پھر اس دھرتی پر گنگا رام پیدا نہ ہو ا
21 اپریل 2020 (20:03) 2020-04-21

قرنطینہ کے یہ دن بھی گزر جائیں گے اور اچھی ُبری یادیں چھوڑ جائیں گے۔کورونا وائرس ایک عذاب الہی کی صورت میں نمودار ہوا لیکن تلاش کرنے والوں نے اس میں بھی ایک مثبت پہلو تلاش کرلیا اور وہ یہ کہ کورونا وائرس نے دنیا کی بڑی طاقتور اور ترقی یافتہ قوموں کے ساتھ بھی وہی سلوک روا رکھا جو غریب اور کمزور قوموں کے ساتھ۔ نہ جانے انصاف کیوں ہر ایک کو اچھا لگتا ہے۔ بے انصافی کسی کے ساتھ بھی ہو دل میں ایک تلخ سی خلش چھوڑ جاتی ہے۔ قرنطینہ کے ان دنوں میں ہر ذی شعور گھر میں ہی مقید ہوا بیٹھا ہے۔ ان دنوں کے دوران میں دو ہی کام ہو سکتے ہیں۔ کچھ پڑھا جائے یا موسیقی سنی جائے۔ پاکستانی موسیقی تو قصئہ پارینہ ہو چکی لیکن ہندوستان میں موسیقی زندہ ہے اور نئی اختراعات کے ساتھ۔ان ایام میں ہر روز صبح موسیقی سنی جاتی ہے جس سے روح کو یک گونہ ترواٹ اور بالیدگی سی ملتی ہے اور پھر کتب کی ورق گردانی۔ آج ایک بہت پرانے رسالے پر نظر پڑی ۔ ورق الٹ پلٹ کرتے کرتے نظریں سر گنگا رام پر لکھی ایک تحریر پر رک گئیں۔ گنگا رام شیخوپورہ کے ایک گاوں مانگٹانوالہ ( جو اب نئے بنے ضلع ننکانہ صاحب میں شامل ہے)میں لالہ دولت رام کورٹ انسپکٹر امرتسر کے گھر 13اپریل1851 میں پیدا ہوئے ۔گنگارام کی نسبت سے شیخوپورہ بھی اچھا لگنے لگا حالانکہ جب میں شیخوپورہ کے پڑوسی ضلع حافظ آباد میں ڈی سی او(DCO ) تھا تو افسران شیخوپورہ ضلع کو بعض عوامل کی وجہ سے اچھاضلع نہیں گردانتے تھے حالانکہ وہ صوبائی دارالحکومت لاہور کے بہت نزدیک تھا۔ تین دن پہلے سر گنگا رام کا جنم دن تھا لیکن مجھے یقین ہے کہ اس ملک میں کسی نے بھی اس دن کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔ کیا گنگا رام ہسپتال لاہور میں ان کا جنم دن منایا گیا ، جہاں ہزاروں انسانوں کا علاج آج بھی ہو رہا ہے ۔ آپ کو یہ تو معلوم ہو گا کہ یہ ہسپتال گنگا رام نے اپنی جیب سے بنوایا تھا۔اس ملک میں تو لوگ عوام سے چندہ لے لے کر عوام کے علاج کے لیے ہسپتال بنواتے ہیں اور پھر ساری عمر اسی پر اتراتے رہتے ہیں ۔ کیا لاہور میں جین مندر چوک کے نزدیک ایستادہ ہیلی کالج کی بلڈنگ جس میں آج بھی اس ملک کے طالب علموں کو اعلیٰ تعلیم جاتی ہے میں گنگا رام کا جنم دن منایا گیا۔جواب بگ نو ( Big no ) ہے۔ ایسا یہاں کبھی بھی نہیں ہوتا۔آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ یہاں سر گنگا رام کا گھر تھا جسے نابھہ ہاوس کہتے تھے اورجہاں وہ خود رہتے تھے۔ وہ یہ بلڈنگ ہیلی کالج کو مفت

دے کر ماڈل ٹاون شفٹ ہو گئے تھے۔ کیا لیڈی میکلیگن سکول جو آج بھی نابھ روڈ لاہور میں موجود ہے اور اس شہر کی بیٹیوں کو تعلیم دے رہا ہے میں گنگا رام کی یاد میں کوئی فنکشن کیا جاتا ہے۔ ظاہر اس کا جواب بھی No ( ناں) میں ہے۔آپ کو معلوم ہو گا کہ گنگا رام کو فادر آف نیو لاہور ( of new Lahore Father) گردانا جاتا ہے۔یہ تو ان بلڈنگز کا ذکر تھا جنہیں گنگا رام نے اپنی جیب سے بنوایا تھا۔ اب ہم لاہور کی ان نامور بلڈنگز کا ذکر کرتے ہیں جنہیں گنگا رام نے ڈیزائن کیا تھا اور بنوایا تھا ۔ سب سے پہلے لاہور کے عجائب گھر کی بلڈنگ جو مال روڈ پر واقع ہے،اس کے ساتھ ہی واقع میو سکول آف آرٹس جسے اب نیشنل کالج آف آرٹس (NCA ) کہتے ہیں۔اسی مال روڈ پر واقع جی پی او ( GPO ) کی بلڈنگ،ایچیسن کالج بلڈنگ (Aitchison college)، البرٹ وکٹر ونگ(Albert Victor) آف میو ہسپتال لاہور،جس کالج سے انھوں نے گریجوایشن کی یعنی مشہور زمانہ گورنمنٹ کالج لاہور کے کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کی بلڈنگ، راوی روڈ لاہور پر ہائوس فار ڈس ایبلڈ ( House for disabled)،مال روڈ ہی پر گنگا رام ٹرسٹ کی خوبصورت بلڈنگ، لیڈی مینارڈ (LadyMaynard) ا نڈسٹریل سکول کی بلڈنگ۔ کیا لاہور شہر کی اتنی خوبصورت بلڈنگز کے تخلیق کار کو یوں بھلا دینا قرین انصاف ہے۔کیا آپ اپنے ملک میں کسی ایک ایسے شخص کا نام بتا سکتے ہیں جس نے اتنی دولت اپنی جیب سے عوام کی بھلائی کے منصوبوں پر خرچ کی ہو ۔ گنگا رام انتہائی قابل اور غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گرایجوایشن کرنے کے بعد تھامسن کالج آف سول انجنیرنگ جو آجکل’’ انڈین انسٹیوٹ آف ٹیکنالوجی روڑکی‘‘ کہلاتا ہے میں داخلہ لیا اور وہاں سے 1873 ء میں سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔وہ سب سے پہلے محکمہ پبلک ورکس پنجاب میں بطور اسٹنٹ انجینئر لاہور تعینات ہوئے۔آپ کی ملازمت کا زیادہ عرصہ لاہور ہی میں گزرا۔آپ کو صاف عیاں ہو گا کہ انھوں نے لاہور کی بہت خدمت کی جس کے نشان مٹائے نہیں مٹ سکتے۔ کسی زمانے میں مال روڈ پر ان کا ایک مجمسہ موجود تھا جس کے ساتھ ایک مشتعل ہجوم نے توڑ پھوڑ کی۔ اس واقعہ پر مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو نے اپنا افسانہ ’’جوتا‘‘ لکھا تھا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ جب مشتعل ہجوم گنگا رام کے مجمسہ کی توڑ پھوڑ کر رہا تھا تو ایک نوجوان گنگا رام کے مجسمہ کے گلے میں جوتوں کا ہار پہنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اتنے میں پولیس پہنچ گئی اور اس نے لاٹھی چارج شروع کر دیا جس میں وہ لڑکا زخمی ہو گیا ، تو ہجوم میں سے آواز گونجی کے اسے جلدی جلدی گنگا رام ہسپتال پہنچا دیں۔ گنگا رام انجنیرنگ کے اعلیٰ عہدے تک پہنچے اور انھوں نے بہت دولت کمائی۔انھوں نے اپنی دولت کا بہت بڑا حصہ عوام کی بھلائی کے کاموں پر خرچ کیا ۔ آج بھی گنگا رام ٹرسٹ موجود ہے۔ گنگا رام کے متعلق مشہور ہے کے عملی زندگی کے آغاز ہی میں یہ عہد کیا تھا کہ وہ اپنی دولت کا آدھا حصہ عوام کی رفاہ پر خرچ کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ایک دفعہ جب میرے پاس پورا لاکھ روپیہ آگیا تو میں نے سوچا کہ یہ تو پورا پچاس ہزار رفاہی کاموں کے لیے دینا ہوگا ۔ کچھ توقف کے بعد وہ ہنسے اور کہا کہ یہ عہد تو ہر صورت پورا ہو گا۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ انسان بھول جاتے ہیں۔ اٹلی کے مشہور دانشور میکیا ولی (Machiavelli ) نے کہا تھا کہ انسان اپنے پر کیے گئے احسان کو بھول جاتے ہیں۔ اپنے حکمرانوں نے کبھی انہیں یاد ہی نہیں کیا البتہ انگریزوں نے انہیں بڑے عہدے دئیے اور CIE,MVOکے خطابات سے نوازا۔ریٹائرمنٹ( جو انھوں نے قبل از وقت اپنی مرضی سے لی تھی)کے بعد انھوں نے کاشتکاری کو اپنایا جس کے لیے انگریز حکمرانوں نے لیز پر انہیں ہزاروں ایکڑ دیئے تھے۔ انہوں نے کاشتکاری میں بھی کارہائے نمایاں سرانجام دئیے ۔ انھوں نے ہزاروں ایکڑ بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنایا ۔ ان کا قائم کردہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ آج بھی رینالہ خورد میں موجود ہے۔میں نے اس کالم کو سرخی دی ہے کہ ’’ پھر اس دھرتی پر گنگا رام پیدا نہیں ہوا ‘‘۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں کے حکمران اور امراء اس ملک سے لوٹتے ہیں اور دولت اس ملک سے باہر لے جاتے ہیں جہاں انھوں نے اپنے خاندانوں کے لیے محل بنائے ہوئے ہیں ۔ میں تو یہ جان کر حیران ہوا کہ کہ مولانا فضل الرحمان نے بھی لندن میں گھر بنایا ہوا ہے ۔ ہمارا سب حکمران طبقہ محل نما گھروں میں رہتا ہے۔ ان کا اور ان کے خاندانوں کا لائف سٹائل شہزادوں جیسا ہے لیکن رفاہی کاموں کے لیے آج بھی یہ پیسے غریب عوام سے مانگتے ہیں۔ میں تو حیران ہوتا ہوں کہ انہیں نظر نہیں آتا کہ عوام کن حالات میں زندگی گزار رہی ہے۔ آج کا دور رزاق داوٗدوں، ندیم بابروں ، جہانگیر ترینوں ، زلفی بخاریوں اور خسرو بختیاروں کا ہے۔ہمارا ایکڑوں پہ محیط بنی گالا قائم رہے۔


ای پیپر