کرونا میں بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب
21 اپریل 2020 (16:51) 2020-04-21

ممبئی : بھارت میں لاک ڈائون کے دوران کورونا سے بچنے کے لیے خود کو غار میں بند کرنے والے سیاحوں کو بازیاب کرلیا گیا۔برطانوی نشریاتی ادارے کیمطابق بھارتی حکام نے 6ایسے سیاحوں کو بازیاب کیا ہے جنہوں نے ملک میں کورونا کے باعث لاک ڈان کے بعد پیسے ختم ہونے پر خود کو غار میں بند کرلیا تھا،سیاحوں کا کہنا تھا ہمیں شروع میں بھارتی حکام کی طرف سے کسی قسم کی کوئی سپورٹ نہیں ملی ، جس کی وجہ سے ہمیں خود کو غار میں بند کرنا پڑا ،بھارتی پولیس کا رویہ شروع دن سے ہی ہمارے ساتھ جانوروں جیسا تھا ۔

بھارتی حکام نے بتایا کہ تمام 6افراد کے کورونا کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں جس کے بعد انہیں ایک نجی قرنطینہ سینٹر میں منتقل کردیا گیا ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق یہ سیاح یوکرین، امریکا، ترکی، فرانس اور نیپال کے شہری ہیں جن میں دو خواتین بھی ہیں، یہ لوگ گزشتہ سال علیحدہ علیحدہ بھارت آئے تھے جہاں وہ سیاحتی مقام رشی کیش میں چھوٹے ہوٹلوں اور لاجز میں رہائش پذیر تھے، پیسوں کی کمی کی وجہ سے مشکل میں آنے کے بعد انہوں نے خود کو غار میں بند کرلیا تھا۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان سیاحوں نے غار میں 25 روز گزارے ،میڈیا پر ان غیر ملکی سیاحوں کی تصاویر آنے کے بعد بھارتی حکام نے روایتی منافقت کا سہارا لیتے ہوئے اپنے آپ کی بدنامی سے بچنے کیلئے ڈرامہ بازی شروع کر دی اور دنیا کو دکھانے کیلئے انہیں تمام سہولتیں مہیا کرنی شروع کر دیں ۔

غار میں موجودگی کی اطلاع مقامی افراد نے پولیس کو دی۔پولیس کا کہنا ہے کہ نیپال سے تعلق رکھنے والا ایک سیاح ہندی زبان جانتا ہے جس نے دیگر لوگوں کی بھی کچھ پیسوں سے غار میں ہی مدد کی۔پولیس کے مطابق سیاحوں کا بتانا ہے کہ انہوں نے خود کو اس لیے غار میں بند کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان کے پاس پیسے ختم ہوگئے تھےاور وہ بھارتی حکام اور پولیس کے رویے کی وجہ سے اپنے آپ کو غاروں میں بند کر لیا ۔

دنیا کو دکھانے کیلئے پولیس نے بتایا کہ تمام افراد کے ٹیسٹ کرکے انہیں قرنطینہ منتقل کردیا گیا ہے جن کے کھانے پینے سمیت دیگر اخراجات حکومت اٹھارہی ہے۔واضح رہے کہ بھارت میں اس وقت کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 18ہزار سے زائد ہے جبکہ 119افراد وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔


ای پیپر