہرائیں اور نئے نئے اسلحے اور میزائل بنانے والی خفیہ فیکٹریوں اور لیبارٹریوں کی جگہ صحت عامہ کے ادارے بنائے جائیں اور اقوام متحدہ کا وقار بحال کیا جائے۔ بلاشبہ انسانی بقاء کے لیے تبدیلی ناگزیر ہے اور (Crona covid-19) نے بھی بنی نوع انسان کی حیثیت اور نظام صحت کو ننگا کر دیا ہے بلکہ سیاسی، سماجی اور معاشی ڈھانچے کو بھی تباہ و برباد کر دیا ہے۔ ہر طرف افراتفری مچا دی ہے۔ اس سے دنیا میں بیروزگاری کا طوفان بھی اٹھنے کو ہے مگر یاد رکھیں۔ اس وقت ضرورت خوف پھیلانے کی نہیں ہے۔ پوری دنیا کے میڈیا سے بھی میری بصد احترام اپیل ہے کہ وہ مثبت رہے۔ دنیا کو خوفزدہ نہ کرے کیونکہ اب دو ہی راستے بچے ہیں؟ ایک راستہ مضبوط قوت مدافعت اور مضبوط دفاعی نظام، اگرچہ طبی ماہرین کے مطابق بعض سبزیوں اور پھلوں سے مضبوط ہوتا ہے مگر میرے مطابق "All in the brain" کے مصداق سب کچھ دماغ ہے۔ اگر آپ اپنے دفاع کو خوف زدہ کر دیں گے تو اس سے آپ کا نظام ہضم خراب ہو جائے گا۔ پھر لاکھ سبزیاں اور پھل کھا لیں۔ کمزور نظام ہضم کی بدولت دفاعی نظام بھی کمزور ہگا۔ لہٰذا فی الحال اس کا واحد طبی علاج "Beting Stress" اور جسمانی و جنسی احتیاط ہے جبکہ دوسرا راستہ نہ صرف اپنے قومی ہیروز، یعنی ڈاکٹرز، نرسیں، دوا ساز فیکٹریاں ، کسان، پانی، بجلی، غذا اور میڈیا سے متعلقہ افراد کو نہ صرف زیادہ سے مراعات دینا ہیں بلکہ اس غیر رسمی جنگ میں اپنی مضبوط قوت ارادی کے ساتھ اقوام عالم کو سر جوڑ کر ایسی قومی اور بین الاقوامی پالیسیاں ترتیب دینا ہوں گی جو صرف اور صرف انسانیت کی فلاح و بہبود پہ مبنی ہوں اور جس میں خوشحالی اور امن عالم کا راز پوشیدہ ہو۔ انسان سے انسان کی نفرت کا خاتمہ ہو ۔ جو محبت ہی محبت ہو کیونکہ اب وقت محشر ہے۔ کون جیئے گا تیری زلف کے سر ہونے تک کے مصداق اب قدامت پسندوں اور ترقی پسندوں کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ اپنے اپنے دائروں میں گھومنے کی بجائے انہیں توڑ دیں اور باہر نکلیں کہ اب انسان کو انسان کی مدد کی ضرورت ہے۔ اس لیے اب صرف اور صرف انسان دوست جس کے متعلق میں پچھلے تین عشروں سے چیخ رہا ہوں کہ دنیا کو صرف اور صرف انسان دوست لائحہ عمل کی ضرورت ہے اور انسان سے انسان کی محبت ہی اللہ سے محبت ہے۔ آج دنیا کو نہ صرف ایک دوسرے انسان کے ساتھ بلکہ ایسے ممالک کے ساتھ بالخصوص اٹلی، ایران، امریکہ اور یورپ کے ساتھ بھی کھڑا ہونے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس قاتل وباء نے بڑے پیمانے پر وہاں تباہی مچا دی ہے۔ اس لیے پوری دنیا کو کرونا سے متاثر ہونے والے ممالک کی مکمل بلا تفریق امداد کرنا ہو گی۔ اس وقت یہی واحد انسان کی نسلی بقا کا راستہ ہے جس سے نہ صرف بین الملکی بلکہ کثیر الجہتی نئے سرے سے قائم ہو سکتی ہے۔ لہٰذا اس زحمت میں رحمت کو تلاش کرتے ہوئے نہ صرف اپنے اپنے عقیدوں کے مطابق اپنے حقیقی رب سے توبہ کی جائے بلکہ یہ امید لگائی جائے کہ شاید یہ معمولی وائرس ایک ایسے عالمی ادارے اور نظام کا پیش خیمہ ہو۔ جس سے انسانی ہمدردی، عزت، فراخدلی، پھر سے بحال ہو اور باہمی رواداری، تعاون اور باہمی احترام کی نئی راہیں کھلیں گی۔ ایسی راہیں جہاں انسانیت، محبت، عزت اور خوشحالی کے نئے نغمے گنگنائے گی ۔ ہر طرف ایسی تعمیر و ترقی اور خوشیاں ہوں گی جو مساوی معیشت اور معاشی خوشحالی کو دوبالا کرے گی کہ خالق بھی خوشی سے کہے گا جو اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے:

خدا کو رحم آنا ہے، خدا کو رحم آئے گا

فقط تم حوصلہ رکھنا، خدا سے رابطہ رکھنا!


ای پیپر