کیا ہماری سیاست جنات کے سردار کی کہانی ہے؟
21 اپریل 2020 (20:04) 2020-04-21

جب ہم سب چھوٹے تھے تو کمپیوٹر اور موبائل فون نہیں تھے۔ فیس بک، چیٹنگ یا رات کو ڈیٹنگ والی لمبی لمبی موبائل فون کالز کا زمانہ نہیں تھا۔ ہم سب سکول کے بعد گلیوں محلوں کی دھول مٹی میں کھیل کود کر دوپہر گزارتے۔ شام کو بڑوں کی ڈانٹ اور استادوں کے ڈنڈے کے خوف سے تختیوں اور کاپیوں پر سکول کا کام کرتے جسے بعد میں ہوم ورک کہا جانے لگا۔ رات ہوتی تو بچے بڑی بوڑھیوں، نانیوں دادیوں سے کہانیاں سنتے سنتے اِدھر اُدھر پڑے پڑے ہی سو جاتے۔ وہ کہانیاں جدید سائنس فکشن کی نہیں بلکہ جنوں، بھوتوں اور پریوں کی ہوتیں۔ اُن سب کہانیوں کا پلاٹ اور مرکزی خیال ملتا جلتا ہوتا۔ ایسی کہانیوں میں بتایا جاتا کہ انسانی آبادیوں سے کوسوں میل دور بلندوبالا ویران اور چٹیل پہاڑوں کے درمیان ایک بہت ہی مضبوط طلسماتی قلعہ ہے جس پر جنوں اور بھوتوں کے سردار کا قبضہ ہے۔ اُس قلعے تک پہنچنے کا راستہ کسی بھی انسان کے لیے ناممکن ہے کیونکہ راستے میں آگ کے دریا، اژدھوں کے جنگل اور چڑیلوں کے گھیرے ہیں جنہیں پار کرنا آدم زاد کے بس میں نہیں ہے۔ جنوں بھوتوں کا وہ سردار انسانوں کی ایک خوبصورت شہزادی کو اٹھا کر لے جاتا ہے اور اپنے قلعے میں بند کردیتا ہے۔ شہزادی کو قید سے نجات دلانے کے لیے بے شمار مشن روانہ ہوتے ہیں مگر وہ جناتی قلعے کے راستے میں آنے والی خوفناک بربادیوں کا سامنا نہیں کرپاتے اور خود بھی برباد ہوجاتے ہیں۔ پھر ایک بہادر شہزادہ شہزادی کی نجات اور جنوں کے سردار کو نیست و نابود کرنے کا عزم لے کر روانہ ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ آگ کے دریا، اژدھوں کے جنگل اور چڑیلوں کے گھیروں سے گزر کر وہ بہادر آدم زاد کسی نہ کسی طرح جنوں کے سردار کے طلسماتی قلعے میں داخل ہوجاتا ہے۔ اب یہاں کہانی میں منظرکشی کی جاتی ہے۔ وہ ایسے کہ وہ بہادر آدم زاد قلعے میں داخل ہوتا ہے تو اردگرد کی جادوئی دنیا میں طوفان برپا ہو جاتا ہے، تیز ہوائیں چلنے لگتی ہیں، بجلیاں چمکنے لگتی ہیں، زلزلے آنے لگتے ہیں، آگ کے اونچے اونچے شعلے اٹھنے لگتے ہیں۔ اژدھے زور زور سے پھنکارتے ہیں۔ چڑیلیں اتنا زور زور سے چیختی ہیں کہ اُن کی مردہ چڑیلیں قبروں سے باہر نکل آتی ہیں۔

گویا اِن سب علامات کو موجودہ دور میں سیکورٹی الارم کہا جاسکتا ہے۔ جنوں کا سردار جو بیرونِ ملک دورے پر گیا ہوتا ہے اُسے جب اپنے ذرائع سے سیکورٹی خدشات کا پتہ چلتا ہے تو وہ تیزی سے اڑتا ہوا اپنے قلعے کی طرف روانہ ہوتا ہے۔ جوں جوں وہ اپنی مضبوط پناہ گاہ کی طرف بڑھتا ہے توں توں اُس کے جاہ و جلال اور غصے کی وجہ سے اُس کے ساتھ سرخ اور کالی آندھی کا طوفان بھی چلتا ہے۔ اُس کے منہ سے نکلنے والے شعلے سورج کو سَوا نیزے پر لانے کے مترادف ہوتے ہیں۔ گویا پورا ماحول کسی ہیبت ناک جہنم زدہ جگہ کی طرح ہوتا ہے جس کے بیچوں بیچ اُس طلسماتی قلعے میں شہزادی اور بہادر آدم زاد ہوتے ہیں۔ اِس کہانی کو یہیں چھوڑتے ہیں اور اس کا تقابلی جائزہ موجودہ سیاسی حالات سے کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ایوانِ وزیراعظم اسلام آباد میں پہاڑ پر بنے اُس قلعے کی مانند ہے جس میں اقتدار کی شہزادی قید ہے۔ اُسے حاصل کرنے کے لیے مختلف سیاست دان اور سیاست دان نما بہروپئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ بہت سے راستے میں جل کر ہی بھسم ہوجاتے ہیں۔ کچھ بہت قریب پہنچ کر خونی منظر سے ڈر جاتے ہیں اور شعور کی آواز دبا کر جمہوریت چھوڑ کر خوف کی ہاں میں ہاں ملا لیتے ہیں۔ کبھی کبھی کوئی بہادر آدم زاد قلعے تک پہنچ جاتا ہے۔ کچھ عرصہ ٹھہر کر پتا چلتا ہے کہ اُس کا وہاں پہنچنا ایک ڈیل تھی۔ اب وہ اپنے کیے ہوئے وعدے بھول جاتا ہے یا انہیں بھلانے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔ پھر وہی ہوتا ہے جو جنات کے سیکورٹی الارم بجنے کی منظر کشی میں بتایا گیا ہے۔ ایسے حالات کا سامنا پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی کیا۔ بہت خونی آندھی طوفان آئے اور آگ برسی۔ اُن کا ایک وزیراعظم راستے کی گرمی میں جل کر بھسم ہوگیا۔ دوسرے کا راستہ مختصر تھا مگر منزل پر پہنچنے کے بعد بھی اُسے راستے کی سزا کے لیے تیار رہنے کے لیے کہہ دیا گیا۔ ن لیگ والے چودہ برسوں تک ڈنڈ بیٹھکیں نکال کر اپنے ڈولے مضبوط کرچکے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ وہ خوفناک برباد راستوں کو اپنے پائوں تلے کچلتے ہوئے اقتدار کی شہزادی تک پہنچ جائیں گے۔ یہاں تک تو ٹھیک ہوا اور ویسا ہی ہوا جیسا انہوں نے چاہا مگر ن لیگ والے ابھی اقتدار کی شہزادی کے جلوئوں سے پوری طرح لطف اندوز بھی نہیں ہوئے تھے کہ جنوں کے سردار کو اُن کی حرکتوں کی بھنک پڑگئی اور اُس کہانی کا وہی روایتی منظر ابھرنے لگا۔ ن لیگ کے خلاف تیز ہوائیں چلنے لگیں، بجلیاں زور زور سے کڑکنے لگیں، زلزلوں کے جھٹکے محسوس ہونے لگے، ہر طرف آگ کے دریا آگ اگلنے لگے، اژدھوں کے جنگل اونچا اونچا پھنکارنے لگے، چڑیلوں کے گھیروں سے اتنی ڈرائونی آوازیں بلند ہونے لگیں کہ اُن کی قبروں سے نکل آنے والی مردہ چڑیلوں کو بھی دوبارہ ہارٹ اٹیک ہونے لگے۔ پھر ن لیگ کا سب کچھ جل کر بھسم ہوگیا۔ اس کے بعد نیا کھلنڈرا اقتدار کی شہزادی کو حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھا اور بڑھتا ہی چلا گیا۔ سابقین کے برعکس اسے راستے میں آنے والے آگ کے دریا ٹھنڈے ملے، اژدھوں کا جنگل پرسکون سایہ فراہم کرنے لگا، خونی چڑیلوں کی خونی چیخیں مدھر موسیقی میں بدلتی گئیں۔ اُس کے لیے یہ سہولتیں اس لیے فراہم کی گئیں کہ وہ لاڈلا تھا۔ وہ آگے بڑھتا چلا گیا اور اُس نے اقتدار کی شہزادی کی خلوت کو بے خلوت کردیا۔ گزشتہ ڈیڑھ برس سے نیا کھلنڈرا اقتدار کے سہاگ کی سیج پر جلوہ افروز ہے۔ اقتدار کے طلسماتی قلعے کے اندر تو خوشبوئوں اور رنگوں کا ڈیرہ ہے لیکن اردگرد تیز آندھیاں چلنے، چڑیلوں کی چیخیں، اژدھوں کی پھنکاریں اور آگ اگلتے دریائوں کا شور واضح سنائی دے رہا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ کیا ہمارے ملک میں سیاست بچوں کو سنائی جانے والی کہانیاں ہیں؟ کیا عوام ناسمجھ یعنی بے وقوف بچے ہیں؟ کیا اقتدار کی شہزادی دورافتادہ پہاڑ پر قلعے میں بند رہنے کی بجائے عوام میں آباد نہیں ہوسکتی؟ کیا اُس تک پہنچنے کے لیے جنگ جو آدم زاد کی بجائے شہریوں کے ووٹ کی اہمیت نہیں ہونی چاہئے؟ کیا اقتدار کی شہزادی جنات کے سردار کے قبضے میں ہی رہنی چاہئے جس تک پہنچنے کے لیے ظاہری یا خفیہ ڈیل ضروری ہو اور خفیہ وعدے کی پاسداری اُس سے بھی زیادہ ضروری ہو؟ غلطی کہاں ہے؟ کیا یہ سب اقتدار کی ہوس میں جل رہے ہیں؟ یا کیا یہ دوسروں کو اقتدار میں دیکھ کر حسد کی آگ میں جل رہے ہیں؟ ہماری سیاست میں جنات کا سردار کیوں رہتا ہے جس کے قبضے میں اقتدار کی شہزادی ہے؟


ای پیپر